اسلامک

اللہ کے لئے محبت و دوستی

سلف صالحین ان کے اخلاق کا اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ بلا تحقیق کسی کو اپنا بھائی یا دوست نہیں بناتے تھے کہ اس کو دنیا و آخرت کے کاموں میں اپنا شریک بنا لیں اور کچھ ہی عرصہ بعد ایک دوسرے سے جھگڑنے لگیں، بلکہ ایک مدت تک تحقیق کرتے کہ آیا و ہ شخص جس کو وہ اپنا بھائی بنا رہے ہیں احکام خداوندی کو بجالاتا ہے یا کہ نہیں۔
دوستی پیدا کرانا سنت رسول ہے
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور صلى الله عليه وسلم صحابہ کرام میں دوستی پیدا کراتے ہیں جب تک دوست دوست سے نہ ملتے ان کی راتیں لمبی ہو جاتیں اور جب جدا ہوتے تین دن گزر جاتے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرتے۔
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں جب تم کسی کو دوست بناؤ تو اس سے راز کو پوشیدہ نہ رکھو ورنہ وہ تمہارے لئے اجنبی ہے۔
امداد کرنا
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے بھائیوں اور دوستوں کی امداد کرتے تھے۔ یہ دریافت کئے بغیر کہ انہیں اس مدد کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ مگر دور حاضر میں لوگ اپنے بھائیوں اور دوستوں کے احوال دریافت کرتے ہیں ان کے غموں میں شریک ہوتے ہیں، زبانی جمع خرچ کے ذریعے ان کے دلوں میں اپنا مقام بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود دوست کو مالی امداد کے لئے ایک روپیہ تک نہیں د یتے۔
غم خواری
حضرت ابوحازم فرماتے ہیں اگر کسی کے ساتھ تیری روستی محض اللہ تعالی کے لئے ہو تو بلاطلب غوض اس کی غم خواری کر تا کہ اس کے ساتھ تیری صحبت قائم و دائم رہے۔
الحب في اللہ کہنا کب مناسب ہے؟
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ
اپنے دوست سے کہے کہ میں تجھ سے اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہوں مگر اس صورت میں جبکہ وہ اپنے نفس پر یہ بات پیش کرے کہ وہ دولت کی طلب پر کسی چیز سے انکار نہیں کرے گا اگر چه دوست اپنا نکاح کرنے کے لئے اس کی بیوی کی طلاق کا خواہاں ہو۔
حضرت ابن عباس نہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اپنے دوست کے بدن پرمکھی کا بیٹھنا برا معلوم نہ وہ دوست ہی نہیں۔
دوستی کے حقوق
حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں جس قدر دوست زیادہ ہوں گے۔ قیامت میں اس قدر قرض خواہ ہوں گے اور جس قدر دوست کی غم خواری کم ہو گئی اسی قدر اس کی محبت کم ہو گی اس جگہ قرض سے مراد حقوق ہیں۔
حضرت علی بن ابکار فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے زمانے میں کس کو ابراہیم بن ادھم کی مانند دوستی کے حقوق پر قائم نہیں دیکھا آپ درہم کھجور اور منقی تک بھی دوستوں میں تقسیم کر دیتے اور اگر کوئی دوست موجود نہ ہوتا تو اس کا حصہ رکھ لیتے یہاں تک کہ وہ آ جاتا۔
دوست کی خواہشات کا احترام
میمون بن مہران سے کسی نے کہا ہم نے کبھی بھی آپ کے دوستوں کو آپ سے جدا یا علیحدہ ہوتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے دوست کو کوئی چیز پسند ہے تو میں اس کو دے دیتا ہوں اور اپنے آپ کو سے ممتا ز نہیں سمجھتا- اس
امام شافعی کا قول
امام شافعی فرماتے ہیں وہ شخص تیرا دوست نہیں ہے جس کی مدارات کی تھے ضرورت پڑے اور جس کے سامنے تھے عذر خواہی کرنی پڑے۔
دوستی پر بھروسہ
یونس بن عبید کا بیٹا فوت ہو گیا۔ ابن عوف کے سوا تمام لوگوں نے تعزیت کی کسی نے شکایت کی کہ ابن عوف نے آپ کی تعزیت نہیں کی۔ آپ نے فرمایا جب ہمیں ایک شخص کی دوستی پر وثوق ہے پھر اس کا ہمارے پاس نہ آنا مصنر نہیں-
احسان کرنا۔
حضرت حامد نصاف فرماتے ہیں ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے دشمنوں پر بھی احسان کرتے تھے مگر آج کل ایسے لوگ دیکھے ہیں جو دوستوں سے بھی نیک سلوک نہیں کرتے۔
دوست کی ضرورت کو پورا کرنا
