اسلامک

خدمت خلق تسکین روح

گزشتہ کچھ عرصہ پہلے گلگت کے کسی ہسپتال میں چند لوگوں کو دیکھا جو صبح صبح ہاتھ میں چھوٹا ساتحفہ لئے دور دراز سے آنے والے مریضوں کی عیادت کرہے تھے۔ ایک بزرگ سے دریافت کرنےپر بتایا کہ بیٹا ہم گنہگار لوگ ہیں بس دل کو تسلی دینے کے لئے یہاں مریضوں کی عیادت کرتے ہیں۔ کوئی لائق خدمت ہو تو کردیتے ہیں اسی لئے کہ کب ہمیں یہاں لٹایا جائے گا۔ نہیں معلوم ۔ تب مجھ یقین ہوگیا اگر دنیا قائم ہے تو فقط کچھ لوگوں کی وجہ سے ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آپکے دو خشگوار جملے آپکی دی گئی ایک تسلی کسی کے لئے بڑی خوشی کا باعث بن سکتی ہے

بلخصوص آج کل ہمارا معاشرہ اسکا زیادہ مستحق بن چکا ہے جبکہ طبقاتی نظام کے اس نفسیاتی دور میں ہر بندہ انا کا پجاری بنکے دوڈ رہا ہوتا ہے اسلام نے زکوٰة فرض جبکہ صدقات انسان پر نازل ہونے والی بلاوں کو ٹالنے کا زریعہ بتایا ہے۔ غربت کو ختم کرنے میں جب ریاست بے بس نظر آئے تو میرے خیال سے معاشرے میں لوگوں کی مدد کے لئے ہمیں ایک قدم اور آگے بڑھ کر پہل کرنی چاہئے۔ یقین جانے غربت،افلاس تنگدستی ایک ایسی بیماری ہے جو غریبوں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے ہمارے اردگرد بہت سارے حسین چہرے غربت کے اس دلدل میں سردی کے اس طوفان میں ، آگ برساتی دھوپ میں مایوسی کے اس قبرستان میں دفن ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بہت سی سیاہ زولفیں جو کسی شاعر کی غزل کی زینت بن سکتی تھی وہ محرومیوں کا شکار بن کر سفیدی میں بدل چکی ہوتی ہے ماوں کے شہزادے کھیلنے کودنے کی سی عمر میں محرومیاں اور امرا کے فرعونیت جیسے سخت رویوں کا بوجھ اٹھا رہا ہوتے ہیں وہ مسکراہٹیں جو کسی کتاب کا عنوان بن سکتی تھی آج گلیوں کے خاک چھان کرکے دھیمی پڑ رہی ہے وہ کان جو سونے اور چاندی کے بالیوں کے حقدار تھے آج پستیوں کے چیخ و پکار سن رہے ہیں یقین جانیے غربت،تنگدستی،اولاد کی بھوک صنف نازک کی کندھوں کو بھی خچر کی پیٹ سے زیادہ مضبوط کردیتی ہے۔ دنیا کے تمام رونقیں دھندلی اور رونقیں پھیکی پڑ جاتی ہیں جب بھوک کے لالے مقدر ہوتے ہیں۔ جب زمہ داریاں سر پڑتی ہیں جب فاقے پیٹ میں پلتے ہوں جب کسی ماں جگر گوشہ ہسپتال میں زندگی اور موت کا جنگ لڑ رہا ہواور جیب خالی ہو۔ جب گھر کا سائیں سر کا سایہ تین چار بچوں کو یتیمی کا تاج پہنائے اس بے ثباتی دنیا کو خیر باد کہے تب مجھ لگتا ہے وہ بچوں کے ساتھ جوان ماں بھی یتیم ہوجاتی ہے۔

