پراپرٹی

Your 101 on Pakistan’s Rental Laws

پاکستان کے رینٹل قوانین پر آپ کا 101۔

پاکستان کا اصل کرایہ کا قانون 1959 کا ہے جب اسے 1956 میں پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا (اس وقت سرحد) کو ایک یونٹ میں ضم کرنے کے بعد آرڈیننس کے طور پر منظور کیا گیا تھا۔ اب ملک کےمختلف صوبوں میں کرائے کے پانچ سے زائد قوانین فعال ہیں

تاہم یہ تمام قوانین مغربی پاکستان میں اربن کرایہ پر پابندی آرڈیننس 1959 پر مبنی ہیں۔ یہ قانون اس وقت تک نافذ العمل رہا جب تک پاکستان ایک یونٹ نہ رہا اور پھر ہر صوبے نے ان کو الگ الگ ترامیم کے ساتھ اپنایا ، جہاں ان کی متعلقہ صوبائی اسمبلیوں نے مناسب سمجھا۔ . اس بلاگ میں میں قوانین کا موازنہ کروں گا اور ان کے اختلافات کی نشاندہی کریں گے۔

پاکستان میں کرائے کے قوانین
ملک بھر میں کرایہ کے پانچ قوانین ہیں

نمبر1:اسلام آباد کرایہ پر پابندی آرڈیننس 2001
نمبر2:شمال مغربی سرحدی صوبہ/بلوچستان شہری کرایہ پر پابندی آرڈیننس 1959۔
نمبر3:سندھ رینٹڈ پریمائز آرڈیننس 1979۔
نمبر4:پنجاب رینٹڈ پریمائزز ایکٹ 2009۔
نمبر5:کنٹونمنٹ کرایہ پر پابندی ایکٹ 1963

کرایہ کا معاہدہ
ایک مناسب تحریری کرایہ کا معاہدہ چاروں صوبوں میں قانون کا تقاضا کرتا ہے۔ 1959 کے اصل مغربی پاکستان شہری کرایہ پر پابندی آرڈیننس کے تحت اسکی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا ، وہ صوبے جو اب بھی قانون کا اطلاق کرتے ہیں ان میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہیں – اصل میں ان کے قوانین میں ضرورت نہیں تھی۔ دونوں صوبوں میں کرائے کے بلڈنگ ایکٹس کی پابندی کی وجہ سے اب یہ بدل گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کرائے کا معاہدہ (کسی بھی صوبے میں) ایک سال سے زائد عرصے کے لیے لاگو ہوتا ہے ، اگر یہ 1908 کے رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت تحریری اور رجسٹرڈ نہیں ہے تو یہ باطل ہے۔

کرایہ کی ادائیگی۔
تمام صوبوں میں کرایہ داری معاہدے کی شرائط کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔ تاہم ، جہاں ادائیگی کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے ، اسے درج ذیل شیڈول کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔

پنجاب اور سندھ: مہینے کی 10ویں تاریخ

اسلام آباد ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان: مہینے کی 15 ویں تاریخ

عدالتی اتھارٹی
کرایہ دار اور مکان مالک کے درمیان کرائے کے تنازعات سے متعلق کسی بھی معاملے کو حل کرنے کے لیے مقرر کردہ عدالتی اتھارٹی مندرجہ ذیل ہیں۔

پنجاب: کرایہ ٹربیونل

اسلام آباد ، سندھ ، خیبر پختونخوا ، بلوچستان: کنٹرولرز آف رینٹس۔

فیئر کرایہ
پنجاب رینٹڈ پریمائزز ایکٹ ، اس قانون کے برعکس جو منسوخ کر دیا گیا ہے (پنجاب اربن رینٹ ریسٹریکشن آرڈیننس ، 1959) ، مناسب کرایہ کے تعین کے لیے کوئی طریقہ متعین نہیں کرتا۔ یہ کرایہ دار اور مالک مکان کو باہمی معاہدے کے مطابق کرایہ کی شرح کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح ، یہ کرائے میں اضافے کو بھی محدود نہیں کرتا ہے۔ تاہم ، یہ کرایے کی شمولیت اور کرائے کے معاہدے میں کرایہ بڑھانے کی شرح کو لازمی قرار دیتا ہے ، جسے رجسٹرار آف کرایوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں عام طور پر ہر سال کرائے میں 10 فیصد اضافہ کرنا ہے۔