حضرت اعمش فرماتے ہیں ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ ایک عرصہ تک اپنے دوستوں سے نہ ملنے اور جب ملاقات ہوتی تو آپ کا کیا حال ہے؟ آپ کے مزاج کیسے ہیں؟ سے زیادہ دریافت نہ کرتے پھر اگر وہ اس سے اس کے مال کا نصف بھی طلب کرتے تو دے دیتے۔ لیکن آج کل لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگرچہ وہ اپنے دوستوں کو ہر روز بلکہ ہر گھڑی ملتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ آپ کا کیا حال ہے؟ آپ کیسے ہیں؟ اور ان کی ہر چیز حتی کہ گھر کی مرغی تک کا حال پوچھتےہیں، لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک درہم مانگے تو نہیں دیتے۔
محبت فی اللہ
ایک دفعہ ایک شخص نے بشرحافی سے کہا میں آپ سے محبت فی اللہ رکھتا ہوں آپ نے فرمایا تیرا یہ کہنا غلط ہے کیونکہ اکثر اوقات تیرے نزدیک تیری سواری بھی مجھ سے قابل قدر ہوتی ہے پس تو میری محبت کا دعوئ کیسے کرتا ہے۔
بشر بن صالح سے کسی نے کہا میں آپ سے محبت فی اللہ رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے جھوٹ بولنے پر آمادہ کیا ۔ انہوں نے کہا وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا تو میری محبت کا دعوی کرتا ہے جبکہ تیرے گدھے کا پالان میرے عمامہ اور کپڑوں سے زیادہ قیمتی ہے۔
سفیان بن عیینہ سے للہی دوستی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا للہی محبت یہ ہے کہ وہ شخص اپنے تمام مال سے بالکل علیحدہ ہو جائے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ہوئے تھے کہ آپ کا تمام مال حضور کے لئے وقف تھا۔
بشر حافی سے کسی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو کسی سے محبت رکھتا ہے لیکن اکثر اوقات اسے بعض دنیاوی منافع سے روکتا ہے تو کیا وہ محبت میں سچا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں لیکن وہ کمالیت کے درجہ سے کم ہے۔
ابراہیم بن ادھم فرماتے تھے للہی محبت رکھنے والوں کی علامت یہ ہے کہ جب ان میں سے ایک خفا ہو جائے تو دوسرا اس کو راضی کرنے میں جلدی کرے کیونکہ میں نے کبھی کوئی دوست ایسانہیں دیکھا جو دوستوں کی غم خواری نہ کرے جیسا کہ میں نے کبھی کسی غضب ناک شخص کو مسرور اور کسی حریص روغن نہیں دیکھا۔
دوستی میں ظاہر و باطن کی موافقت
مالک بن دینار فرماتے تھے آج کل دوست ایسے ہو گئے جیسے نانبائی کا شور با نہایت خوشبودار لیکن مزہ ندارد۔
سچی دوستی کی شرط
فضیل بن عیاض فرماتے تھے کی سچی دوستی کی شرط یہ ہے کہ مفلسی کی حالت میں دوست کی عزت اس کی تو نگری کی حالت سے بڑھ کر کی جائے کیونکہ افلاس تو نگری سے افضل ہے اور مفلس بلحاظ اپنے مرتبہ کے زیادہ اکرام کا مستحق ہے۔
ابومطیع فرماتے ہیں ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو آپس میں غلام گھوڑے مکان اور مال کے طبق تحفہ میں دیا کرتے تھے مگر آج وہ زمانہ ہے کہ روٹی اور کھانا تحفہ میں دیتے ہیں اور کوئی زمانہ ایسا آ ئے گا کہ لوگ اس کو بھی ترک کر دیںگے اور سلف کی یہ سنت بالکل جاتی رہے گی ۔ سلف میں بعض لوگ ایسے ہوتے تھے جو اپنے دوست کی اولاد کی اس کے جنازے سے واپس آنے کے وقت سے لے کر بلوغ رشد تک خبر گیری کرتے لیکن آج کل لوگ بھائی کے اہل و عیال کو بھی بھول جاتے ہیں۔
ابراہیم تیمی فرماتے تھے کہ آدمی دوستوں کے بغیر ایسا ہی ہے جیسے دایاں ہاتھ بائیں کے بغیر۔
محبت فی اللہ دنیاوی اغراض سے بالاتر
حضرت ابومعاویہ الاسود پتھر تراشنے کا کام کر کے روٹی کھاتے تھے جب عمر رسیدہ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کی ۔ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اس لئے کام کرنا
ترک کر دیں کیونکہ آپ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس پر آپ نے فرمایا بخدا میرے نزدیک پتھر تراش کر روٹی کھانا لوگوں کے سوال سے زیادہ آسان اور اچھا ہے۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!