افسانے

چوہدری نے کہا اے بڈھے تم رات کو اپنی بیٹی کو میرے گھر لے آنا کیونکہ میں اس کے ساتھ۔۔۔

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا اس گاؤں میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ اس گاؤں میں بہت زرخیز زمینیں تھیں جن میں کسان اپنی فصل اگا کر اپنا روزگار حاصل کرتے تھے اور اسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا وہ چوہدری بہت امیر انسان تھا۔ اس گاؤں کی زمینوں میں سے آدھی زمین اس چوہدری کی تھی اور باقی اس گاؤں کے تمام کسانوں کی تھی۔

چوہدری کے پاس تمام سہولیات میسر ہونے کی وجہ سے اس کی فصل سارے کسانوں سے اچھی ہوتی تھی اور وہ چوہدری جب اپنی فصل باہر بھیجنے لگتا تو اپنے ساتھ ان کسانوں کی فصل بھی اچھے داموں بچوا دیتا۔ اسی بات پر کسان اس کے گیت گاتے تھے۔ لیکن جن کسانوں کی زمین کم ہوتی تھیں اور ان کا گزارہ اپنی فصلوں میں نہ ہوتا وہ ان کسانوں کو سود پر قرض دیتا تھا۔ کسان سود پر قرض لیتے لیکن ان کے حالات چوہدری کی مدد کرنے کے باوجود بھی ٹھیک نہ ہوتے اور وہ کسان بھی چوہدری کے تابع ہوجاتے اور جب ان کی فصل پک کر تیار ہوجاتی تو چوہدری ساری فصل اٹھا کر بیچ دیتا۔ اس چوہدری میں سود کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی بہت سی گندی عادات موجود تھیں لیکن وہ چونکہ آمیر تھا اس لئے کوئی بھی اس کی گندی عادات کا اس کے سامنے ذکر تک نہ کرسکتا تھا۔ چوہدری بہت عیاش تھا اس کی عمر کافی ہوچکی تھی لیکن اس نے عیاشی ابھی تک نہیں چھوڑی تھی۔

اس نے گاؤں کی زمینوں میں ایک بہت بڑا ڈیرہ بنایا ہوا تھا اور جب اس ڈیرے پر چڑھ کر وہ دیکھتا تو اسے پورا گاؤں نظر آتا اور اکثر اوقات چوہدری اس ڈیرے پر چڑھ جاتا اور گاؤں کی تمام خوبصورت اور جوان لڑکیوں کو دیکھتا لیکن کوئی بھی غریب کسان اس کی اس حرکت پر اعتراض نہ کرسکتا تھا کیونکہ ان کو خطرہ ہوتا تھا کہ اگر ہم نے چوہدری کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو ہماری فصل گھر میں پڑے پڑے خراب ہوجائے گی۔ وقت گزرتا رہا اور چوہدری اپنی گندی عادات کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا رہا۔ ایک دن چوہدری نے جیسے ہی نظر دوڑائی تو اسی گاؤں میں بہت ہی خوبصورت جوان لڑکیاں نظر آئیں چوہدری کے پاس دولت بہت تھی اس لئے وہ جس لڑکی کو خریدنا چاہتا خرید سکتا تھا ان لڑکیوں کو دیکھ کر چوہدری نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں گاؤں کی کس لڑکی کے ساتھ زنا کروں؟ تو اس کے دوستوں نے کہا چوہدری صاحب آپ ہماری ایک ترکیب پر عمل کریں اس سے آپ گاؤں کی ہر لڑکی کے ساتھ زنا کرسکیں گے۔ چوہدری نے کہا بتاو کونسی ترکیب ہے؟ تو انہوں نے کہا چوہدری صاحب آپ اپنے ڈیرے کے اوپر چڑھ کر اپنا جوتا پھینکنا پھر جوتا جس گھر میں جا گرے- اس گھر میں موجود لڑکی کے ساتھ آپ زنا کرنا۔ اس بدکار چوہدری کو اس کے دوستوں کی ترکیب پسند آئی اور چوہدری نے ڈیرے کی چھت کے اوپر چڑھ کر اپنا جوتا پھینکا تو جوتا ایک بزرگ کے گھر جاگرا۔ اس بزرگ کی ایک ہی جوان بیٹی تھی جس نے غریبی کی وجہ سے ابھی تک اس کی شادی نہیں کی تھی۔

جب جوتا اس بزرگ کے گھر جاگرا تو بزرگ وہ جوتا اٹھا کر چوہدری صاحب کے پاس لے آیا اور کہا حضور آپ کا جوتا ہمارے گھر پڑا تھا۔ چوہدری کا وہ جوتا کوئی عام جوتا نہیں تھا گاؤں میں ایسا جوتا نہیں پہن سکتا تھا جب چوہدری نے اپنا جوتا دیکھا تو ایک زوردار قہقہہ لگا کر کہا اے بڈھے تم رات کو اپنی بیٹی کو میرے گھر لے آنا کیونکہ میں نے اپنا جوتا پھینکتے ہوئے کہا تھا کہ جوتا جس گھر میں گرے گا میں اس گھر میں موجود لڑکی سے زنا کروں گا۔ بزرگ نے جب یہ بات سنی تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی وہ بہت پریشان ہوا اور رونے لگ گیا لیکن اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر میں اپنی بیٹی کو چوہدری کے پاس لے کر نہ آیا تو چوہدری میری بیٹی کو زبردستی اٹھا کر لائے گا اور پورے گاؤں کے سامنے اس کے ساتھ بدکاری کرے گا جب رات ہوئی تو بزرگ اپنی بیٹی کو لے کر چوہدری کے پاس آیا اور جیسے ہی چوہدری صاحب نے اس کی بیٹی کو اپنے کمرے میں بند کیا تو بزرگ کو اسی وقت دل کا دورہ پڑا اور وہ وہیں مرگیا اور اس کی بیٹی بھی چوہدری کے ساتھ رات گزارنے کے بعد اپنے گھر میں خودکشی کرکے مرگئی۔

