وائرل نیوز

آہ ! ایک بار پھر دھواں

آہ ! ایک بار پھر دھواں

” اوئے ! وہ دھواں دیکھو ، کس قدر سیاہ ہے ،شاید راجکو انڈسٹری میں آگ لگ گئی ہے”سیالکوٹ قیام کے دوران میں اپنے رہائشی کمرے میں تھا کہ صحن میں کھیلتے بچوں کی مضطربانہ صداؤں نے مجھے وحشت زدہ کردیا۔ میں سرگرداں بستر سے اٹھا اور باہر نکل کر فضا میں پھیلے دھوئیں کے گہرے سیاہ ہولناک بادلوں کو گھورنے لگا ، تاریک دھوئیں سے آسمان اس قدر مہیب اور ظلمت زدہ ہوگیا کہ عصر کے آغاز سے قبل ہی شام کا منظر پیش کرنے لگا۔

راجکو انڈسٹری میری جائے قیام سے چند منٹ کی مسافت پر تھی ، وہاں یقیناً بڑے پیمانے پر کاٹھ کباڑ اور غیر ضروری سامان کو جلایا گیا تھا کہ اس سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی گھٹاؤں نے آسمان کو تاریک اور ماحول کو شدید متعفن کردیا تھا۔کالا دھواں جو فلک پر بلند ہو کر سفید بادلوں میں تحلیل ہورہا تھا ، میں پشیمانی سے اسے دیکھتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ فیکٹری والے کس قدر لاپروا اور غافل ہیں کہ انھیں ماحولیاتی تبدیلیوں کی حساسیت کا ذرا برابر خیال نہیں، ان کا یہ غیر ذمہ دارانہ عمل اتنے بڑے پیمانے پر فضائی آلودگی کا موجب بن رہا ہے۔فکر و تشویش کے ان لمحوں میں ، میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کچھ ہی ماہ بعد اسی فیکٹری سے ایسا جان سوز اور خون آلود دھواں بھی اٹھے گا جس کی تاریکیوں کے سامنے اس دھوئیں کی سیاہی ماند پڑ جائے گی ، جس کی عفونت سے نسیمِ جہاں آلودہ نہیں بلکہ سخت نادم و پشیمان ہوگی۔

ایسا دھواں جو اسلام اور پاکستان کی عصر کو سیاہ رات میں بدل دے گا ، ایسا دھواں جو بادلوں میں تحلیل نہیں ہوگا بلکہ آسمانوں کو بھی چیرتا ہوا خدا کی بارگاہ میں جاکر ماتم کناں ہوگا۔ اے سیاہ بختو ! تمھیں کس نے حق دیا کہ خدا کی احسن تقویم کو یوں پامال کرو- اے شقیُ القلب عاشقو ! تم ایک انسانی جسم کو آگ میں جلا کر اس رحمۃ للعالمین پیغمبرﷺ کا سامنا کیسے کرو گے جو جانوروں پر بھی مہربان تھے۔اے سفاک ہجوم ! تمھارے دعویٰ عشق پر کیسے یقین کرلوں کہ تمھارے اس جھرمٹ سے یارسول اللہﷺ کی صدائیں اور غلیظ گالیاں ایک ساتھ سنائی دے رہی ہیں اے تعدی پسندو ! تمھارے چہروں پر جو وحشت اور بدحواسی ہے وہ ضرور تمھاری ہی روح کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔

میرے پاس رحم و برداشت کی قدروں سے ناآشنا اس ہجوم کو قوم بنانے کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں مگر اس مخبوط الحواس گروہ کو ایک مشورہ ضرور دوں گا کہ تم آگ ہی لگانا چاہتے ہو تو ضرور آگ لگاؤ مگر اپنی وحشت کو ، تمھیں جلانا دہکانا ہی پسند ہے تو اپنی بربریت کو جلا کر بھسم کیوں نہیں کر دیتے؟ تمھیں فضا میں بلند ہوتے شعلے اور دھواں ہی اچھا لگتا ہے تو اپنے ذہنوں کے فتور کی چنگاریوں اور دلوں کی شدت پسندی کے دھوئیں سے کیوں لطف اندوز نہیں ہوتے ہو ۔۔۔۔۔۔ ؟

ذوالقرنین سرور

میرا نام عمران خان رند بلوچ ہے۔میں ایک سماجی کارکن، کالم نگار اور دفاعی تجزیہ کار ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ دس برس سے صحت کے شعبے سے بھی منسلک ہوں ۔ Twitter/@ibaloch007

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button