تب ان پر کیا گزرتی ہونگی کون انکے حالات کا جائزہ لیگا کون انکے گھر دستک دیگا۔ کون یہ کہےگا کہ اگر دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوک سے مرجائے تو عمر تجھ سے پوچھا جائے گا۔ کون انکی خودداری کے پیچھے چھپی بھوک اور درد کو محسوس کریگا ریاست ! ارے نہیں نہیں ریاست اب وہ نہیں رہی انکے لئے تو اب لوگ فقط گنتی شمار ہوتے ہیں۔ پھر کون حکمران ! ارے نہیں نہیں جنکے کتے بھی معیاری بسکٹ کھاتے ہوں۔ جنکی اولادیں لاکھوں پیسوں کے صرف جوتے پہنتے ہوں۔ جنہوں نے موسم کی شدت کو کھڑکیوں سے دیکھا ہو۔ بھوک کتابوں میں پڑھی ہو۔ وہ کبھی بھی غریبوں کے آسرا نہیں بن سکتے۔ پھر کون عام لوگ ! ارے نہیں نہیں وہ تو کوٹھی بنگلہ اور رعب و دبدبہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ پھر کون کسے خبر ! کہ کونسی گلی میں کتنے بچے بھوکے سوئے ہوں۔ کتنے بچے سردی کے اس طوفان میں ننگے پیر ننگے بدن گھومنے پر مجبور ہوں۔ تب مجھ ایسے بے حس امراء اور بے حس حکمرانوں سے نفرت ہونے لگتی ہے اور پھر قوال کے پیچھے تالیاں بجانے والا وہ طبقہ جو انکے خوشنودی حاصل کرنے لئے واہ واہ کرہے ہوتے ہیں میرے نزدیک وہ سب کے سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تب ہر شخص کی زمہ داری ہے کہ وہ خدمت خلق میں آگے بڑھے ۔ ہر شخص کو غربت کی لیکروں کو پھلانگ کر دیکھنے اور پستیوں کی چیخ و پکار کو غور سے سننے کی ضرورت ہے انکی خودداری کے پیچھے چھپا درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہمسایوں کے حقوق پورا کریں۔ زکوٰة صدقات اور غریبوں کی امداد میں اضافہ کریں۔ انہیں مایوس ہونے کا موقع نہ دیں مسجد میں سیمنٹ کی بوری تب ہی دے جب آپکے محلے میں آٹے کی بوری لینے والا کوئی نہ ہو۔

یہ ہماری بڑی غلط فہمی ہے کہ روز محشر ہم سے صرف نماز ،روزہ کے بارے پوچھا جائے گا۔ یقین کریں آپکی چھوٹی سی رقم لوگوں کی بڑی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔ آپکا چھوٹا سا عطیہ ایک خاندان کے لئے بڑی خوشی کا باعث بن سکتا ہے ہسپتال قریب ہے تو لوگوں کی عیادت کریں یہی سے محبتیں بڑھیں گی۔ رحمتیں نازل ہونگی ۔ سردیوں کا موسم ہے کسی غریب بچے کو کوٹ جوتیں پہنائے کسی کے گھر آگ کی تبش مہیاہ کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کی پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش کریں۔ خدا کی قسم جب اپکا پہنایا ہوا کوٹ سے ایک بچہ سردیوں سے محفوظ ہوتا ہے وہ جب اپنے جھونپڑی سے نکل کر مسکرا رہا ہوتا ہے تو میرے رب کی ڈھیر ساری رحمتیں تم پر نازل ہونگی۔ ہر بندہ اپنی بساط کے مطابق چھوٹی چھوٹی خدمات کی کوشش کریں۔ آج سے کریں ابھی سے کریں۔ پاکستان میں بہت کچھ بدل سکتا ہے۔یہ وہی کام ہے جو تمہیں دائمی سکون دیگا اور یہی تو اسلام ہے اور یہی میرے مصطفیﷺ کا دین ہے۔ اللّہ ہم سبکا حامی و ناصر ہو۔

Rukhsana

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button