HEALTH & MEDICAL

ایڈز ایک جان لیوا مرض ہے

ایڈز کا تعارف
(AIDS)
ایڈز انگریزی کے چار حروف سے مل کر بنا ہے یہ بھی ایک متعدی اور جنسی بیماری ہے ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اس بیماری کا 1988ء میں پتہ چلا
یہ وائرس جسم کے دفاعی نظام میں شامل چند خلیوں خاص طور پر مدد گار خلیہ (ٹی) میں داخل ہو جاتے ہیں۔اس مرض کی وجہ سے پوری دنیا کے اندر روزانہ ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہم اس کی طرف کوہی خاص توجہ نہی دیتے ہیں ۔ہمیں اس بیماری کی روک تھام پر فوری طور پر توجہ دینی چاہیے اور اس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
ایڈز پھیلنے کے اسباب اور وجوہات
جنسی ملاپ کے ذریعے وائرس جسم میں منتقل ہوتا ہے۔
ختنہ کرنے والے آلات کے ذریعے۔
لڑکیوں کے ناک اور کان چھدوانے والے آلات سے۔
ایڈز کے وائرس سے متاثرہ خون کسی دوسرے شخص کو لگانے سے۔
ایڈز سے متاثرہ ماں سے وائرس بچی میں داخل ہو سکتا ہے۔
آلودہ سرنجیں کے ذریعے بھی یہ وائرس دوسرے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔
ایڈز سے متاثرہ خاوند کے بغیر بیوی میں داخل ہو سکتا ہے۔
ایڈز کے مریض کے ساتھ مل جل کر رہنے سے۔
ایڈز کے مریض کی عیادت کرنے سے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔
ایڈز کی علامات
ایڈز سے متاثرہ شخص کے جسم پر گلٹیاں بن جاتی ہے اور آنتوں میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے۔
ایک فرد کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ اس کے اندر کا مدافعاتی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
مریض کو کوئی ہفتوں تک ٹھنڈے پسینے آتے رہتے ہیں۔
مریض اپنے جسم میں ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔
جسمانی کمزوری دن بدن زیادہ ہوتی جاتی ہے۔
مریض کو بھوک کم لگتی ہے۔
لذیذ قسم کی غذا بھی کھانے کو دل نہیں چاہتا۔
مریض کے سر میں آہستہ آہستہ درد ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
مریض کو سانس کی تکلیف بھی رہتی ہے۔
مریض کو لگاتار بخار ہوتا رہتا ہے۔
حفاظتی تدابیر
فحش عورتوں اور بدکردار لوگوں سے تعلقات قائم نہ کرے-
ٹیک لگاتے وقت نئ سرینجز کا استعمال کریں۔
ختنہ یا آپریشن کے لئے جو آلات استعمال کریں ان کو کافی دیر گرم پانی میں رکھیں۔
خون لینے کے لئے پہلے خون کا ٹیسٹ لیں۔-
ایڈز کے مرض کا استعمال شدہ ٹوٹ برش کو بلکل استعمال نہ کریں۔
ایڈز کے مریض کی چیزیں بالکل استعمال نہ کریں۔
ایڈز کے مریض کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کریں۔

Muhammad Yasir

I am student of Master from Punjab University Lahore

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!