بریکنگ نیوز

بی بی سی کی پاکستان دشمنی

بی بی سی کی پاکستان دشمنی

سنہ65ء کی جنگ شروع ہوتے ہی بی بی سی نے ایک فوٹیج چلائی جس میں کچھ سکھ ایک بس پر بیٹھ کر ہلا گلا کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ خبر نشر کی کہ لاہور انڈیا نے فتح کر لیا ہے۔ یہ خبر پورے پاکستان پر بجلی بن کر گری اور جنگ شروع ہوتے ہیں قوم کا مورال ڈاؤن ہوگیا۔

سنہ71ء میں بی بی سی نے بلکل وہی کردار ادا کیا جو وہ اس وقت بلوچستان اور قبائیلی اضلاع میں کر رہی ہے۔ یعنی بنگالیوں میں احساس محرومی پیدا کرنا، پھر اس کو بڑھاوا دینا، پاک فوج کو ظالم اور مکتی باہنی کو مظلوم بنا کر پیش کرنا۔
پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں بی بی سی نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔

آج جتنی پاکستان مخالف تحریکیں چل رہی ہیں، بی بی سی ان کا سب سے بڑا سہارا بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بی بی سی ریڈیو پر نفرت انگریز پراپیگینڈے پر مبنی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی کے بعد پاکستان میں “غداری” نے باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی تھی۔ پاکستان کو گالی دے کر یا پاک فوج کے خلاف بکواس کرکے مغرب کی شہریت، دولت اور شہرت سب مل سکتا ہے اس چیز نے پاکستان میں غداروں کی ایک پوری کھیپ تیار کی جس کو سنبھالنا مشکل ہورہا ہے۔

یہ ملالہ یوسفزئی بی بی سی پی پیدوار تھی۔ بی بی سی کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ نے ضیاء الدین یوسفزئی کو ٹاسک دیا کہ ایک لڑکی چاہئے جو بی بی سی کو جعلی خطوط بھیج سکے۔ وہ ہم لکھ کر دینگے۔ اس لڑکی نے اپنی لکھائی میں اس کو کاغذ پر اتار کر واپس بھیجنا ہے۔پہلے عائشہ نامی لڑکی سے بات کی گئی۔ وہ تیار ہوئے لیکن پھر پیچھے ہٹ گئے۔ تب ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنی بیٹی ملالہ یوسفزئی پیش کی۔

جس نے بی بی سی کے ہی دئیے گئے خطوط واپس بی بی سی کو بھیجنے شروع کیے۔ یہ انجئیرڈ خطوط آپریشن سے پہلے دہشتگردوں کی کامیابیوں پر رننگ کمنٹری تھی اور آپریشن کے دوران پاک فوج پر تنقید اور اس کے خلاف عوام کو اکسانے پر مبنی زہریلا پراپگینڈا تھا۔ بی بی سی پاکستان کے تقریباً تمام ملازمین کابل پرست سرخے اور کمیونسٹ ہیں۔ جو پاکستان کے خلاف پراپیگینڈا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی ایم کو پاکستان میں لانچ کرنے والی بی بی سی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ منظور پسکین کا پہلا باقاعدہ انٹرویو بی بی سی نے چلایا۔ اس کو پاکستان کے خلاف “پشتون مزاحمت” کا استعارہ قرار دینے کی کوشش کی۔ اس کی حمایت میں وزیرستان بھر میں بی بی سی ریڈیو خصوصی پروگرام چلاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ منظور پسکین کے انٹرویوز کو بی بی سی کا پیج باقاعدہ “بوسٹ” کرتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس کی رسائی ہو۔

پاکستان کے خلاف لڑنے والے اور بلوچستان میں ہزاروں حملے کرنے والے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگردوں کو “مسنگ پرسنز” کا لیبل لگانے والی بھی بی بی سی ہی ہے۔ بی بی سی بیک وقت اسلام، پاکستان، قومی سلامتی کے اداروں اور ہماری ثقافت پر حملے کرتی ہے۔ ذیل میں بی بی سی کی صرف جولائی کی چند خبروں کی سرخیاں پیش کرتا ہوں جس سے اپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

