افسانے

لڑکی جو مرنے کے بعد بھی زندہ رہی

صبح کی ہلکی روشنی میں چہکتے پرندوں کی طرح توانائی سے بھرپور ہر دم ہر جگہ بس وہ موجود ہوتی۔ اس طرح گھر اور سکول میں بھی اس قدر وہ انمول تھی کہ اسی کے انتظار میں ہوتے سب ہر جگہ یعنی کہ اگر اس نے سکول سے چھٹی کرلی اس کے بغیر اساتذہ اس کی کلاس میں دلچسپی نہ لیتے اور اس کے دوسرے ہم جماعت بھی اداس ہوتے ان کے کھیل ادھور ےرہ جاتے ان کے بہت سارے منصوبے بس منصوبے بن کر رہ جاتے اور اسی طرح اس کے گھر میں اور رشتے داروں میں جہاں جہاں وہ اڑتی اسی کی کمی محسوس ہوتی حتی ٰکہ اس کی زندگی میں تعلق رکھنے والے ہر شخص کو اس کی غیر موجودگی میں کمی محسوس ہوتی۔

ہر کوئی یہی چاہتا کہ وہ اس کے پاس ہواس کے ماں باپ دوست وغیرہ کے علاوہ کوئی اور بھی تھا جسے منیبہ کی چاہت ہونے لگی اور وہ اسی کو چھوڑ کر سب کو وقت دیتی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ احمدکو محسوس ہونے لگا کے منیبہ میری چاہت کی پرواہ کیے بغیر اپنے ماموں کے بیٹے فاہد کو چاہتی ہے۔ فاہد نے ابھی گیارہویں جماعت میں داخلہ لیا تھا اور اپنی پھوپھو کے پاس ہی گاؤں سے پڑھنے آیا تھا دو تین ماہ بعد سب کچھ احمد کے اختیار سے باہر ہو گپا کیونکہ منیبہ جو سب کے ساتھ خلوص رکھتی اسی وجہ سے احمد کے دل میں گھر کر گئی,چونکہ احمد منینہ کا ہمسایہ ہونکے ساتھ ہم جماعت بھی تھا بچپن سے اکھٹے کھیلتے بھی رہے ۔منیبہ نہ صرف اپنے رویے,اخلاس اور خوش مزاجی کی وجہ سے لوگوں کا دل موہ لیتی بلکے شکل صورت میں بھی کمال تھی۔دوسری طرف فاہد بہت شریف تھا وہ پڑھ کے غریب ماں باپ کا سہارا بننا چاہتا تھا۔منیبہ نے جسے فاہد کی چاہ ہونے لگی تھی احمد کو الجھن میں ڈال دیا۔ فاہد انٹر کا امتحان پاس کرنے بعد مقابلے کے امتحان کی تیا ری کر رہا تھا وہ انٹر کالج میں اول درجے پر آیا تھا احمد اور منیبہ گیارہویں جماعت کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے ۔منیبہ وقت کے ساتھ اور بھی سب کی چاہنے والی بن گئ۔ دو سال بعد جب فاہد ڈاکٹر کی پڑھائی کر رہا تھا تو منیبہ اکثر اس سے فون پر لمبی باتیں کر نے لگی دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے تھے۔

جس کا علم احمد کو تھا احمد کے گھر والے مالدار تھے احمد نے گھر میں اصرار کر کے منیبہ کے لیے رشتہ بیجھا جسے منیبہ کے گھر والوں نے قبول کر لیا مگر اپنی پیاری بیٹی کی راۓ پر مصترد کر دیا ۔احمد کو بہتآتکلیف پہنچی وہ دل ہی دل میں منیبہ کے لیے کڑھتا رہتا ۔منیبہ اب اور بھی مقبول اور چشمے بطور تھی ۔پھر ایک دن احمد نے منیبہ کو سہیلی کے گھر سے آتے ہوۓ اغواہ کر لیا اس دن کے بعد سے منیبہ اور احمد کا کچھ پتا نہیں ۔آج بھی منیبہ کے چاہنے والے اسے اپنے درمیان محسوس کرتے ہیں یوں آج بھی وہ منیبہ کو چہکتے ہوۓ پرندوں کی طرح اپنے ساتھ محصوص کرتے ہیں وہ سب کے دلوں میں موجود ہے۔

I am nothing without love and i find love everywhere

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
info@newzflex.com-اگر آپ اپنے پسندیدہ موضوع کو ویڈیو کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پسند سے آگاہ کرنے کیلیے اس ایڈریس پر ای میل کیجیےLike & Subscribe the Newz_Flex Channel