افسانے

ایک آدمی جو دنیا میں جنّت کی سیر کرتاہے

جان گناہوں کی دنیا کا ایک مشہور باسی ہے۔ عیاش اور بے فکر نوجوان! دن رات مستی میں گم ،خوبصورت حسیناوں کے ساتھ مشغول ،آرام پسند اور تن پروری اس کا پسندیدہ مشغلہ ۔ صورت میں بھی کمال لاکھوں روپے آمدن مگر ساری رقم عیاشی میں خرچ کرتا ہے بادشاہوں جیسی زندگی گزارنے والا یہ نوجوان اندرونی بے چین ،اتنی ساری کمال اور لاجواب عیاش پسند زندگی کےبا وجود اسے کوئی چیز بے چین رکھتی ، وہ اس بے چینی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ ایسی زندگی کی تلاش میں ہے جہاں اسے دائمی سکون ہو، وہ دائمی سکون کی تلاش میں اپنی عیاش زندگی کو چھوڑ کر ایک نئے جہاں کا باسی بننا چاہتا ہے۔ جہاں اسے ہمیشہ کے لئے وہ دائمی من چائی زندگی کی تلاش میں نکل جاتا ہے ۔ وہ جنگلوں اور ویرانوں ،صحراؤں میں خاک چھانتا ایک درویش بابا کی جونپڑی میں جا پہچتا ہے ۔

جان درویش بابا سے ایسی زندگی کے بارے میں سوال کرتا ہے جس میں دائمی سکون اور مستقل عیاشی ہو جہاں اپنے من کے مطابق زندگی ہو ۔ درویش بابا اس سے جنت کاپتہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کو تمام مستقل خوشیاں، اپ کی من چائی زندگی جنّت میں ملے گی ۔جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درویش بابا سے یہ جنت کہاں واقع ہے۔ درویش بابا۔۔۔۔۔۔۔ گناہوں کی بستی سے دور نیک لوگوں کی بستی میں ۔جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درویش بابا سے یہ نیکوکاروں کی بستی کہاں واقع ہے۔درویش بابا ۔۔۔۔۔ ۔ ۔جان سے آپ کے بالکل قریب واقع ۔جان۔۔۔۔۔۔۔۔ درویش بابا سے دوبارہ پوچھتا ہے آخر کتنا قریب ہے ۔مجھے جنت میں جانا ہے میری منزل جنت ہے، مجھے اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا ہے۔درویش بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جان سے یہ قیمت سے نہیں خریدی جا سکتی! یہ نفس کے ناپسندیدہ کاموں کے پیچھے چھپی ہے۔جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درویش بابا سے ایسا کیسے ممکن ہے۔ درویش بابا آپ کو گناہوں کی بستی کو الوداع کہنا ہوگا۔ جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ن درویش بابا سے میں جنت جانے کے لیے ہر قیمت ادا ، اور ہر کام کرنے کو تیار ہوں ۔درویش بابا …..اچھا شاباش جان زبردست تو آؤ میں آپ کو جنت کی سیر کو لیے چلتا ہوں۔ یہ بات کہہ کر درویش بابا نے عجیب آہ بھری اور جان کو اپنی پیروی کرنے کو کہا درویش بابا اپنی آنکھیں بند کرکے مراقبہ میں چلے گئے۔

درویش بابا کچھ عجیب سے الفاظ پڑھتے گئے۔ اب جان۔۔۔ درویش بابا کی موجودگی میں ظاہری دنیا سے لاہوتی دنیا میں محوِ پرواز ہے۔جان کے لیے لاہوتی دنیا حیرت کا ایک نیا جہان ہے۔درویش بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جان کو سب سے پہلے جنت کے استقبالیہ پر لیے چلتے ہیں جہاں خلائی مخلوق جنت کے بارے میں معلومات دیتی ہے ۔جان بند آنکھوں اور خاموش زبان سے سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔جنت کا تعارف بیان ہوتا ہے جنت نام ہے ہمیشہ کی لذتوں کا ۔ہمیشہ کی راحتوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک ،اور دل کی تشنگی کا۔ جنت ایسا محل، ایسا باغ ہے جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے وہ مستقل لذتوں میں گم ہو جاتا ہے۔درویش بابا۔۔۔۔۔۔۔ جان کو استقبالیہ سے جنت کے گیٹ کی جانب لیے چلتے ہیں جیسے ہی جنّت کا گیٹ کھلتا ہے یہاں ایک انوکھا جہان دیکھنے کو ملتا ہے ۔جان اب جنت کی سرزمین پر موجود ہے۔ یہاں کا موسم نہ گرم ہے نہ سرد ہے نہ چانداور نہ ہی سورج ہے۔ عجیب موسم !یہاں ہوا عنبر جیسی خوشبو پھیلا رہی ہے۔ سفید رنگ کے محلات یاقوت مر جان سے بنے ہوئے ہیں اور مست کر دینے والا عجیب نور ہے ۔

