ادب

ایک ایسا انسان جو اچھا سیاست دان کے ساتھ ساتھ مردم شناس بھی تھا ؛ ویشنو گپت اچاریہ چانکیہ

کیا آپ جانتے ہیں کون تھے پنڈت ویشنو گپت اچاریہ چانکیہ
شاید ہی کوئی ایسا شخص بچا جو تواریخ اور سیاست جانتا ہو اور اس نے اچاریہ چانکیہ کی زندگی اور اس کی لکھی کتابوں سے واقف نہ ہو
ان کا پورا نام ویشنو تھا ان کے والد کا نام چنک ان کو چانکیہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ سنسکرت بھاشا میں بیٹے کو جب پکارا جاتا ہے ساتھ نام اس طر ح لگایا جاتا ہے ان کا پورا نام اس لکھا اور پڑھا جاتا ہے ؛پنڈت ویشنو گپت چانکیہ؛ ان کا جنم آج سے لگ بھگ 23سو سال پہلے بھارت کے دیش پاٹلی پتر ہوا جو آج پٹنہ یا بہار کے نام سے جانا جاتا ہے انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تکش شییلا گروکل جن کا نام بدل کر آج ٹیکسلا ہے وہاں سے حاصل کی
وہی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہی راج نیتی کے اچاریہ یعنی پروفیسر بنے پھر کچھ عرصہ بعد واپس اپنے شہر پاٹلی پتر لوٹ گئے اس وہاں کا راجہ دھنانند تھا جو کہ بہت ظالم قسم کا تھا اور ہمشیہ عیاشی میں لگا رہا تھا وہاں کے لوگ ان سے خوف زدہ تھے یہ وہ زمانہ تھا جب سکندر اعظم پوری دنیا جیتنے کے چکر میں یہاں آریا تھا۔
جب اچاریہ چانکیہ راجہ کو سمجھانے گئے کہ سکندر تیزی کے ساتھ بڑی فوج لیے ہم پر حملہ آ ور ہونے والا ہے تو راجہ دھنانند نے ان کی ہزاروں لوگوں کے سامنے بے عزت کیا تب چانکیہ نے اپنی کھلی چوٹی کو لے ( جس براہمن بال باندھتے ہیں)
کر قسم کھائی کہ وہ اس بے عزت کا بدلہ لے گا اور راجہ کو نیست و نابود کرکے کسی ایسے شخص کو راجہ بنائے گا جس سب کا بھلہ چاہتا ہو اور ذہین ہو
ان کی بہادری اور ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں آدمیوں کے سامنے کھلی چنوتی دی اتنے دانش مند شخص کس آج تک لوگوں نے بھلا دیا ہے
انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ اپنے آپ میں قابلیت کا حامل ہیں۔
جن میں دو کتابیں مشہور ہیں؛
ارتھ شاستر اور چانکیہ نیتی
چانکیہ نیتی ؛وہ کتاب ہے جن کو پڑھ کر زندگی جینے کے کئی طریقے ہیں اور ان کی نیتاں آج بھی
اگر ہم پڑھین تو سیدھا دماغ کو جا کر لگتی ہیں
ارتھ ساشتر ؛ارتھ شاستر نامی کتاب سے کون نہیں واقف یہ ایک ایسی کتاب ہے جن کا ترجمہ کئی زبانون میں ہوچکا ہے:
اچاریہ چانکیہ عقل مند ذہین تو تھے ہی سا تھ ساتھ بہت مردم شناس بھی تھے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی ان کو جان لیتے تھے
وہ سیاست آتی اچھی جانتے تھے کبھی کبھار جاسوسی کرنے کے لیے جاسوں کے پیچھے بھی جاسوس لگا دیتے تھے
ہمیں اتنے ذہیں اور عقل مند انسان کو پڑھنا چاہیے اور کچھ ان کی نیتوں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔۔

null

Jugta Panu

میں ہندی کا بیٹا ہوں مجھے ؛اردو؛ نے پالا ہے.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!