دیس پردیس کی خبریں

سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے بےشمارفوائد 

:سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے ثمرات 
سوشل میڈیا کے دو استعمال ہیں۔ ایک مثبت اور مفید استعمال ،دوسرامنفی اور غلط استعمال،اگر ہم سوشل میڈیا کا مثبت اور مفید استعمال کریں تو یہ ہماری زندگی کے اندر انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے جس تیزرفتاری سے ترقی کی ہے۔ ماضی قریب اور بعید میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یکم جنوری 1983 کو انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اب دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والا حادثہ چند سیکنڈ میں سوشل میڈیا کی مدد سے پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ اوراب دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے مگر ماضی میں ایسا نہ تھا۔ جدید اور تیز رفتار ٹیکنالوجی نے جس طرح تیز رفتاری سے ترقی کی ہے ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں ملتا۔ اس تیز رفتار ترقی میں سوشل میڈیا کی ویب سائیٹس کا بنیادی اورکلیدی کردار ہے۔

پچھلے چند عشروں سے مفید اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب آگئے ہیں۔ اب سیکڑوں میل کی دوری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ کیوں کہ اب سیکڑوں میل کا سفر جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے صرف چند سیکنڈ میں طے ہو جاتا ہے۔ اور اس دوری کو طے کرنے میں سوشل میڈیا کا اہم اور کلیدی کردار ہے۔ دور دراز بیٹھے لوگ کسی بھی وقت سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ نہ صرف رابطہ کر سکتے ہیں بلکہ رابطے سے بڑھ کر ویڈیو کالز کی صورت میں ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی بات کر سکتے ہیں۔ اپنے آڈیو پیغامات ،ویڈیو پیغامات اور تصاویر وغیرہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک ارسال کر سکتے ہیں۔

یکم جنوری 1983 میں انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ آن لائن دنیا میں 1990میں مزید ترقی کی شکل اس وقت اختیار کی.جب کمپیوٹر کے ماہرین نے ورلڈ وائیڈ ویب سائٹ کے ایجاد میں کامیابی حاصل کی۔

انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعے بہترین رابطے کو سوشل میڈیا نے ایک نئی شکل دی۔ اس وقت لاتعداد اور بے شمار انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے لوگ یورپ میں پائے جاتے ہیں۔ یورپ کی مجموعی آبادی میں سےان کی تعداد تقریبا40 فیصد ھے۔ براعظم افریقہ انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت پیچھے ہے۔ جس کی بڑی وجہ غربت اور پسماندگی ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق وہاں کی کل آبادی میں سے فقط2 فیصد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

ان مشہور اور کم وقت میں شہرت پانے والی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز میں فیس بک، وٹس ایپ ،انسٹاگرام اور ٹیوٹر وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 50 ملین سے زائد لوگوں کے اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر موجود ہیں،اور یہ سب اکاؤنٹ زیر استعمال ہیں۔ ایک تجزیے کے مطابق پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کی تعداد تقریبا 30 ملین ہے۔ اس وقت انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے بڑا اور اہم کردار سوشل میڈیا کا ہے۔ آج کے جدید دور میں سوشل میڈیا کاروبار کی تشہیر کرنے میں استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن کلاسز کا اجراء بھی کیا جاتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں سوشل میڈیا نے بہت زیادہ اہمیت حاصل کر لی ھے۔ اور سوشل میڈیا کے ذریعے آج کل آڈیو بکس اور پی ڈی ایف کی صورت میں بکس باآسانی ایک دوسرے تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت بہت سے افراد اور ادارے آپس میں رابطہ کرتے ہیں،تبادلہ خیال کرتے ہیں،اور اپنے پیغامات کی ترسیل کرتے ہیں۔ اوردیگر بہت سی انٹرنیٹ پر موجود چیزوں کے بارے میں سوشل میڈیا کا استعمال کر کے ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔

پچھلی دہائی میں اس کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ھے۔ اور اب سوشل میڈیا ہر عمر کے انسانوں کی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔ آج کی دنیا میں سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں ہونے والا حادثہ ایک سیکنڈ میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے طلباء وطالبات تعلیم کے میدان میں بہت زیادہ مدد حاصل کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی تعلیم کے حوالے سے معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

اب مرد بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرکے معلومات حاصل کرتے ہیں اور ایک خاتون کی طرح اپنی مرضی کے مطابق کھانا بنا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے مرد حضرات اب میک اپ کرنے اور سکھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اب کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جو مرد حضرات نہیں کر سکتے۔ ایک وقت تھا کہ بیرون ممالک میں مقیم افراد کے چہروں کو دیکھنے کے لیئے آنکھیں ترس جاتیں تھیں،اور ان کی آواز سننے کو کان ترس جاتے تھے۔

اس کو بھی سوشل میڈیا کے استعمال نے آسان بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیاکے استعمال سے فاصلوں میں کمی آئی ھے۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت ہم اپنی تقریبات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر بھی دوسرے ممالک میں بیٹھے لوگوں تک باآسانی پہنچا سکتے ہیں۔ الغرض سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہماری زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کرتا ہے۔ وقت قیمتی اور نایاب دولت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ہمیں چاہیے کہ اپنے وقت کو قیمتی بنائیں اور سوشل میڈیا کا فضول اور منفی استعمال کرنےکے بجائے اسے مثبت اور مفید کاموں میں استعمال کریں۔

                                                                                                          تحریر: محمد توقیر رعنائی

I am blog writer. I write Urdu blogs in different topics.

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!