تاریخ

پاکستان نرغے میں؟

◼️زاہــــد خـــــان آف جتوئی

کہتے ہیں کہ اچھا ہمسایہ بھی خدا کی نعمت ہوتا ہے، مگر پاکستان اس نعمت سے ہمیشہ محروم رہا ہے، جہاں ایک طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے تو دوسری جانب ہمارے کلمہ گو برادر ممالک افغانستان و ایران ہیں، جنکی سر زمین دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دشمنوں کے ہاتھوں وطنِ عزیز کیخلاف ہمیشہ استعمال ہوتی آ رہی ہے، کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا اسکا واضح ثبوت ہے،

ان دنوں جہاں ساری دنیا کرونا سے نبردآزما ہے، وہیں مملکت پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بھی مملکت کو اس وبا سے چھٹکارا دلانے کیلئے میدانِ عمل میں ہے، اس سلسلے میں ہماری مسلح افواج کے جوان ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں، جسکے نتیجے میں سرحدوں پر سے جوانوں کی نقل و حرکت بھی ہوئی ہے،دشمن اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ہمیں گھیرنے، دبانے اور کمزور کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے، پاکستان میں موجود اسکے سلیپر سیلز متحرک ہو چکے ہیں،حالیہ دنوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں، ایک طرف بلوچستان سے لے کر وزیرستان اور ایرانی و افغانی سرحدوں کے نزدیک دہشت گردی و در اندازی کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جن میں ہمارے کئی جوان و افسروں نے جام شہادت نوش کیا،

دوسری طرف انڈیا مقبوضہ کشمیر میں حریت نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کرنے کے ساتھ انکے گھروں کو جلا رہا ہے، ایل او سی پر بھی بلا اشتعال فائرنگ سے شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات بڑھ چکے ہیں، ہمارے دفاعی ادارے ان حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، انکے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ انڈیا ایک پھر پٹھان کوٹ اور بالاکوٹ جیسا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملہ کرنے کی مکمل تیاری کر چکا ہے، جس کے لیے وہ مناسب وقت کا منتظر ہے، مذکورہ شر انگیزی میں بھارت کو امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے پہنچے ہوئے ہیں تاکہ چائنا کا دھیان بٹایا جا سکے اور انڈیا کے پاکستان پر ممکنہ حملے کی صورت میں چائنا کو پاکستان سے دور رکھا جائے،

وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے بیانات و ٹویٹس سے بھی ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے، گزشتہ روز سول قیادت کیساتھ عسکری قیادت (آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی) کی اہم ترین ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، کل ہی وزیراعظم سے وزیر خارجہ، وزیر منصوبہ بندی و اقتصادیات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی ملاقات سے حالات کی سنجیدگی کا ادراک کیا جا سکتا ہے، اسکے علاوہ بحری و فضائیہ افواج کے سربراہان بھی ان سے ملاقات کر چکے ہیں، اگر آپ غور کریں تو حالیہ چند دنوں میں سول و عسکری قیادت کی تواتر سے اہم ترین ملاقاتیں ہو رہی ہیں، کڑی سے کڑی ملائی جائے تو صورتحال کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے،

اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہماری سول و عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہے ، متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کسی بھی شرارت کی صورت میں انڈیا کو اسکے گمان سے بڑھ کر سخت ترین جواب دیا جائے گا، ہماری تینوں مسلح افواج بالکل تیار ہیں، وزیر اعظم کیطرف سے بھی انہیں مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں، اب کی بار ہمارا وار 27 فروری سے بھی آگے کا ہوگا،ان شاء اللہ .یاد رہے 27 فروری کو دیگر کئی اہم اہداف کے ساتھ ساتھ اس وقت کے انڈین آرمی چیف بپن راوت( اہم ترین ہدف) پاکستانی فضائیہ کے عین نشانہ پر تھا، ٹارگٹ لاک ہو چکا تھا، میزائل داغنے کی دیر تھی مگر اسے وارننگ دیکر چھوڑ دیا گیا، مگر اب ایسا نہیں ہوگا،

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button