افسانے

انتقام (حصہ سوئم)

شاہ میر وہاں سے واپس تو آ گیا تھا لیکن ابھی بھی اس کا دل و دماغ کو وہی اٹکا ہوا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ غلط ہو گیا ہے بہت غلط لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی بہر حال وہ واپس لندن آگیا جہاں پر اس کی ماں اس کا انتظار کر رہی تھی نازیہ بیگم شاہ میر کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئی ٭٭٭٭٭

ادھر فاخرہ بیگم نے مائرہ پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے آئے وہ مائرہ کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتی اور سارا کام نوکروں کی طرح کرواتی ہے اور جب کبھی مائرہ کسی بات پر بحث کرتی ہیں یا کسی بات پر پوچھنے کی کوشش کرتی کی آخر میرا قصور کیا ہے ہے تو فاخرہ بیگم بغیر سوچے سمجھے اسے پیٹ ڈالتی٭٭٭٭٭

2دن گزرنے کے بعد بھی جب جب مائرہ کا کچھ پتا نہ چلا لا تؤذوہا بیگم نے پولیس میں جا کر رپورٹ درج کروانے کا سوچا لیکن وہاں بھی کوئی فائدہ نہ ہوااور پولیس والوں نے الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ لڑکی کا کہیں چکر وکر ہو گا چھپ کر چادی کر لی ہو گی واپس آ جائے گی تم کیوں پریشان ہوتی ہو بیبی آج کل کی لڑکیاں تو ہوتی ہی ایسی ہے خود تو بھاگ جاتی ہیں لیکن پیچھے سے ماں باپ کو پریشان کر دیتی ہے میری بیٹی ایسی نہیں تھی زوہا چلائی اچھا پولیس والا تمدخرانہ انداز میں ہنسا تو پھر جائو خود ہی ڈھونڈ لو بی بی ہمیں کیوں پرےشان کر رہی ہو زوہا یہ سن کر بہت پریشان ہوئی چپ چاپ واپس آ گئی کر بھی کچھ نہیں سکتی تھی گھر میں کوئی مرد تو تھا نہیں جو اس معاملے کو ہینڈل کرتا بواں اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی جیسے ہیں زوہا بہگم گھر واپس آئیں بی جان بھاگ کر اس کے پاس آئی کیا ہوا کچھ پتہ چلا؟ کچھ پتہ نہیں چلا زوہا تھکے ہوئے لہجے میں بولی تو پولیس میں رپورٹ درج کروائی تھی نا بوا نے کہا ہاں آپ کو کیا لگتا ہے میں نے ایسا نہیں کیا ہوگا لیکن وہ پولیس والے تو اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں ہے

کہ میری بیٹی کے ساتھ غلط ہوا ہے یا وہ اغوا ہو گئی ہے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کہیں بھاگ گئی ہے کسی کے ساتھ اس کا چکر ہوگا میرے تو جینے کا سہارا ہے میری جان بستی ہے میری بیٹی میں میں میں کیا کروں ہو مجھے پتا ہے میری بیٹی ایسی نہیں ہے ہے میں اپنی بیٹی کے بغیر کیسے رہو گی مائرہ مائرہ وہ زور سے چلائی اور وہیں زمین پر بیٹھ کے کے رونے لگ گئی ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ٭٭٭٭٭

فاخرہ کی ماں اس کے دل کا حال جان چکی تھی اس لیے وہ چاہتی تھی کہ زوہا اپنے چچا سے بات کریں اس بارے میں کہ وہ لوگ فاخرہ کا رشتہ عباد کے لے لیں اس لیے اس لیے انہوں نے زوہا سے اس بارے میں بات کرنے کا سوچا جب انہوں نے زوہا سے بات کی تو ان کو بھی یہ بات اچھی لگی اگر آپ کہیں تو میں چچی جان سے بات کروں گی مجھے امید ہے وہ میری بات کو کبھی منع نہیں کریں گی ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے شاہ نواز کی والدہ نے فورا حامی بھری تو تم ایسا کروں تم چلی جاؤ آج اپنے چچا کی طرف شاہنواز کو میں بتا دو گی زوہا جب اپنے چچا کے گھر آئی تو عباد اپنی والدہ سے کسی ٹوپک پر بحث کر رہا تھا اپنا نام سن کہ زوہا اندر جاتے جاتے رک گئ عباد کہہ رہا تھا آپ جانتی ہیں مما میں زوہا کے بعد کسی زندگی میں شامل کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہتا زوہا کے بعد میں کسی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا پلیز ماما اپ مجھے اس بارے میں انسسٹ مت کیجئے گا آپ کی مہربانی ہوگی میںعآباد کی بات سننے کے بعد اس کی ماں بولی چاہتے تو ہم بھی یہی تھے بیٹا بیٹا کہ وہ ہماری بیٹی ہی بن کر رہے ہیں لیکن قسمت کو یہ منظور نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر زوہا کی خوشی بھی یہی تھی ہم اس کی شادی تمہارے ساتھ نہیں کر سکتے تھے یہ ساری باتیں سن کے زوہا باہر سے ہی واپس چلی گئی عباد مجھ سے محبت کرتا ہے