جب گاؤں والوں کو معلوم ہوا تو وہ سب خاموش ہوگئے کیونکہ وہ سب مجبور اور لاچار تھے۔ دوسرے دن پھر چوہدری اپنے ڈیرے پر چڑھا اور جب جوتا پھینکا تو وہ ایک غریب کسان کے گھر جاگرا، اس غریب کسان کی سات بیٹیاں تھیں۔ جب کسان جوتا لے کر چوہدری کے پاس آیا تو چوہدری نے کہا کہ تم رات کو اپنی ساتوں بیٹیوں کو میرے پاس لے آو۔ وہ بھی مجبور ہوکر اپنی ساتوں بیٹیوں کو چوہدری کے پاس لے آیا۔ چوہدری ساری رات اس غریب کسان کی سب سے چھوٹی بیٹی کے ساتھ زنا کرتا رہا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ چوہدری کی بھی ایک بیٹی تھی جس کی چوہدری نے اپنے گاؤں کے ایک مالدار آدمی سے شادی کروائی تھی۔ یہ چوہدری جیسا آمیر تو نہیں تھا لیکن گاؤں کے باقی لوگوں سے زیادہ آمیر اور طاقتور تھا۔ اس آدمی نے بھی چوہدری کی بیٹی سے شادی کرتے وقت یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ چوہدری کو سبق سکھائے گا دراصل اس نے یہ شادی چوہدری کو سبق سکھانے کےلئے ہی کی تھی یہی سوچ کر اس نے چوہدری کی بیٹی سے شادی کرلی۔ چوہدری معمول کے مطابق ہر روز اپنے ڈیرے کے اوپر چڑھ کر اپنا جوتا پھینکتا تھا اور پھر جس گھر میں جوتا آگرتا چوہدری اس گھر میں موجود لڑکی کے ساتھ زنا کرتا۔ جب یہ سلسلہ کئی دنوں تک ایسا ہی چلتا رہا تو سارے گاؤں والوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آخر کب تک یہ چوہدری گاؤں کی لڑکیوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتا رہے گا۔

انہوں نے ایک ترکیب سوچی کہ جب چوہدری اپنا جوتا پھینکے گا تو کوئی بھی چوہدری کا جوتا لے کر چوہدری کے پاس واپس نہیں جائے گا۔ جب چوہدری جوتا خود تلاش کروائے گا تو جوتا اس کی بیٹی کے گھر سے بازیاب ہوجائے گا اور جیسے ہی وہ جوتا اس کی بیٹی کے گھر سے ملے گا تو ہم گاؤں والے سب مل کر اس کو اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرنے پر مجبور کریں گے ورنہ اس کو اس گاؤں سے نکال دیں گے لیکن خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ چوہدری نے جیسے ہی جوتا پھینکا تو وہ سیدھا اس کی بیٹی کے گھر جاگرا اب اس بار وہ جوتا اس کا داماد لے کر چوہدری کے پاس آیا۔ جب چوہدری نے اپنا جوتا اپنے داماد کے ہاتھ میں دیکھا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے اپنے داماد سے پوچھا کہ تمہارے پاس میرا جوتا کیسے آیا؟

تو اس نے کہا چوہدری صاحب آپ کا جوتا آج میرے گھر آگرا ہے اس لئے اب آپ کو اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرنا پڑے گا ورنہ یہ گاؤں والے آپ کو اس گاؤں سے نکال دیں گے۔ جب چوہدری اپنے ڈیرے کے باہر نکلا تو وہاں سارے گاؤں والے اکھٹے ہوکر کھڑے تھے اور انہوں نے چوہدری کو کہا کہ تمہیں دو کاموں میں سے ایک کام کرنا پڑے گا یا تو تم اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کروگے یا پھر اس گاؤں کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کےلئے چلے جاؤ۔ اب چوہدری کو احساس ہوچکا تھا اس کے پاس دو راستے تھے یا تو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرتا یا پھر گاؤں کو چھوڑ کر چلا جاتا اور اپنی تمام دولت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا۔

یہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہورہا تھا کیونکہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر سوچنے کے بعد چوہدری نے کہا کہ ایسی دولت پر بھی لعنت ہے جو انسان کو اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرنے پر مجبور کردے۔ میں ہمیشہ کےلئے اس گاؤں کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ اس کے بعد چوہدری نے اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لی اور ان تمام کسانوں سے بھی معافی مانگ لی جن کی بیٹیوں کے ساتھ اس نے زنا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئے گاؤں چھوڑ کر کہیں دور چلا گیا۔

ہمیں اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان جب تک خود اپنی مدد نہیں کرتا اللہ بھی ان کی مدد نہیں کرتا۔ جب تک اس گاؤں کے کسانوں نے اپنی مدد کرنے کا نہیں سوچا تھا اس وقت تک اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ اللہ تعالی ایسے لوگوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔ آمین

If you likes my posts then search my channel on youtube "Saadullah Khan Voice " and subscribe. Thanks

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
info@newzflex.com-اگر آپ اپنے پسندیدہ موضوع کو ویڈیو کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پسند سے آگاہ کرنے کیلیے اس ایڈریس پر ای میل کیجیےLike & Subscribe the Newz_Flex Channel