اسلامک

تکریمِ انس

تکریمِ اِنس

وَلَقَدْ کرّمنا بَنِی اٰدم (القران)
ترجمہ “اور پس ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی “
لَقَد خَلَقنَ الاِنسان فِی اَحسَنِ تَقوِیم
ترجمہ “پس ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا

انسان زمیں پر خدا کا نائب ہےاور خدائی احکامات کی پیروی کا پابند ہے. ہر انسان عزت کے درجے پر برابر کا حقدار ہے. انسان بہترین جوہری عناصر میں مربوط کیا گیا ہے. انسان پیدا بھی محبت کی فطرت پر ہوا ہے. لیکن بعض اوقات اپنے اختیارات سے حد پارکر کے شیطانی روح سمو کر یہ گمراہ بھی ہو جاتا ہے اور وہی کام کرنے لگ جاتا ہے جس کام کو گمراہ ہو کر ابلیس نے کیا تھا.وہ کام حضرت انسان کو عزت اور برابری کے حق سے محروم کرنا تھا.یہ گمراہی شاید ایک ایسی وبا کی مانند ہے جو تیزی سے بڑھتی بھی ہے اور دیر پا قائم بھی رہتی ہے

غور کرنے پر معلوم ہوگا کہ اس وباء(گمراہی) سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے ہاں البتہ جن کے اندر مدافعاتی نظام (اخلاق) بہتر ہے اس میں اس وباء کے اثرات کم دیکھے گئے ہیں.موجودہ وقت میں انسان کےمقام کو مجروح کیاجا رہا ہے.اس کے جزبات کو ٹھیس پہنچانے والے کو موڈی اور لہو سے اپنی انا پرستی ثابت کرنے والے کو فقط بلڈ پریشر کا مریض کہا جاتا ہے. برابری کے پیمانے توڑ دیئے گئے ہیں. ظلم کا بازار گرم ہو چکا ہے.اس حالت میں بھی گمراہ انسان غضبناک پراڈکٹ (جہنم) سے بچنے کے لئے غلط ادویات (بےروح عبادات) کا سہارا لے رہا ہے حالانکہ اس وباء کا اب واحد حل ویکسینیشن (تکریمِ انسانیت) ہے. اور اس تجربے کا قانون درج ذیل ہے.پیغمبرِ خدا کے حضور ایک شخص حاضر ہوا اور کہا اے اللہ کے رسول فلاں قبیلہ کی فلاں عورت فوت ہو گئی ہے. وہ دن رات تو عبادت کرتی تھی مگر اس کی زبانِ بد اور عمل سے لوگ محفوظ نہ تھے .اللہ کے رسول نے فرمایا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے. اتنے میں ایک اور شخص آیا اور کہا حضور فلاں عورت فوت ہو گئی ہے. اعمال و عبادات میں تو پختہ نہ تھی مگر لوگ اس کی رحمدلی سے مستفید ہوتے تھے. آقائے دو جہاں نے فرمایا اس کا ٹھکانہ جنت ہے.

نتیجہ
نوٹ یہ قانون اٹل ہے, اس کے فوائد و نقصانات بھی برحق ہیں. اب اس فیلڈ (دنیا) کے (مسافروں) پر دارومدار ہے کہ وہ کس سمت چلتے ہیں

احتیاطی تدابیر
اس سمندر میں غوط زن ہونے سے قبل انسانیت کا مذہب سیکھنا انتہائی لازم ہے۔یہاں ہزاروں اس زمین پر مذہب کے ٹھیکیدار پھر رہے ہیں۔انہی میں سے کچھ انس دشمنوں نے سیالکوٹ میں ایک جان کو قتل کر کے مذہب کو داغدار کر دیا۔

از قلم :محمد صہیب اجمل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!