اسلامک

آؤ فلاح کی طرف

رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔ وہ بستر پر لیٹا چھت پر لگے پنکھے کو گھور رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اپنی زندگی کے25 سالوں میں ،میں نے کیا پایا۔ صرف رسوائی ،ذلت،انکار، دھتکار بس۔۔۔۔ کچھ اچھا نہیں جو میری زندگی میں ہوا ہو ۔ بر کسی نے استعمال کیا مجھے ۔
اپنے انٹرویو سے واپس آ کر اس نے خود کو کمرے میں بند کر دیا جہاں اسے یہ کہہ کر جاب دینے سے انکار کر دیا گیا کہ وہ غریب ،چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص ہے اور ہماری کمپنی میں نہیں چل سکتا هے ۔ عجب سی کیفیت تھی۔ زلت ہی زلت۔ اس جاب سے پہلے بھی اسے بہت سے شعبوں میں کام کرنے سے منع کر دیا گیا تھا کہ وہ ایسے غربت بھرے حالات میں اگے ترقی نہیں کر پائے گا ۔وہ محض ایک بوجھ ہو گا۔ اس نے اپنے ماں باپ کے لیے کچھ نہ کیا۔وہ ڈپریش میں جا رہا تھا ۔ اسے اپنا دم گھٹتامحسوس ہوا۔تنگ آ کر وہ اٹھا دوست کو کال کی اور اس کی گاڑی مانگی، دوست نے انکار نہیں کیا اس نے گاڑی لی اور مری کی جانب روانہ ہو گیا ۔ وہ بہت رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا ۔ اس کو کوئی ہوش نہ تھا کہ مری کے راستے میں آنے والے خطرناک موڑ اس کے لیے جان لیوا ہو سکتے ہیں مگر یہاں جان کی پرواہ کسے تھی۔وہ تو بس گاڑی چلا رہا تھا ۔ آنکھوں سےآنسو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔ مری پہنچ کر سب سے پہلے وہ مال روڈ کی طرف چل دیا۔ گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی اور پیدل چلنا شروع کر دیا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا بس وہ بنا منزل آگے بڑھتا رہا اور اللہ سے شکوے کرتا چلا گیا کہ راستے میں اسے فجر کی اذان کی آواز سنائی دی۔اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر اسے لگا وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا ۔ وہ غیر متوقع طور پر مسجد کی طرف مڑ گیا ۔ آؤ فلاہ کی طرف۔ آؤ فلاہ کی طرف۔
مؤذن کی آواز آ رہی تھی ۔ وہ مسجد کی جانب بڑھا اور وضو کرنے لگا۔ وہ اپنے آپ میں ہی گم تھا ۔ اسے مری کے برف کی طرح ٹھنڈے پانی سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔ نماز کے بعد فارغ ہو کر وہ نکلنے لگا تو مؤذن نے اسے بلا لیا اور پوچھا میں نے کبھی تمہیں یہاں نہیں دیکھا ۔ اس نے اپنے آپ کو بہت کنڑول کرنے کی کوشش کی مگر نہ کر پایا اور بے اختیار رونے لگا اور موذن کو خود پر گزری ساری داستاں سنا ڈالی۔ الله کے اس نیک بندے نے لڑکے سے پوچھا کہ کیا تم نماز پڑھتے ہو ۔ اس نے بولا فجر اور عشاء کے علاوہ سب پڑھتا ہوں ۔ مؤذن ہنسا اور اسکو سمجھایا۔ لڑکے نے وعدہ کر لیا کہ اب وہ باقاعدگی سے نماز پڑھے گا اور اسی کشمکش میں وہ گھر کی طرف لوٹ آیا اور نمازیں شروع کر دی۔۔ اور پھر یونہی کچھ دنوں بعد ہی اسکو ایک اعلیٰ عہدے کی جاب بھی مل گئی-

/” وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے..” />

Related Articles

4 Comments

  1. مایوسی کفر ہے- یہ وہ فقرہ ہے جسے ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں مگر آپ کی تحریر پڑھنے کے بعد مجھے واقعی یہ احساس ہوا کہ ہمیں حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے (نماز کے ذریعے)- جزاک اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button