اور چچا چچی کی بھی خواہش تھی یہی اور میں ان کی خوہش نہیں پوری کر سکی آج تک میں نے بس ان سے لیا ہے دیا ہی کیا ہے انہیں ان کی خواہش پوری نہیں کر سکی میں ایک میں ۔۔۔ میں ۔۔۔میں تو سمجھتی تھی کہ میں ان کی بہت اچھی بیٹی ہوں ان کی ہر بات بگایر کہے سمجھ جاتی ہوں میں لیکن میں ان کے دل کی بات نہیں جان پائی باہر کھڑی زوہا اپنے آپ کو کہتی رہی ہمت نہ ہوئی فاخرہ کے بارے میں بات کرنے کی اور وہیں سے واپس آ گئی گھر واپس آگئی تو اس کی والدہ نے پوچھا کیا بات ہوئی فاخرہ کے بارے میں بات کی تو نہیں آنٹی وہ چچی جان گھر نہیں تھی کہ کر زوہا اپنے کمرے میں چلی گئی کیوں کہ وہ اس وقت اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے ٹال دیا چچا نے اسے اتنا بھی اپنا نہیں سمجھا کہ وہ اس سے اپنی خواہش کا اظہار کر لیتے ہیں ٭٭٭٭٭

مائرہ کچن میں برتن دھو رہی تھی برتن دھوتے دھوتے وہ وہ زوہا بیگم کے بارے میں سوچنے لگ گئی پتہ نہیں کس حال میں ہو گے کیا کر رہے ہو گے مجھے ڈھونڈتے ہو گے ان سب کا زمہ دار شاہ میر ہے کیا بگاڑا تھا میں نے تمھارا شاہمیرکیوں کیا تم نے میرے ساتھ یہ سب آخر کس چیز کا بدلہ لے رہے ہو میں تو تمہیں جانتی تک نہیں تھی اپنی سوچوں میں غلطاں اس کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس نیچے گرا اور چکنا چور ہو گیا گلاس ٹوٹنے کی آواز پر فاخرہ بیگم آئی گلاس کوٹوٹا دیکھ کے آگ بگولہ ہو گئی اور زور دار تھپڑ دے مارا دھیان کدھر ہے تمہارا اندھی ہو کیا یا تمہارے باپ کا مال ہے آپ میرے باپ تک مت جایا کریں جو بھی کہنا مجھے کہیں باپ کے بارے میں بات مائرہ سے برداشت نہ ہوئی اور وہ کہہ بیٹھیں

مائرہ کی بات سن کے فاخرہ تڑخ کے بولی اچھا کیوں نہ لیا کرو بڑی تکلیف ہے تمہیں اپنے باپ کی یہ کہتے ہوئے انہوں نے اس کا بازو پکڑ کر مڑوڑا بی بی تمہارے باپ ایک ضد کی سزا تم بھگت رہی ہوں تمہارے باپ کی غلطی کی سزا تمہیں مل رہی ہے سمجھیں تم جھٹکے سے بازو چھوڑتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور وہیں پر پر نیچے زمین پر بیٹھ کر روتے ہوئے گلاس کی کرچیاں سمیٹنے لگی میرے باپ نے ایسا کیا کیا تھا جس کی سزا مجھے آج مل رہی ہیں آپ مل رہی ہے ۔

I am a short story writer.

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!