نمبر1۔ “پشاور میں طالبان کے پرچم”
(پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دینے کی کڑی)

نمبر2۔ “کیا خواتین کو گھر کے کام میں مدد ملنے پر شکرگزار ہونا چاہیے؟”
(ہماری معاشرت کےگھر عورت باہر مرد سنبھالے پہ تنقید)

نمبر3۔ “جنرل ضیا کو اس بات پر اعتراض تھا کہ ایک خاتون ہو کر ایک مرد کے ساتھ اکیلے کاک پِٹ میں رہیں گی؟”
(پاک فوج پر تنقید اور وہی مرد و عورت کی غیر فطری برابری تقاضا)

نمبر4۔ “مجھے معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی تصویر ایڈٹ شدہ ہیں۔”
(ایسا مضمون جو ہماری معاشرت میں معیوب سمجھا جاتا ہے)

نمبر5۔ “انڈیا نے افغانستان کے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔”
(یہ نہیں بتاتا کہ انفراسٹکچر کے علاوہ پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو افغانستان سے ہی آپریٹ ہوتے ہیں)

نمبر6۔ “انڈیا میں لوگ سیکس کے بارے میں بات نہیں کرتے میں ان کی مدد کرتی ہوں۔”
(اس بےہودہ مضمون کا پاکستان سے کیا تعلق؟)

نمبر7۔ “اردو اور سندھی زبان کے تنازعے کی تاریخ”
(پورے مضمون میں سندھی قوم پرستوں یعنی سرخوں کو سپورٹ کیا گیا ہے)

نمبر8۔ “ہمارے یہاں کسی جرم کے بعد عام طور پر یہی سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ عورت کہاں تھی، وقت کیا تھا، پہنا ہوا کیا تھا، وغیرہ وغیرہ لیکن اصل مسئلہ ہے کہ عورت تھی ہی کیوں؟”
(وہی عورتوں میں اپنے سماج سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش)

نمبر9۔ “برطانوی پیراکوں کی چھوٹی چھاتیوں اور چھوٹے کولہوں کا مذاق اڑیا گیا۔”
(اس بےغیرتی پر مبنی مضمون پر کیا کہوں)

نمبر10۔ “پاکستان میں حالات میں دیکھ کر واپس بن لادن کمپنی میں نوکری پر آگیا۔”
(مایوسی پھیلانے کی کوشش)

نمبر11۔ “اسلام اباد میں بیوی پر تیزاب پھیکنے والا گرفتار سسر کی تلاش جاری”
(برطانیہ میں تیزاب گردی کے سالانہ 800 واقعات ہوتے ہیں جو کبھی رپورٹ کرنے کی زحمت نہیں کرتی)

نمبر12۔ “کیا وزیراعظم کے کہہ دینے سے ان کا پروٹوکول کم ہوجائیگا؟”
(وزیراعظم کی اچھے فیصلے کے اثر کو کم کرنے کی کوشش)

نمبر13۔ “تاپسی پنوں آجکل کسے ڈیٹ کر رہی ہیں؟”
(اس بےحیائی پر مبنی مضمون کی پاکستانی معاشرے کو ضرورت؟)

نمبر14۔ “گللت بلتستان میں مطلوب دہشتگردوں کی کھلی کچہری”
(ایک مشکوک سی ویڈیو پر یہ پراپگینڈ)

نمبر15۔ “وزیراعظم کے دورے کے بعد گوادر کی بجلی کیوں غائب ہوگئی؟”
(گوادر جتنا آگے جا چکا اور اس دورے کے بعد جتنا آگے جائیگا وہ چھوڑ کر یہ شوشا)

نمبر16۔ “پاکستان کا پہلا ٹسٹ ٹیوپ بے بی جسے گناہ قرار دے دیا گیا۔”
(پاکستان کی تہذیب پر چوٹیں کرنا)

نمبر17۔ “یہ میں ہوں یہ میرے داد ہیں ہم ان کی شایی کروا رہے ہیں۔”
(ایک اور بےہودہ سا مضمون)

نمبر18۔ “عمران خان، طیب اردوغان اور محمد بن سلمان آزادی صحافت کے دشمن قرار”
(عمران خان نے کون سی آزادی سلب کی ہے؟)

