اسلامک

اسلام میں خانقاہی نظام کا تاریخی پس منظر

اسلام میں خانقاہیت کا رجحان دیگر مذاہب میں صوفیاء کے خود اختیاری عمل کے ذریعہ پیش آیا.مسلمانوں میں خانقاہوں کا رحجان چوتھی صدی ہجری میں ملتا ہےسب سے پہلی خانقاہ ملک شام میں رملہ کے مقام پر ہے جو ایک عیسائی رئیس نے تیار کروائی تھی .اس کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ عیسائی رئیس شکار کے لیے جنگل میں گیا اس نے جنگل میں دیکھا کہ دو مسلمان ضیعف انسان ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہیں اس نے دیکھا ان دونوں کے پاسں کھانے پینے کا جو سامان تھا اسے ان دونوں نے مل کر کھایا.پھروہ دونوں اپنے اپنے راستے پر چل پڑے.عیسائی بہت حیران ہواپھر اس نے ان دونوں سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا :ہم تو طریقت کے بھائی ہیں تو وہ ان دونوں سے بہت متاثر ہوا ان بزرگوں سے متاثرہو کر اس عیسائی رئیس نے خانقاہ بنوائی۔

اسلام سے پہلے یہودیت ،عیسا ئیت اور دیگر غیر اسلامی مذاہب میں روحانی روئیدگی کا تصور موجود تھا جس کے حصول کے لیے وہ مختلف قسم کی ریاضتیں کرتے تھے نیز نفس کشی کے لیے ان کے ہاں مختلف قسم کی مشقتیں اختیار کی جاتیں.جس طرح ان میں سے ہر ایک کا نصاب تربیت جداگانہ تھا ۔ایسی ہی وہ جگہیں جو عبادت کے لیے مخصوص کی گئ ان کے خطےبھیالگ الگ تھے کسی نے غار کو اپنامقام بنایا کسی نے درخت کوکسی نے جنگلوں کی راہ اختیار کی تو کسی نے دریاؤں کے کنارے پر خیمہ لگا کر اپنے مقصد کے حصول کی کو شش کی.بعد میں یہ عبادت گاہیں بڑی بڑی عمارتوں کی شکل اختیار کرگئ-برصغیر پاک و ہند میں اولیاء کرام نے دین اسلام کی بے پناہ خدمت کی ان ہی علماء کے نیک بندوں کی وجہ سے لاکھوں ہندوستان کے لوگوں نے دین اسلام قبول کیا اور یہی لوگ اس خطے میں دین اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے برصغیرمیں خواجہ معین الدین چشتی سب سے بڑے عظیم بزرگ جانے جاتے تھے ہندوستان میں نوےلاکھ سے زیادہ لوگوں نے خواجہ معین الدین چشتی کی وجہ سےدین اسلام قبول کیا برصغیرکے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر دوران حکوم ایک بار خواجہ معین الدین چشتی کے مزار سے اجمیر شریف میں حاضری دینے گےمزارکے دروازے پر پہنچے تو ایک نابیناانسان کو دیکھا جوان سے اپنی بینائی مانگ رہا تھا۔

عالمگیر رکا اس کی طرف رجوع ہوااور کہا کہ میں روزے پر حاضری دی کر واپس آتا ہوں اس دوران اگر تمہیں نظر نہ ملی تو میں تمہارا سر قلم کردونگا۔ تھوڑی دیر بعد جب عالمگیرلوٹ آیا تو وہ نابینا شخص پرمسرت بیٹھا ہوا تھا جسے بینائی مل چکی تھی عالمگیر اسے دیکھ کرتعجب میں آگیا اوراسےیقین ہوگیا تو اس کے بعد اس شخص کوتحفہ تحائف سے نوازا گیا۔ اس دنیا میں حکومت کے دو نظام چل رہے ہیں ایک ظاہری دنیا کا نظام جیسے جمہوریت،حکومت۔ دوسرا باطنی روحانی دنیا کا نظام ہے جو تصوف کی راہ کو ہموار کرتا ہے اس روحانی حکومتی نظام میں چارسلسلے ہیں سلسلہ قادریہ، سلسلہ چشتیہ، سلسلہ نقشبندیہ اور سلسلہ سہروردی نظام ہیں۔ چاروں سلسلے عشق و مستی کے اس روحانیت کےنظام میں اس قدر مزاج ہے کہ عام آدمی بھی درجے پر پہنچ سکتا ہے۔اولیاء کرام بھی اس روحانیت کے جذبہ سے محنت کرکے اس روحانی اقتدار کےعالم بنے تھے اور ان کے شاگرد بھی سچے عقیدے اورپرہیزگار لوگ تھے، پھر ایک زمانہ ایسا آیا کہ ا وہ لوگ جو روحانیت سے ناواقف تھے خود کوسچے صوفی ودرویش کہلانے لگےان لوگوں نے جعلی درویشی اور فقیری کے نام پے دین اسلام کو نقصان پہنچایا معصوم لوگوں پیسے کے نام پے لوٹتے رہے ایسا جعلی صوفیا کرام کا سلسلہ آج بھی موجودہے اور ان کے خلاف ہرزمانے میں اسلام کےسچے ولی آتے رہے، ہر دور میں اللہ کے ایسےبرگزیدہ لوگوں نے ایسے جعلی درویش لوگوں کی مخالفت بھی کی ۔

دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا کارنامہ مختلف ممالک میں صوفیاء کرام ہی کی ہی تبلغی کامیابی کی بدولت ہےانہی صوفیاء کرام کی وجہ سے ہرطرف اسلام پھلتا چال گیا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اولیاء کرام اور صوفیاء کرام کی بے انتہا عقیدت و محبت اور احترام کا جذبہ طوفان خیزہے-خانقاہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس کوخالص ،پرہیزگاری اور خدا ترس ،مخلوق خدا کا حقیقی اور صدق خیر خواہ بنانے کی ترتیب دی جاتی تھی اس نے بر صغیرکی تہذیبی ،سماجی اور معاشرتی,سیاسی معاشی اور اخلاقی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کئے اور لوگ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔

I am work in social worker

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!