HEALTH & MEDICAL

Everything you need to know about the world’s most costly purple Mango Miyazaki

ہر وہ چیز جو آپ کو دنیا کے سب سے مہنگے جامنی رنگ کے مینگو میازاکی کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔

Everything you need to know about the world’s most costly purple Mango Miyazaki

The purple mango, also called the Miyazaki mango, is one among the foremost well-known fruits grown in Miyazaki, Japan. Last year, these mangoes were sold at over Rs 400,000 per kilogramme within the international market, making them one of the foremost expensive mangoes in the world.

These mangoes are referred to as ‘Taiyo-no-Tomago,’ or ‘Eggs of Sunshine,’ and are marketed per se. it’s not yellow or green in colour, but when ripe, it turns a flaming red from purple, and therefore the shape resembles dinosaur eggs. in keeping with accounts, these mangoes weigh above 350 grammes and have a sugar level of 15% or greater.

In the year 1984, these mangoes were being grown in Miyazaki. Only from April through August is it available. Mangoes provide plenty of health benefits additionally to having the foremost diverse flavour. It’s no surprise that this fruit is thought of because of the “King of Fruits.”

In Japan, this uncommon fruit is the most costly fruit available. For a carton of two mangoes, prices range from above Rs 15000 to Rs 400,000. Mangoes are grown in Thailand, the Philippines, and India also. This sort of mango is high in antioxidants and contains beta-carotene and folacin, likewise decreasing cancer risk. The fruit is useful to the eyes and skin, moreover as decreasing cholesterol levels.

ہر وہ چیز جو آپ کو دنیا کے سب سے مہنگے جامنی رنگ کے مینگو میازاکی کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔

جامنی آم، جسے میازاکی آم بھی کہا جاتا ہے، میازاکی، جاپان میں اگائے جانے والے سب سے مشہور پھلوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ سال یہ آم بین الاقوامی منڈی میں 400,000 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہوئے تھے جس سے یہ دنیا کے مہنگے ترین آموں میں سے ایک بن گئے تھے۔

ان آموں کو ‘ٹائیو-نو-ٹومیگو’ یا ‘ایگز آف سن شائین’ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی مارکیٹنگ اسی طرح کی جاتی ہے۔ اس کا رنگ پیلا یا سبز نہیں ہوتا لیکن جب پک جاتا ہے تو یہ جامنی رنگ سے بھڑکتا ہوا سرخ ہو جاتا ہے اور شکل ڈائنوسار کے انڈوں سے ملتی ہے۔ اکاؤنٹس کے مطابق، ان آموں کا وزن 350 گرام سے زیادہ ہے اور ان میں شوگر لیول 15 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔

1984 میں یہ آم میازاکی میں اگائے جا رہے تھے۔ یہ صرف اپریل سے اگست تک دستیاب ہے۔ آم سب سے زیادہ متنوع ذائقے کے ساتھ ساتھ بہت سے صحت کے فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس پھل کو ‘پھلوں کا بادشاہ’ کہا جاتا ہے۔ جاپان میں یہ غیر معمولی پھل دستیاب سب سے مہنگا پھل ہے۔ دو آموں کے ایک کارٹن کی قیمت 15000 روپے سے 400,000 روپے تک ہے۔ آم تھائی لینڈ، فلپائن اور ہندوستان میں بھی اگائے جاتے ہیں۔

اس قسم کے آم میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں بیٹا کیروٹین اور فولک ایسڈ ہوتا ہے، ساتھ ہی کینسر کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ پھل آنکھوں اور جلد کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتا ہے۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button