سائنس اور ٹیکنالوجی

انٹرنیٹ کی شیطانی دنیا، ڈارک ویب

انٹرنیٹ کی دنیا آپ کی سوچ سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ گوگل یا پھر یاہو (yahoo) جیسے کسی بھی مشہود سرچ انجن سے آپ تمام انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں تو آپ غلط سوچتے ہیں کیونکہ ہم لوگ انٹرنیٹ کا صرف چار فیصد حصہ ہی استعمال کر سکتے ہیں جبکہ باقی چھیانوے فیصد حصہ ہماری پہنچ سے بہت دور رکھا گیا ہے انٹرنیٹ کا یہ حصہ ڈیپ ویب اور ڈارک ویب پر مشتمل ہے

انٹرنیٹ کو تین حصوں میں تقسیم دیا گیا ہے جس میں پہلا حصہ سرفیس ویب (surface web) کہلاتا ہے یہ وہ حصہ ہے جسے عام لوگ استعمال کر سکتے ہیںانٹرنیٹ پر آپ جو بھی ویب سائٹ کھولتے ہیں مثلا کوئی بھی بلوگر ویب سائٹ، گوگل، ویکی پیڈیا یا فیس بک وغیرہ۔ یہ سب آپ سرفیس ویب پر ہی دیکھتے ہیں سرفیس ویب انٹرنیٹ کا صرف چار فیصد ہی حصہ یے اور یہ بھی کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ گوگل سرفیس ویب پر موجود ویب سائٹس کا صرف سولہ فیصد حصہ ہی انڈیکس کر پاتا ہے یعنی سرچ رزلٹ میں دکھا پاتا ہے

اس کے بعد انٹرنیٹ کا بہت بڑا حصہ چھپا ہوا ہے جس تک کوئی عام آدمی رسائی حاصل نہیں کر سکتا اسے ڈیپ ویب کہا جاتا ہے ان ویب سائٹس تک صرف گورنمنٹ کے اداروں مثلا ملٹری سروسز، بینکنگ سیکٹرز یا کسی کمپنی کے پرسنل ڈاکومنٹس موجود ہوتے ہیں جو ہر شخص کے لیے موجود نہیں ہوتے بلکہ صرف کمپنی کے متعلقہ لوگ ہی اسے استعمال کر سکتے ہیں مثال کے طور پر بینکوں کی روزانہ کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ جو ایک شہر سے دوسرے شہر میں روزانہ بھیجی جاتی ہیں

اس کے بعد انٹرنیٹ کا تیسرا بڑا حصہ اور انٹرنیٹ کا خفیہ ترین اور خطرناک حصہ موجود ہے جسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے اسے امریکہ اور سویڈن کے باہمی تعاون سے بنایا گیا تھا اور اسے بنانے کا مقصد ملٹری کی خفیہ انفارمیشن کی ترسیل تھا تاکہ کوئی بھی خفیہ معلومات کسی دشمن کی نظر میں آئے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھجوائیں جا سکیں اور اسے آج بھی اسی ملٹری مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ صحافی بھی اس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ خفیہ پیغامات جو عام لوگوں یا گورنمنٹ کی نظروں سے بچانے ہوں ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے ڈارک ویب کے اندر آپ کی تمام شناخت خفیہ رہتی ہے نہ تو کوئی عام شخص یہاں تک پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی گورنمنٹ کا ادارہ آپ کو یہاں پر ٹریس کر سکتا ہے لہذا اس کی اسی خصوصیت کی بنا پر انٹرنیٹ کا یہ حصہ جرائم پیشہ عناصر کی جنت بن گیا اور اسے ہر طرح کے جرائم کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا ایسے ایسے جرائم جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے مثلا منشیات کو خریدنے اور بیچنے کی ڈیلنگز، چائلڈ پورنوگرافی، ہٹ میں کو ہائر کرنا یعنی کسی کو پیسے دے کر کسی کو مروانے کے لیے ہائر کرنا، خفیہ کتابیں، نقلی پاسپورٹ اور ڈاکومنٹس بنوانا جس کی قیمت ایک ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے.

صدیوں پرانے جنگی راز، کریڈٹ کارڈ کی چوری شدہ معلومات، لوگوں پر تشدد کرنا اور ان کو مرتے ہوئے دکھانا ان کے اعضاء کو کاٹنا اور پھر ان ویڈیوز کو بیچنا یہ سب کام ڈارک ویب میں ہی ہوتے ہیں ڈارک ویب کا ایک حصہ جسے ریڈ روم کہا جاتا ہے یہاں لوگوں کو لائیو کاٹتے ہوئے انھیں دردناک موت دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور لوگ اس کو نہ صرف دیکھنے کے پیسے دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ بولی لگاتے ہیں کہ اس شخص کو فلاں طرح کی اذیت دینے پر میں تمہیں اتنا پیسہ دوں گا اور ظاہر ہے کہ یہ سب دیکھنے والے لوگ اور جرائم پیشہ عناصر اس کی بدولت بے تحاشا پیسہ کماتے ہیں ان پیسوں کی ادائیگی آن لائن بٹ کوائن کی صورت میں کی جاتی ہے بٹ کوائن ایک آن لائن کرپٹو کرنسی ہے یا پھر اسے ڈی سینٹرلائز کرنسی بھی کہہ سکتے ہیں جسے گورنمنٹ کنٹرول نہیں کرتی اور یہ ڈائریکٹ خریدنے اور بھیچنے والے کے والیٹ میں آن لائن بھیج دی جاتی ہے جسے ٹریس نہیں کیا جا سکتا ریڈ روم میں جانے کے لیے آپ کو ایک مخصوص لنک بھیجا جاتا ہے جس کے ڈریعے آپ اسطرح کی لائیو سٹریم کو جوائن کر سکتے ہیں اس سے پہلے آپ سے رقم آن لائن بٹ کوائن کی صورت میں لے لی جاتی ہے

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاک ویب یا ریڈ روم تک رسائی کیسے ممکن ہے کیونکہ ہمارے عام انٹرنیٹ براوزر صرف سرفیس ویب کے لیے ہی بنے ہیں یہ ڈارک ویب تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے لہذا اس مقصد کے لیے ایک ٹار (Tor) نامی براوزر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ آپ کی آئی پی اور لوکیشن خفیہ رکھتا ہے تاکہ آپ کے ڈارک ویب میں داخل ہونے کے متعلق کسی کو معلوم نہ ہو سکے ورنہ آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے کیونکہ ڈارک ویب کا استعمال غیر قانونی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں زیادہ تر جرائم پیشہ افراد موجود ہوتے ہیں اور زیادہ تر غلط کام ہی ہوتے ہیں ٹار براوزر آپ کے آئی پی ایڈریس اور آپ کی شناخت کو چھپا دیتا ہے یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر آئی پی ایڈریس ( IP Adress) ہی آپ کی پہچان ہوتا ہے مثال کے طور پر جیسے سم کارڈ کا نمبر آپ کے سم کی شناخت ہوتا ہے لہذا ٹار براوڑر کی مدد سے آپ ایک ایسی ویب سائٹ کو کھول پاتے ہیں جو صرف ٹار نامی فارمیٹ میں موجود ہوتی ہے

یاد رہے کہ اگر آپ ڈارک ویب کو تجسس کے طور پر کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ کی تمام خفیہ معلومات کو یہاں پہ موجود نیٹ ورک ہیک بھی کر سکتے ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کر سکتے ہیں .

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!