اسلامک

All About the Glorious Wazir Khan Mosque

شاندار وزیر خان مسجد کے بارے میں

وزیر خان مسجد 17 ویں صدی کی مغل دور کی مسجد ہے جو شہر میں عبادت کے بنیادی مقام کے طور پر اپنی جگہ برقرار رکھتی ہے۔ یہ دیواروں والے شہر یعنی اندرون لاہور کے دہلی گیٹ کے قریب اونچی کھڑی ہے ، ایک مصروف بازار سے گزرتے ہوئے ، جہاں آپ مسجد کی دیواروں کے ساتھ ساتھ گاہکوں کے رش میں سے ہوتے ہوئے مسجد تک پہنچ جاتے ہیں

وزیر خان مسجد کا ڈیزائن
وزیر خان مسجد کا ڈیزائن

مسجد کا تفصیلی اسلامی ڈیزائن اور فن تعمیر آپ کو اس وقت کی طرف لے جاتا ہے جب مسلمانوں نے برصغیر پر حکومت کی تھی۔ دیواروں کو سجانے کے لیے آپ کو پیچیدہ عمدہ نمونے ملیں گے – موزیک ڈیزائن جسے کاشی کیری ، فریسکو پینٹنگ ، کندہ پتھر اور اینٹوں کا آؤٹ لائن فریسکو (ٹازہ کاری) بھی کہا جاتا ہے جو مسجد کی انفرادیت میں اضافہ کرتا ہے۔ہم وزیر خان مسجد کی تاریخ پر نظرثانی کریں گے اور مسجد کے اسلامی فن تعمیر اور ڈیزائن کا جائزہ لیں گے۔ ہمارا آرٹیکل آخر تک پڑھیں اور لاہور کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک کا ورچوئل ٹور کریں!

وزیر خان مسجد کی تاریخ

وزیر خان مسجد کی تاریخ
وزیر خان مسجد کی تاریخ

یہ مسجد ایک بزرگ سید محمد اسحاق گزروانی کے قدیم مقبرے کے ارد گرد تعمیر کی گئی تھی ، جو میران بادشاہ کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے 13 ویں صدی میں ایران سے ہجرت کی اور ترک مسلم تغلق خاندان کے دور میں لاہور میں مقیم رہے۔ وزیر خان مسجد ایک بڑے کمپلیکس کا حصہ تھی جس میں بازاروں کی ایک قطار شامل تھی جہاں خطاط اور کتاب کے باندھنے والے مقدس کتابوں کی مرمت کرتے تھے اور قرآنی آیات پینٹ کرتے تھے۔تاہم ، وقت کے ساتھ ساتھ کیلی گرافر کا بازار بڑھا اور وہاں اب دیگر تاجر مصالحے اور دیگر اشیاء فروخت کر نے لگے تھے۔ ان منڈیوں سے حاصل ہونے والی کمائی مسجد کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اب تک آپ کو لاہور کی تاریخی مسجد کے ارد گرد بہت سی دکانیں نظر آئیں گی جو کہ وزیر خان مسجد کی خصوصیت ہیں۔

وزیر خان مسجد کی تعمیر 1634 میں شروع ہوئی۔جو کہ قلعہ لاہور سے تھوڑی ہی دوری پرواقع ہے ،وزیر خان مسجد بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ شہنشاہ شاہجہان وزیر خان مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھتا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر خان مسجد رائل ٹریل سے گزرتی ہے ، جو دیواروں والے شہر یا اندرون لاہور کے دہلی گیٹ سے 1.6 کلومیٹر لمبی سڑک ہے۔ کئی مغل شہنشاہ گھوڑوں پر سوار ہو کر دہلی گیٹ سے لاہور کے قلعے تک پہنچے۔مغل دور کی مسجد مستطیل ہے ، جس میں چار مسلط مینار ہیں ، جو مرکزی صحن کے کونوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ آئیے وزیر خان مسجد کے ڈیزائن پر مزید تفصیل سے بات کریں۔

