ادب

نام اور اس کا اثر

نام اور اس کا اثر
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے مرد اور عورت ہونے میں اس کی کیا مصلحت کارفرما ہے ۔ہم اپنے پسندیدہ جینیاتی مادے میں ڈھل کر نہیں آتے اور نہ ہی ہمارے ماں باپ اپنی پسند کی تخلیق پر قادر ہوتے ہیں صرف خواہشات ہمارے اندر پلتی رہتی ہیں جیسے میری پیدائش سے پہلے میری والدہ کی بہت خواہش تھی کہ ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو حالانکہ میرا بھائی موجود تھا پر وہ چاہتی تھیں کہ اس کی جوڑی بن جائے اور شاید ان کی یہ خواہش اتنی شدید تھی کہ اس کے اثرات جسمانی طور پر تو نہیں پر نفسیاتی طور پر مجھ میں ضرور منتقل ہوئے ۔

بارہ سال کی عمرتک آؤنگا جاؤنگا کھاؤں گا پیونگا کرتی رہی ۔میرے والد کو میرا یہ انداز بہت پسند تھا وہ ہمیشہ میرے بال بھی لڑکوں جیسے ہی کٹواتے تھے اور لباس مجھے پینٹ شرٹ پسند تھا تو کبھی فراکیں پہننے پر مجبور نہیں کیا تیرہویں سال میں جب رشتہ آیا تو گھر والوں کی طرف سے سختی کی جانے لگی کہ لڑکی ہو لڑکی والا برتاؤ کرو۔ پھر جیسے تیسےعادتیں کم ہوتے ہوتے ختم ہوگئیں ۔پھر انہیں دنوں ایک سوال نے میرے اندر جنم لیا میری والدہ نے مجھے بتایا تھا کہ ہمارے ناموں کا ہماری زندگیوں پر اثر ہوتا ہے پر جب میں نے ان کی زندگی پر غور کیا تو یہ بات بالکل بے معنی سی لگی کہ ان کے نام کا مطلب تو سکون اور چین تھا پر ان کی زندگی میں مجھے کہیں سکون اور چین نظر نہیں آیا . پرجب سے یہ سوال میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا کہ میرے نام کا میری زندگی پر کیا اثر ہے زندگی کے مختلف ادوار میں جب میں خوشیوں کے باغوں سے گزری اور جب دکھوں کے صحرا بھی پار کیے تب جگہ جگہ یہ سوال میرے سامنے آتا رہا مجھے لگتا میرے نام کا مطلب تو روشنی ہے پھر کیوں میری زندگی اندھیرے غاروں میں پناہ گزین ہے؟میری شادی کے کافی سال بعد میرے میاں کے ایک جاننے والے ہم سے ملنے آئے ان دنوں میں ایک بڑے جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ تھی ۔

ان صاحب کا اصلی نام تو یاد نہیں پر میرے دیور جیٹھ سب انہیں لاچو بھائی کہہ کر پکاررہے تھے وہ کوئی ہمارے رشتہ دار نہ تھے ان کا تعلق کرشن نگر سے تھا اور وہاں وہ میرے سسرال کے پڑوس میں رہتے تھے انتہائی غربت زدہ حالات تھے اکثر ان کے گھر کھانا میری ساس اور پھوپی ساس کی طرف سے جاتا تھا اور ان کے لیے میرے سسرال کے دروازے آج بھی کھلے ہوئے تھے ۔بچپن میں ان کے ساتھ کئے گئے اس اچھے سلوک نے انہیں آج بھی ان لوگوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا ۔ورنہ تو حالات زمانہ نے اب انہیں زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا تھا ۔ تاہم وہ ایک پراسرار شخصیت کے مالک تھےبقول ان کے انہیں مدینے سے ایک بزرگ شخصیت کی رہنمائی حاصل تھی اور یہاں کراچی میں ہل پارک پر عالماوں کی علمائیں ان سے ٹریننگ حاصل کرنے اتی تھیں اور وہ انہیں چیتا چال چلو اتے تھے یعنی ہتھیلیوں اور گھٹنوں کے بل کی جانے والی فزیکل ایکسرسائز۔ممکن ہے اس بات میں کوئی حقیقت نہ ہو پر جس انداز سے انہوں نے بیان کیا تھا اس پر ہم سب کا کامل یقین ہو گیا تھا ۔ وہ پی سی سے ہمارے لئے چار بہترین کیک لے کرائے تھے ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی جو بھی ان کے سامنے آیا

انہوں نے اس کے اندر کا احوال اسے بتانا شروع کر دیا وہاں موجود ہر شخص کو ان کی باتوں سے تجسس بھی ہوا اور خوف بھی کیونکہ کوئی بھی اپنے اندر کی کیفیت کو دوسروں پر واضح نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہر کسی کو اس کے نام کے حوالے سے بتا رہے تھے۔ تبھی وہ سوال پھر میرے اندر سے ابھر کر باہر آ گیا اور میں نے ان سے خود پوچھ لیا کہ ” میرے نام کا میری زندگی پر کیا اثر ہے ” تو کہنے لگے ” چاول کھانا چھوڑ دو جو بھی اثر ہے واضح ہو جائے گا ” اس وقت تو میں حیرت سے منہ کھولے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی رہی پر اب جب کبھی وہ بات یاد آتی ہے تو ہنسی ہی آتی ہے ۔ابھی چند دن پہلے کسی نے مجھے بتایا ہے کہ کھانے اور شخصیت کا سمبندھ ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے سائنس کو سمجھنا پڑتا ہے ۔ بات سمجھ آگئی لیکن زندگی پر نام کا اثر ابھی بھی سمجھ نہیں آیا تھا دو روز قبل میری ایک تحریر ر ” نیت اور عمل ” پر ایک صاحب نے کمنٹ کیا کہ ” محترمہ آپ کے والدین نے آپ کا بہت عمدہ نام رکھا ۔آپ کی باتیں شب تاریک میں روشنی کی کرن ہیں “. یہ بات پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میری ذات پر میرے نام کا اثر شاید ایسا ہی ہے جیسے چاند پر سورج کی روشنی کا . بذات خود چاند کو محسوس نہیں ہوتا پر انسانوں تک اسکی روشنی پہنچتی ہے ۔

اس بات سے مجھے قطعاً اپنی تعریف مقصود نہیں ہے۔ پر مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے بہت اچھے اچھے نام رکھتے ہیں تاکہ ان کی زندگی پر ان اچھے ناموں کے اچھے اثرات مرتب ہوں پر لوگ اپنے نام کے مطلب سے تو واقف ہوتے ہیں پر اس کے اثر سے واقف نہیں ہوتے اگر ہم اپنے اچھے ناموں کے اثرات اپنی زندگی میں تلاش کرنے کے قابل ہو جائیں تو شاید ہم اپنی زندگی سے کچھ برے اثرات دور کرنے کے بھی قابل ہوجائیں ۔ اپنی زندگی پر اپنے نام کا اثر تلاش کرنا ہماری زندگی کے اچھے برے پہلو ہمارے سامنے لے آتا ہے لوگوں کی تنقید ہمارے لئے مؤثر ہوتی ہے اور اکثر مضر بھی ہو جاتی ہے پر خود ہمارا ضمیر جو ہم پر تنقید کرتا ہے وہ ہمیشہ ہماری اصلاح کا باعث بنتا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ” وہ ہمیں اپنی اصلاح کرنے والا بنائے اور ہماری اچھی باتوں اور اچھے اعمال سے لوگوں کو آسانیاں پہنچانے والا بنائے آمین ۔ “.

از—کرن نعمان

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!