ادب

اب آپ کے خواب کی تکمیل دور نہیں

مثالی شخصیت کون؟

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا    آدمی  کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مثالی شخصیت بننا ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مثالی شخصیت ہوتی کیا ہے؟اللہ تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث کیے تاکے ان کی صحیح رہنمائی کی جا سکے۔اور سب سے زیادہ رہنمائی کی ضرورت نوجوان طبقہ کو ہوتی ہے کیوں کہ اگر نوجوانوں کی صحیح رہنمائی نہ کی جائے تو اس کے بہت خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔

مثالی شخصیت وہی ہوتی ہے، جو ہر لحاظ سے مثالی ہو جس کی اخلاقی  اقتدار بلند ہوں جس کا اخلاق و کردار پاکیزہ اور بلند ہو۔ جو مثبت  کاموں کے لئے ہمہ وقت پختہ قوتِ رادی رکھتاہو۔ اور دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہو۔مثالی شخصیت وہ ہوتی ہے جو اپنے مقاصد اور اپنے اصولوں سے کبھی بھی انحراف نہ کرے۔ جو چھوٹوں کے ساتھ محبت اور بڑوں کے ساتھ عزت سے پیش آئے۔ جو اپنے ہر میدان میں کامیاب ہو۔ جس کی کامیابی کی مثال لوگ دوسروں کو دیں، ہر فرد کے لحاظ سے مثالی شخصیت تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔ اگرھم ایک ذات دیکھنا چاہئیں جو ہمارے لئے کامل ترین نمونہ ھو۔ تو وہ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جوکہ ہمارے لئے بہترین اور رول ماڈل ہیں۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

جس کسی نے بھی مثالی شخصیت بننا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه واله وسلم کی پیروی کرے۔ اور انھیں اپنا رول ماڈل بنائے۔ کیوں کہ محمد مصطفی   ہی وہ صلى الله عليه واله وسلم عظىم ہستی ہیں جو کائنات کے ہر شخص کے لئے بہترین نمونہ اور مثال ہے۔

کیونکہ مثالی شخصیت بننے کے لیے ہمیں کسی نہ کسی رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے کوئی شخصیت ہونی چاہیے جو ہر میدان میں کامیاب ہو۔ تاکہ ہم اس کی پیروی کرتے ہوئے کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔مثالی شخصیت کا رول ماڈل وہ ھوتاہے جو “ہمہ جہت شخصیت” ہواور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں توازن قائم رکھ سکے۔ ایسے رول ماڈل کی پیروی “مثالی شخصیت سازی” میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مثالی شخصیت کا رول ماڈل کل کا احاطہ کرتی ہے کیونکہ ایک جزوی کامیابی کبھی بھی ایک مثالی شخصیت کا رول ماڈل نہیں ہو سکتا۔
اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے ایک مثالی شخصیت بننے کے لیے ہمیں رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایک انسان محدود سی زندگی لے کر آتا ہے۔اگرنسان خود سے سوچنا،عمل کرنا شروع کردے اور تجربات کرنا شروع کردے، اور کسی رول ماڈل کی پیروی نہ کرے تو ساری زندگی ناکام کوشش میں لگا رہے گا۔

-:مثالی شخصیت صحت کے اجزاء
 :مثالی شخصیت کے اندر درج ذیل خصوصیات ہونی چائیں

اپنی ذات پر کنٹرول ہونا، اور اپنی ذات کے اندر وہ ڈسپلن قائم رکھنا، اندر باہر سے ایک جیسا ہونا،  اخلاق اور کردار کا بلند ہو نا، اپنی منزل کا صحیح کا ادراک ہو نا، اپنے منزل کے حصول کے لئے صحیح راستے کا تعین کرنا اور اپنی منزل کے حصول کے لیے آنے والی مشکلات کا  سدِ باب کرنا، دوسروں کے ساتھ  محبت اور شفقت سے پیش آنا،اپنے معاملات میں اصول پسند ہونا، اورسیلف بیلنس کا خیال رکھنا۔
: بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 

نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

مثالی شخصیت کے اندر توازن ہونا چاہیے اور توازن مثالی شخصیت کی سب سے اہم اور مرکزی خوبی ہے۔ مثالی شخصیت کے توازن کو سمجھنے کے لئے ہم مثالی شخصیت  کوچارجہتوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

      :روحانی جہت
روحانی جہت کے اعتبار سے مثالی شخصیت کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط ہونا چاہئے اور وہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کسی کمزوری کا شکار نہ ہو۔
:معاشرتی اقدار
معاشرتی اقدار کے اعتبار سے مثالی شخصیت كوحقوق العباد کی ادائیگی میں کامل ہونی چاہیے،اس کے اندر معاملہ فہمی،کی بہرین صلاحيت اور دوسروں کا احساس ہونا چاہیے۔
:ذہنی اور فکری جہت
ذہنی اورفکری جہت کے اعتبار سے مثالی شخصیت کی فکر پختہ ہونی چاہیے اور اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم ہونى چاہیے اور اپنی ذہنی نشونما کے لیے بہترین کتابوں کا مطالعہ اس کا مشغلہ ہونا چاہیے۔
:جسمانی نشو نما کی جہت
جسمانی نشونما کی جہت کے اعتبارامثالی شخصیت کواپنی صحت اور اپنی غذا کا خیال رکھنا چاہیے،اور اپنی نفسانی خواہشات کو روحانی خواہشات کے تابع رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے۔

یاد رہے کہ مثالی شخصیت وہ ہوتی ہے جو خوشحال ہو۔ لہذا فزیکل گروتھ کے ساتھ ساتھ اکنامکس گروتھ بھی ضروری ہے۔
مثالی شخصیت وہ ہوتى ہے جو خود کسی کی  پیروی کر رہى ہو،اوراس کی زندگی میں اس کی روشنی کو دوسرے لوگ فالو کر رہے ہوں۔ یعنی  مثالی شخصیت روشنی دے بھی رہى ہو۔اور روشنی لے بھی رہی ہو۔

المختصرمثالی شخصیت وہ ہوتی ھے جو  کسی منزل کی مسافر بھی ہو اور وہ کسی دوسرے مسافر کے لیے منزل بھی ہو۔

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

     اگرایک مثالی شخصیت بننا آپ کا بھی خواب ہے۔ تو اس کی تکمیل صرف اور صرف حضور نبی اکرم صلى الله عليه واله وسلم کی پیروی اورا  اتباع میں ہے۔ آپ صلى الله عليه واله وسلم کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پھروہ وقت دورنہیں جب آپ دوسروں کے لیےایک مثالی شخصیت بن کرابھریں گے۔

تحریر: محمد توقیررعنائی

mtoqueer799@gmail.com

I am blog writer. I write Urdu blogs in different topics.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!