جان کو حیرت اس بات پر تھی کہ بغیر سورج یہ روشنی کیسی ہے ۔ہر طرف نور ہی نور ہے ۔ اندھیرے کا کوئی تصورہی نہیں۔ ہر طرف عجیب میٹھی روشنی ہے جو جنت میں داخل ہونے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے ۔یہاں کے محافظ جنت پیدا کرنے والے کی شان بیان کر ہیں ۔ ایک طرف نگاہ پڑتی ہے تو سفید رنگ کے اونٹ چر رہے ہیں جو بہترین سجے ہوئے ہیں اور جنتی لوگ اس پر سواریاں کر رہے ہیں ۔

یہاں ہر شخص جوان ہے کوئی بوڑھا نہیں ہے ۔
جوانی بھی ایسی کہ زندگی کو جس پر رشک آئے۔

یہاں ہر شخص کے چہرے پر مسکراہٹ ہے ۔چہرے پر تازگی نمایاں ہے ۔یہاں ہر آدمی ایک ہی عمر کا ہے۔اور سب خوشحال اور قابل رشک نعمتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔جنت کے محلات ہموار زمین پر بنائے گئے ہیں ۔ جن میں ایک اینٹ سونے اور ایک اینٹ زعفران اور مٹی کستوری کی بنائی گئی ہے۔محلات میں شامل اینٹیں موتیوں کی طرح چمکدار اور یاقوت کی طرح صاف ستھری ہیں ۔جنت کی زمین آئینہ کی طرح صاف اور چمک دار ہے۔یہاں کے درخت مستقل پھلدار ،سایہ دار ہیں ۔ کوئی جنتی پھل توڑتا ہے تو اس کی جگہ نیا پھل لگ جاتا ہے۔ اور پھل بھی ایسے کےجس میں گھٹلی نہیں ۔منفرد ترین انداز سے بنی دودھ اور شہد کی نہریں میں حیرت انگیز منظر پیش کر رہی ہیں ۔ میٹھے پانی، اور لذیذ شراب کے چشمے جنتیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایسی لذیذ شراب جس میں ادرک اور کافور کی آمیزش ہے ۔ جنتیوں کو گرتے پانی دور تک پھیلی چھاؤں تلے سرخ رنگ کی گھاس پر یاقوت اور مرجان کے برتنوںمیں پیش کی جا رہی ہے ۔ ایسی شراب جس سے ان کی عقل اور جسم کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے۔یہاں کے لوگ باریک ریشم اور اطلس کے سبز لباس میں ملبوس یاقوت اور مرجان، سونے چاندی سے مزین آرام گاہوں میں سبز رنگ کی قالینوں پر تکیہ لگائے جنت کے مشروب نوش فرما رہے ہیں ۔یہاں نیند کا تصور نہیں ہے جنت کے بعض محلات ایسے سجے ہوئے ہیں بندہ حیرت سے دیکھتا رہ جائے جس میں سونے اور کستوری سرخ رنگ کی گھاس کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس لازوال زندگی میں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ۔
یہاں کی عورتیں دنیا کی عورتوں سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہیں

انتہائی نرم و نازک ہیں جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جلی کی طرح نرم و نازک ۔عنبر کی خوشبو جنتیوں کو ہر وقت تازہ دم اور ہوا کو بھی خوشبو سے معطر رکھتی ہے۔ یہاں نیند اور موت کوئی تصور نہیں ہے ۔سدا بہار جنتی جنت کی نعمتوں میں مگن ہیں۔ انہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ہر طرف نعمتیں ہی نعمیتں ہیں ا چانک درویش بابا کی آہ سے جان اپنی آنکھیں کھول لیتا ہے اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے یوں جنت کے تمام نظارے غائب ہو جاتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!