وزیر خان مسجد کا ڈیزائن

وزیر خان مسجد کا ڈیزائن
وزیر خان مسجد کا ڈیزائن

کسی بھی دوسری مسجد کی طرح اس کے بھی چار مینار ہیں جو ایک بڑے صحن کے کونے کونے کو منفرد کرتے ہیں اور اس کی شان و شوکت میں اضافہ کرتے ہیں۔ وزیر خان مسجد کا ڈیزائن مغل دور کے فن تعمیر اور سٹائل کا خاصہ ہے ، جس میں اینٹوں اور ٹائلوں سے دیواریں سجی ہوئی ہیں۔ مسجد کا دروازہ ایک بڑے ایوان سے ہوتے ہوئے گزرتا ہے جس کا رخ وزیر خان چوک سے جاتاہے۔ ایوان کے اوپر ایمان کا اسلامی اعلان لکھا ہوا ہے۔داخلی دروازے کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور بمقابلہ قرآن پاک کی آیات سے سجایا گیا ہے ۔ ایک گنبد کا تاج پہنے ہوئے پانچ کمپارٹمنٹ ہیں جو ایک بڑے صحن پر کھلتے ہیں۔ مرکزی ہال سب سے بڑا دعائیہ ہال ہے ، جو فارسی تعمیراتی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔

بڑا گنبد چار محرابوں پر ٹکا ہوا ہے ، جو ایک مربع پویلین بناتا ہے – جسے عام طور پر چار طاق کہا جاتا ہے۔ گنبد کے نچلے حصے کو پیچیدہ ڈیزائن کردہ فریسکو سے پینٹ کیا گیا ہے جس میں جنت کی اسلامی نمائندگی کی گئی ہے۔ وزیر خان مسجد کے بارے میں ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس وقت لاہور میں اپنی نوعیت کی پہلی مسجد تھی۔ بعد میں ، دوسری مسجدوں جیسے بادشاہی مسجد نے بھی اسی طرز پر عمل کیا۔وزیر خان مسجد میں مغل دور میں بننے والی تمام مساجد کا بہترین موزیک ٹائل کا کام ہے۔ قرآن کی آیات کو دیواروں کو سجا کر خطاطی کے خوبصورت کام کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ آپ کو پھولوں کے نمونے اور پیچیدہ ڈیزائن بھی ملیں گے جو امن اور روحانیت کا احساس دلاتے ہیں۔

وزیر خان مسجد کا ڈیزائن
وزیر خان مسجد کا ڈیزائن

خطاطی ، ہندسی اشکال ، فارسی شکلوں اور پھولوں کے نمونوں کا انوکھا امتزاج عمارت کو عظمت اور فراوانی کا منفرد احساس ہے۔

وزیر خان مسجد کا دورہ کیسے کریں
مسجد کا دورہ کرنا اس طرح سے انتہائی آسان ہے

دہلی گیٹ ، شہنشاہوں کے مشہور عوامی حمام (شاہی حمام) اور لاہور قلعہ کے قریب واقع ہے۔ آپ یا تو دیواروں والے شہر لاہور میں ایک گائیڈ کی خدمات لے سکتے ہیں یا اگر آپ کسی ٹور کا انتخاب نہیں کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت سے سائن بورڈ ملیں گے جو آپ کو مسجد کی طرف لے جائیں گے۔

مسجد وزیر خان میں جانے کے لیے کوئی خاص فیس نہیں ہے۔ تاہم ، آپ کو اس گارڈ کے لیے 20 روپے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں جو مسجد کے باہر آپ کے جوتے رکھتا ہے۔ ایک بار مسجد کے اندر جا کر ، آپ روحانیت کا بڑھتا ہوا احساس محسوس کریں گے۔ اپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ دیکھیں اور وزیر خان مسجد کے اس یادگار سفر سے لطف اٹھائیں۔

All About the Glorious Wazir Khan Mosque

Wazir Khan Mosque is that the most intricately decorated, 17th-century Mughal era mosque, which maintained its place because of the primary location of worship within the old city. It stands tall near the Delhi gate of the walled city of Lahore, leading through a busy bazaar, where you’ll be able to hear the blaring horns and quibbling voices of busy customers through the mosque’s walls.

