افسانے

سوہنی دھرتی قسط نمبر 1

روہان تمہاری آمی کو فون آیا ہاں آرہا ہوں- امی جی اگر میں سرحد پر بھی ہوا تو یقیناً آپ نے وہاں بھی فون گھما لینا ہے- اچھا جی جب خود باپ بنو گے تو پوچھوں گی – ارے آمی جی باپ تو تب بنوں گا نہ جب آپ میرے بارے میں کچھ سوچیں گی- اپنی بھتیجی کے ہاتھ پیلے کریں تو کچھ بنے گا نا- بڑے بے شرم ہو ماں سے کوئی ایسی بات کرتا ہے -تو اور کیا؟ سال بھر ہوگیا ہمارے نکاح کو اور آپ ہیں بس ! میرا تو بس چلتا تو سال پہلے ہی رخصت کر کے لے آتا –

کچھ شرم کرو بچی پڑھ رہی خبر دار جو اسکی محنت کے درمیان آئے- تو میں نے کونسا منع کردیا پڑھنے سے- شادی کے بعد میری اجازت سے پی ایچ ڈی کرلے- بس باتیں بنانے آتی ہیں- اب جلدی سے چھٹی پر کب آرہے ہو؟ بس امی اگلے ماہ چھٹیاں کنفرم ہوگئی ہیں انشاللہ جلد آجاؤ گا تو چلو ٹھیک ہے خیر سے آؤ- چلو میں رکھتی ہوں- ابو کو میرا سلام دیجیے گا اور زرا میری جوانی پر بھی غور کر لیجیے گاچپ بےشرم- اچھا امی اپنا بہت زیادہ خیال رکھیں گا میں بس اگلے ماہ آجاؤ ں گا انشاء اللہ – ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافظ -جی جناب کیا سنا رہے تھے آپکے صاحب زادے آپکو سلام کہے رہے تھے وعلیکم السلام اور آنے کا کچھ بتایا جی اگلے ماہ -چلو اچھی بات ہے اب آپ ذرا ہم پر مہرباں ہوجائیے- کھانا لگوائیں- ایک تو ذرا صبر نہیں ہوتا آپ سے- خوب کہی آپ نے ماں بیٹے کی محبت میں گھنٹے بھر سے انتظار کررہا ہوں- اب بھی آپ یہ کہیں گئی- بہت خوب- اچھا نہ بس بولتی ہوں خان بھائی کو-

ہاں جی روہان صاحب ہوگئی بات امی سے؟ ہاں بتایا اگلے ماہ کی چھٹی کنفرم ہے- تمہاری میری کیوں ہماری چھوٹی کنفرم ہے شہزاد تم میں اور مجھ میں کوئی فرق ہے کیا پہلے امی تم سے بات کرتی ہیں آج تم ڈیوٹی پر تھے- امی سے بات کرلینا تم میرے دوست نہیں بھائی سے بڑھ کر ہو- تو کیا ہمیشہ بتانا لازمی ہے کیا ؟اچھا اور دل کی باتیں بھی ہوئی؟ بولا تو ہے مگر محترمہ ابھی پڑھ رہی ہیں انکا شوق مکمل ہوگا تو کچھ ہوگا -پہلے نکاح کروانے کے لیے پاپڑ بیلے – اچھا کونسے؟ ایسے کیا دیکھ رہا ہے- چاول کے بیلے ہیں- بس چاول کے پاپڑ پر تو اتنی محنت نہیں لگتی؟ ہاں تجھے ذیادہ پتا ہے نہ؟ اچھا نہ اتنا غصہ کیوں کررہا بھابھی سے بھی بات کرلیتا جتنی بات ہوتی ہے نہ اتنی بھی غنیمت ہے اس سے بڑھ گئی نہ تو ذیادہ پیشی یونی ہے- اچھا چل بہت محبت کرتا ہے ؟ظاہر ہے بہت چاہتا ہوں بہت عزیز ہے- مجھے اسکی خوشی اطمینان مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہے -چل ڈیوٹی پر لگ جا -ہاں ہر ذمہ داری جان سے بڑھ کر پیاری ہے اور یہ فرض روح کی غذا ہے جو تاحال جاری ہے،اور پوری عمر پوری زندگی

دو ماہ بعد۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!