اسلام آباد ، سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ، کنٹرولر مالک مکان یا کرایہ دار کی درخواست پر منصفانہ کرایہ کا تعین کر سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ، کرائے پر معاہدے کے بعد تین سال تک کرایہ میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ مالک مکان عمارت میں بہتری نہ لائے۔ تاہم ، تین سال کی مدت کے اختتام پر ، کرایہ خود بخود 25 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

سندھ میں ہر سال کرائے میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر مناسب کرایہ کا تعین کیا گیا ہو تو تین سال کی مدت کے لیے کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا قانون کہتا ہے کہ منصفانہ کرایہ کا تعین کنٹرولر کرے۔ یہ بھی فراہم کرتا ہے کہ کرایہ معاہدے کے بعد تین سال کی مدت کے لیے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ، یہ احاطے میں ہونے والی بہتری کی وجہ سے کرائے میں اضافے کی اجازت دیتا ہے۔

ٹینینسی کا اختتام
کرایہ داری ختم ہونے کی وجہ پر ایک نظر ڈالیں ، اور کرایہ دار کو بے دخل کیا جاسکتا ہے:

پنجاب میں۔

جب کرایہ داری کی مدت ختم ہو چکی ہو۔
کرایہ دار کی جانب سے وقت پر کرایہ ادا کرنے میں ناکامی۔
کرایہ داری معاہدے میں بیان کردہ شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی۔
مکان مالک کی رضامندی کے بغیر احاطے کو سلب کرنا۔
پنجاب رینٹڈ پریمیسز ایکٹ کے سیکشن 13 میں بیان کردہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی۔ یہ شامل ہیں:
احاطے کو اچھے حالات میں رکھنا۔
اسے اس مقصد کے لیے استعمال کرنا جس کے لیے اسے کرائے پر دیا گیا تھا۔
مالک مکان کو معائنہ یا مرمت کے مقصد کے لیے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دینا۔
پڑوسیوں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بننا۔
زمیندار کی تحریری اجازت کے بغیر احاطے میں ساختی تبدیلی نہ لانا۔

سندھ میں۔

بے دخل کرنے کی بنیادیں سندھ میں کم و بیش ایک جیسی ہیں جیسا کہ وہ پنجاب میں ہیں۔ تاہم ، سندھ رینٹڈ پریمائزز آرڈیننس 1979 بے دخلی کے لیے کچھ اضافی بنیادوں کی فہرست دیتا ہے ، بشمول:

احاطے کا قبضہ کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا۔
اس طرح کے اقدامات کرنا جو ممکنہ طور پر احاطے کی مادی قدر یا افادیت کو نقصان پہنچائے۔
مالک مکان کرایہ داری کے تحت عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے یا اس کے ساتھ نئی تعمیر کرنے کی ضرورت سمجھے تو کر سکتاہے۔ تعمیر نو یا نئی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ، کرایہ دار قبضہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

Your 101 on Pakistan’s Rental Laws

Pakistan’s original rental law dates back to 1959 when it had been passed as an ordinance after Punjab, Sindh, Balochistan, and Khyber Pakhtunkhwa (then NWFP) were consolidated into one unit in 1956. There are now quite five rental laws active within the country in different provinces.

All these laws, however, are supported by the west Pakistan Urban Rent Restriction Ordinance 1959. This law was in effect until Pakistan remained one unit and so was adopted by each of the provinces with their separate amendments, where deemed appropriate by their respective provincial assemblies. during this blog, I will be able to compare the laws and entails their differences.

THE RENTAL LAWS IN PAKISTAN
The five rental laws applicable throughout the country are:

  • Islamabad Rent Restriction Ordinance 2001
  • The North-west Frontier Province/Balochistan Urban Rent Restriction Ordinance 1959
  • Sindh Rented Premises Ordinance 1979
  • Punjab Rented Premises Act 2009
  • Cantonment Rent Restriction Act 1963

RENT AGREEMENT
A proper written rent agreement is a requirement of law all told four provinces. it had been not a requirement under the first Pakistan Urban Rent Restriction Ordinance of 1959. So, the provinces which still apply the law — Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan — didn’t originally have the need in their laws. This has now changed thanks to the Restriction of Rented Building Acts in both provinces.

