افسانے

ویڈیو گیمز کے اثرات

آپ نے وہ مشہور کہاوت تو سنی ھو گی کہ”دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں”لیکن اس میں لوگ ایک اہم چیز بھول جاتے ہیں کہ دیواروں کے صرف کان ہی نہیں ہوتے بلکہ ان کی تو آنکھیں بھی ہوتی ہیں۔۔۔ بالکل درست ہے یہ بات کیونکہ میں بھی اسی دیوار میں لگی اینٹ ھوں۔۔۔ جو ایک بہت ہی خوبصورت بنگلہ کی اسٹڈی روم کی ھے ویسے تو اس دیوار کو مالکوں نے اپنے بچے کی پسندیدہ کارٹون پینٹنگ سے بہر دیا ہے لیکن شکر کہ میں معصوم خالی ہی رہی پر افسوس کہ میں نے وہ سب دیکھا اور سنا جو اب میں آپ لوگوں کو بتانے والی ہوں۔۔۔۔۔

دراصل یہ اسٹڈی روم اس بچے کا ہے جس سے مجھے پہلی نظر میں پیار ہوگیا تھا کیونکہ وہ تھا ہے اتنا پیارا کہ مجھے اپنے مٹی کے بنے جسم میں بھی دل محسوس ہونے لگا تھا وہ بچہ جب اپنی ٹیوٹر کے ساتھ آکر اسٹڈی روم میں بیٹھتا تھا تو باوجود اس کے کے اس کے ساتھ اس کے بہن بھائی بھی ہوتے مگر پھر بھی میرا کہیں اور دیکھنے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا ماشاءاللہ وہ اتنا ہونہار تھا کہ ساتھی دیوار پر بنے شیلفوں اسے کلاس میں ملنے والی ٹرافیوں سے بھرنے لگے تھے اس لئے گھر میں دو بچے اور ہونے کے باوجود بھی اس بچے کی بات اور تھی

اس لیے ایک دن جب وہ اپنی ٹیوٹر کے ساتھ پڑھنے کے لئے بیٹھا تو بے ساختہ میرے اندر سے آواز نکلی کہ کاش یہ بچہ یہیں رہ جائے اور وہ لمحہ شاید قبولیت کا تھا کہ وہ لیپ ٹاپ پہ اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد پلے اسٹور سے کچھ سرچ کرنے لگا شاید وہ جو آج اس کے کلاس کے بچوں نے آپس میں ڈسکس کیا تھا تھوڑے غور کرنے پہ میں نے دیکھا کہ وہ تو کوئی ویڈیو گیمز تھی اور وہ سب ٹارگٹ پورا کرنے والی گیمز اس ذھین بچے کو اتنی بہا گئی کہ وہ ایک کے بعد ایک گیم کھیلنے لگا یہاں تک کہ اسے وہ کھیلتے بہت وقت ہوگیااور بچے کی ماں نے آکر اسے وہاں سے لے جانا پڑا مگر ایسے لگ رہا تھا کہ وہ اسے زبردستی لے کر جارہی تھی

پھر اس دن سے اس بچے کی ویڈیو گیمز میں دلچسپی بڑھ گئی اور اپنے والدین سے ضد کر کے اس نے اپنا ذاتی موبائل لیا اور وہ سب گیمز اس پر کھیلنے لگا اب تو کچھ سالوں سے “پب جی” نامی گیم میں اس طرح مگن ہو گیا ہے کہ بعض اوقات اسے اسٹڈی روم میں بیٹھے گھنٹے گزر جاتے ہیں لیکن اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔۔۔۔وہ جو اپنی ٹرافیوں سے شیلف بھر کر اپنے والدین کی آنکھوں میں بے حد خواب سجا رہا تھا آج گیمز نے اسے رتجگوں کا عادی بنا دیا تھا۔۔۔۔۔

وہ جو بچہ سارے خاندان میں تمیز دار کہلاتا تھا آج وہ اپنی امی کی دسویں آواز بھی شانا ھلاۓ جانے پہ سنتا ہے۔وہ جو ہر کام بنا کہے کرتا اب منتوں کرنے کے بعد بہت بے دلی سے کرتا ہے۔۔۔۔وہ جو اتنا پیارا بچہ تھا جسے چیونٹی کی موت بھی تڑپا دیتی تھی آج وہ گیم میں نمبر ون ٹارگٹ کلر ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس لوہے کے برقے ٹکڑے نے اس بچے سے جسے دیکھ کر آنکھوں میں ٹھنڈک اترتی تھی ایسا بے حس اور بدتمیز سا بچہ بنا دیا ہےکہ جو دو سے زیادہ کام کرنے پہ شدید غصے کا اظہار کرتا ہے۔مجھے جب وہ اپنی مانگی دعا یاد آتی تو شرمندگی سے خود کو ریزا ریزا ہوتے محسوس کرتی ہوں کہ کاش میں نے اسے اسٹڈی روم میں روکنے کی بد دعا نہ دی ہوتی تو وہ ہونہار بچہ آج کا کامیاب ترین طالب علم ہوتا۔

وہ معصومیت سے بھرا بچہ جو جب اپنی ٹیوٹر سے معصوم سے سوال کرتا تو اس پہ ٹوٹ کر پیار آتا آج مکمل طور پر شیطانی شکنجے میں جکڑا ہوا نہ ہوتا ہے۔کاش کوئی ایسا مقبول لمحہ پھر سے آئے کہ میں اس کے معصوم بننے کی تمنا کروں اور وہ لمحہ امر ہو جائے۔کاش کاش کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!