نمبر19۔ “ڈاکٹروں نے کہا پیٹ کے اندر مار دو”
(عوام کو ایسی باتوں کو عادی کرنا جن کو عوام طور پر ہماری معاشرت میں معیوب سمجھا جاتا ہے)

نمبر20۔ “کون سے جسم پہ کیسا لباس اچھا لگتا ہے یہ فیصلہ کون کرے گا؟ اور علیزے شاؤن کے گاؤن پر تنقید کیوں۔”
(ہم ٹی وی کے ایک بےہودہ سیمنیار اور اس میں پہنے گئے آدھے لباسوں کا دفاع)

نمبر21۔ “فروری 1983 قانون شہادت کے خلاف خواتین کا احتجاج”
(قرآن کے ایک مرد دو عورتوں کی گواہی والے قانون پر تنقید)

نمبر22۔ “ذولفقار علی بھٹؤ کی وہ “غلطیاں” جو فوجی بغاوت کا باعث بنیں”
(پاک فوج پر تنقید)

نمبر23۔ “عمران خان گوادر کے دورے پر کسی گھر سے پانی کا ایک گھونٹ ضرو پیئیں۔”
(بلوچوں میں احساس محرومی پیدا کرنے یا بڑھانے کا ہتھکنڈہ)

نمبر24۔ “کشمیر میں سکھ لڑکیوں کی جبری مذہب کی تبدیلی”
(سکھ کمیونٹی کو پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش جو اس وقت انڈیا کے خلاف ہوئے ہیں)

نمبر25۔ “آن لائن ڈیٹنگ ایپس”
(اس پر کیا کہوں؟)

نمبر26۔ “آخری مرتبہ جب کیتھرین کا ریپ ہوا، وہ 17 برس کی تھیں۔”
(جنس زدہ مضامین کا تسلسل)

نمبر27۔ “پاکستان امریکی چائلڈ سولجر ایکٹ کی زد میں”
(پاک فوج نشانہ)

نمبر28۔ “کیا جیون ساتھی کا انتخاب اس کی جسم کی خوشبو سے کیا جا سکتا ہے؟”
(ایک اور بےہودہ قسم کا مضمون)

نمبر29۔ “سنگل اور غیر شادی شدہ افراد کے جسم سے الگ سی خوشبو کیوں آتی ہے؟”
(پاکستان کی ثقافت نشانہ)

نمبر30۔ “میں شاہد کپور اور اکشے کمار کے ساتھ رومانس کرنا چاہتی ہیں۔”
(ہماری ثقافت نشانہ)

نمبر31۔ “توہینِ مذہب کا الزام: ڈھائی سال قید خانے میں رکھنے کے بعد خاتون کو بے گناہ قرار دے دیا گیا”
(جو توہین مذہب کرتے ہیں ان کو بی بی سی کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بناتی)

بی بی سی پاکستان میں شائد سب سے زیادہ سنا اور پڑھا جانے والا ادارہ ہے اور یہ صرف اس مہینے کے نشر کیے گئے چند مضامین ہیں۔ یہ سب پڑھنے والوں پر کیا اثر ہوتا ہوگا؟

بی بی سی پاکستان کے خلاف جو پراپگینڈا کرتی ہے اس کا خمیازہ پاکستان جنگ کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان بی بی سی کا پھیلایا ہوا زہر مزید کتنا برداشت کر سکتا ہے؟
کیا وقت نہیں آگیا کہ بی بی سی خاص طور پر “بی بی سی اردو” پر “وائس آف امریکہ” کی طرح پاکستان میں بین لگا دیا جائے؟

تحریر محمد عدیل علی خان
Official Twitter handle @iAdeelalikhan

نوٹ ۔۔ بی بی سی کے ایک سینیر آفیشل کے مطابق پاکستان سے 700 صحافیوں نے بی بی سی میں ملازمت کے لیے درخواست دی ہے جن میں 20 بڑے اینکرز بھی شامل ہیں۔ یعنی ہماری تقریباً تمام صحافتی برادری اس پاکستان دشمن ادارے میں جانے کے لیے بے چین ہے۔

I am freelance journalist cloumnist Blogger Researcher Politicial Anylst Writter

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!