The detailed Islamic design and architecture of the mosque take you back to the time when Muslims ruled over the subcontinent. you may find complicated fine patterns decorating the walls – mosaic design also called Kashi Kari, fresco painting, engraved stones, and brick outline fresco (Taza Kari) that increase the mosque’s uniqueness. We will revisit Wazir Khan Mosque’s history and explore the Islamic architecture and style of the mosque. Read our blog till the tip and take a virtual tour of 1 of the largest mosques in Lahore!

History of Wazir Khan Mosque
It was built around an ancient tomb of a saint Syed Mohammad Ishaq Gazrooni, who is more famously called Miran Badshah. He migrated from Iran within the 13th century and had lived in Lahore during the period of the Turkish-Muslim Tughlaq dynasty. Wazir Khan Mosque was a part of a bigger complex that included a row of bazaars where calligraphers and bookbinders were used to repairing holy books and paint Quranic verses.

However, with time the Calligrapher’s bazaar extended and there have been other merchants selling spices and other items. The earnings from these markets were used for the mosque’s maintenance. Until now, you’ll find many shops around the historic mosque in Lahore, which could be a characteristic feature of the Wazir Khan Mosque.

The construction began in 1634. A.D. Only a brief leave from the Lahore Fort, the mosque holds great significance because Emperor Shahjehan wont to offer his Friday congregational prayers in Wazir Khan Mosque. Interestingly, Wazir Khan Mosque leads through a Royal Trail, which is a 1.6 km road from the Delhi Gate of the walled city of Lahore. Many Mughal Emperors rode on horses through Delhi Gate to the Lahore Fort.

The Mughal-era mosque is rectangular, and measures about 282.7 x 165.4 feet, having four imposing minarets, which define the corners of most courtyards. allow us to discuss the look of Wazir Khan Mosque in additional detail.

Design of Wazir Khan Mosque
Like any other mosque, it’s four minarets that mark the corners of a large courtyard, adding to its opulence and grandeur. the planning of the Wazir Khan Mosque is most typical of the Mughal era architecture and magnificence, with bricks and tiles adorning the walls. the doorway of the mosque is thru an oversized Aiwan that faces the Wazir Khan Chowk. Above the Aiwan is written the Islamic declaration of religion.

The façade at the doorway is decorated with sayings of the Prophet PBUH and verses from the Quran. There are five compartments crowned by a dome that opens onto an oversized courtyard. The central hall is that the largest prayer hall, built along with Persian architectural standards. The large dome is resting upon four arches, which makes a square pavilion – more commonly referred to as Char Taq. The underside of the dome is painted with intricately designed frescos depicting Islamic representation of a paradise. you’ll see trees, platters of food being served with wine. Another interesting fact about the Wazir Khan Mosque is that it had been the primary of its kind mosque in Lahore at the time. Later, other mosques like Badshahi Mosque followed the identical pattern.

The Wazir Khan Mosque has the most effective mosaic tile work of all the mosques built during the Mughal period. The verses from the Quran are displayed as beautiful works of calligraphy adorning the walls. you’ll also find floral patterns and complex designs bringing a sense of peace and spirituality. The unique blend of calligraphy, geometrical shapes, Persian motifs, and floral patterns lends an unhindered touch of grandiosity and opulence to the building.

How to Visit Wazir Khan Mosque
It is easy to go to the mosque as a component of a three-stop trip: Delhi Gate, the renowned public baths of Emperors (Shahi Hammam), and Lahore Fort. you’ll be able to either hire a guide within the walled city of Lahore or if you’re choosing an unguided tour, then you may find many signboards which will direct you to the mosque.

There is no particular fee for visiting Masjid Wazir Khan. However, you would possibly have to pay PKR 20 for the guard who keeps your shoes outside the mosque. Once inside the mosque, you may feel an increased sense of spirituality. Watch history unfold before your eyes and revel in equally of this memorable trip to Wazir Khan Mosque.

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!