It is also worth noting that if a rental agreement (in any province) is applicable for more than one year, it stands invalid if it’s not written and registered under section 17 of the Registration Act of 1908.

PAYMENT OF RENT
Rent altogether provinces must be paid in keeping with terms of the tenancy agreement. However, where there’s no date fixed for payment, it’s to be paid per the subsequent schedule:

  • Punjab and Sindh: 10th of the subsequent month of the date that it’s due.
  • Islamabad, Khyber Pakhtunkhwa and Baluchistan: 15th of the month that it’s due.

THE JUDICIAL AUTHORITY
The judicial authority appointed to resolve any case referring to rental disputes between the tenant and landlord within the first instance is following:

  • Punjab: Rent Tribunal
  • Islamabad, Sindh, Khyber Pakhtunkhwa, Balochistan: Controller of Rents

FAIR RENT
Punjab Rented Premises Act, unlike the law it repealed (Punjab Urban Rent Restriction Ordinance, 1959), doesn’t define any method for determining a good rent. It allows the tenant and landlord to work out the speed of rent in line with mutual agreement.

Similarly, it doesn’t limit the rent increase either. However, it does make the inclusion of rent and therefore the rate of rent enhancement within the rental agreement mandatory, which has got to be registered with the Registrar of Rents. It must be noted that the final practice in Punjab is to extend rent by 10% annually. Islamabad, Sindh, Khyber Pakhtunkhwa, and Balochistan, the Controller can determine the fair rent on the applying of a landlord or tenant.

In Islamabad, the rent can not be increased for a period of three years after the agreement on rent unless the owner makes an improvement within the building. At the end of the three-year period, however, the rent stands automatically enhanced by 25%. In Sindh, the rent can not be increased by over 10% every year in any case. And there are often no increase for a period of three years if a fair rent has been determined.

Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan’s law holds that fair rent is to be determined by the controller. It also provides that the rent can’t be changed for a period of three years after the rent agreement. However, it allows for increase in rent because of improvements made on the premises.

END OF TENANCY
Have a glance at the reason the tenancy may come to an end, and a tenant is also evicted:

In Punjab

  • When the period of tenancy has expired.
  • Failure on a part of the tenant to pay rent on time.
  • Breach of terms and conditions outlined within the tenancy agreement.
  • Subletting the premises without the consent of the owner.

Breach of the obligations outlined in Section 13 of Punjab Rented Premises Act. These include:

  1. Keeping the premises in good condition.
  2. Using it for the aim that it had been rented out.
  3. Allowing the owner to enter premises for the aim of inspection or repair
  4. Not causing a nuisance to the neighbours
  5. Not causing a structural change within the premises without landlord’s written consent.

In Sindh

The grounds to evict are more or less identical in Sindh as they’re in Punjab. However, the Sindh Rented Premises Ordinance 1979 lists some additional grounds for eviction, including:

  • Handing over possession of the premises to another person.
  • Taking such actions that are likely to impair the material value or utility of the premises.
  • The landlord requires the building under tenancy to reconstruct it or to create a replacement construction together with it. After the reconstruction or the new construction is complete, however, the tenant can apply to own the possession of the premises back. He can apply to the controller to permit him to possess such area of the building as could also be suitable for the rent he was paying earlier. However, this needs to be done before some other person occupies the building.
  • The landlord requires the building for his own use – or that of his spouse or children.

A landlord can demand eviction to use the premises personally:

  1. If the owner could be a widow;
  2. or, an orphaned minor both of whose parents are dead;
  3. or, retired, or will retire within the next six months;
  4. or, 60 years old or are going to be within the next six months

However, if the owner was already a widow, minor, retired, or 60 when the premises were rented out, the latter ground(s) can’t be wont to evict a tenant. Similarly, the availability can not be utilized if the owner already owns a premise for personal use.

In Islamabad, Khyber Pakhtunkhwa, and Balochistan the laws include all the grounds mentioned for Punjab and Sindh, with one addition being the death of the owner. during this case, the widow or minor children of the owner can apply to the controller for the eviction of a tenant from the rented premises, if it’s required for personal use.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!