خواتین

شادی ایک فریضہ یا بوجھ

کیا_شادی_سادگی_سے_نہیں_ہوسکتی

شادی ایک اہم فریضہ ہے۔۔۔جسے ہم نے بے جا رسومات اور فضول خرچیوں کی نظر کر دیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب رسومات خوشی کو منانے کا طریقہ ہے۔۔۔۔لیکن اصل میں یہ پیسہ اڑانے کا طریقہ ہے۔۔۔ان رسومات کی وجہ سے ہمارے ملک میں شادی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔جب تک کسی کے پاس پندرہ بیس لاکھ جمع نہ ہو جائیں تب تک وہ شادی کا نہیں سوچ سکتا۔۔۔۔اور آج اس مہنگائی کے زمانے میں ایک عام شخص تین چار بچوں کو پال لے اور پڑھا لکھا دے تو کیا وہ اتنی رقم بچا سکتا ہے کہ وہ ان چاروں بچوں کی وقت پر شادی کر سکے۔۔۔۔

پھر کیا ہوتا ہے؟؟؟؟

بچوں کی وقت پر شادیاں نہیں کی جاتی اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ آپ نوکریاں کرو اور کماؤ،پیسہ جمع کرو اور پھر شادی کرنا۔۔۔۔اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادیوں میں مزید دیر ہو جاتی ہے۔۔۔اور پھر نوجوان نسل جس بے رہروی کا شکار ہے وہ تو سب کے سامنے ہی ہے۔۔۔۔۔

شادیوں میں ہونے والے اخراجات کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔

آج کل میرج بیورو کے ذریعے رشتے کروائے جاتے ہیں۔۔۔ان میرج بیوروز کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ پندرہ ہزار سے فیس شروع ہوتی ہے اور اگر ڈاکٹر انجنئیر یا بیرون ملک رشتہ کروانا ہو تو یہ فیس ایک ڈیڑھ لاکھ تک بھی لی جاتی ہے۔رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والے افراد کے لیے اچھی چائے کا انتظام کیا جانا بھی اکثر لڑکی والوں کی جیب پر بھاری پڑتا ہے۔

پھر منگنی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اگر دونوں جانب سے رسم کروائی جاتی ہے تو کپڑوں کا لین دین ، سونے کی انگوٹھیوں کا تبادلہ اور کھانے کا انتظام،یہ تمام اخراجات کر کے منگنی کی رسم پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔

پھر شادی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے آج کل مہنگائی کے باوجود شادی کے فنکشنز میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نئے نئے فنکشنز ہمارے کلچر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ مہندی اور سنگیت جیسی رسمیں ہم نے ہمسائیوں سے لے لی ہیں،برائیڈل شاور اور ہنی مون فرنگیوں سے لے لیا،میلاد اور قرآن خوانی خود ایجاد کر لیے۔۔۔۔ اس طرح ایک شادی جس کے لیے اللہ نے صرف نکاح کا حکم دیا ہے اسے ہم نے دس طرح کے فنکشنز کے اضافے کے بعد بہت مشکل بنا لیا ہے۔۔

آجکل شادیوں میں مندرجہ ذیل فنکشنز کیے جاتے ہیں۔۔

قرآن خوانی اور میلاد
مایوں
مہندی
سنگیت
برائڈل شاور
نکاح
برات
ولیمہ

قرآن خوانی اور میلاد کے فنکشنز کو شادی میں برکت کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ سیپارے مدرسے کے بچے پڑھتے ہیں،نعتیں نعت خواں پڑھ لیتے ہیں ںہ کسی کو دعا میں دلچسپی ہوتی ہے نا ہی درود میں۔۔۔۔ایک رسم کی طرح یہ سب بھگتا دیا جاتا ہے۔۔۔مہندی مایوں کے فنکشنز کو کلر ڈے کی طرح منایا جاتا ہے۔۔ایک ہی رنگ کے کپڑے،اسی رنگ کی ڈیکوریشنز، انہی رنگوں کی مناسبت سے کھانے،ڈھولک اور ناچ گانا۔۔۔۔سنگیت پر پروفیشنل گانے والے اور ناچنے والے بلوائے جاتے ہیں۔ جو ساری ساری رات اودھم مچاتے ہیں اور لوگ انتہائی دلچسپی اور شوق سے اس سب میں شامل رہتے ہیں ۔۔۔

شادیوں میں لوگ برکت اور خدا کی رحمت چاہتے ہیں لیکن ایک دن قرآن خوانی اور میلاد کر کے رحمان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تین چار دن ناچ گا کر شیطان کو خوش کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ جس کو زیادہ خوش کرتے ہیں اسی کا آشیرباد انکے ساتھ ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے طلاق کی شرح اتنی بڑھ رہی ہے۔

دلہن کا شادی کا جوڑا بہت مہنگا لیا جاتا ہے۔ ڈیزائنرز لہنگے دو لاکھ سے سات آٹھ لاکھ تک ملتے ہیں۔۔۔عام بازاروں میں بھی لہنگے بیس ہزار سے ایک لاکھ تک ملتے ہیں۔سونا مہنگا ہونے کے بعد دلہن کی جیولری آرٹیفیشل لی جاتی ہے لیکن آرٹیفیشل جیولری اگر معیاری اور نفیس بنی ہوئی لی جائے تو برائیڈل سیٹ کم از کم دس پندرہ ہزار کا ملتا ہے۔

دلہن کا میک اپ اگر اچھے پارلر سے کروایا جائے تو کم از کم پچیس تیس ہزار کا ہوتا ہے اور اگر سگنیچر میک اپ کروایا جائے تو وہ کم از کم چالیس پچاس ہزار کو ہوتا ہے۔۔۔شادی کے ہالز دو تین سو مہمانوں کے تین چار گھنٹے کے فنکشن کے ایک ڈیڑھ لاکھ روپے مانگتے ہیں۔

شادی کے کھانوں میں پانچ چھ ڈشز کا ہونا باعث عزت سمجھا جاتا ہے۔ آج کل ایک نیا ٹرینڈ سویٹ ڈشز کے بوفے کا ہے۔۔اس میں سویٹ ڈشز کی چھ سات اقسام رکھی جاتی ہے جس میں مختلف کیک،حلوے، آئسکریم وغیرہ شامل ہے۔شادی کے ہالز کی سجاوٹ ، گھروں کی سجاوٹ اور سیج کی سجاوٹ بھی ہزاروں کا خرچ کرواتی ہے۔شادیوں میں فوٹو شوٹ،مووی اور تصاویر کے لیے فوٹوگرافر کی خدمات لی جاتی ہیں جن کے مکمل پیکجز بیس تیس ہزار کے ہوتے ہیں

شادیوں میں ایک اور ٹرینڈ ڈریس کوڈ رکھنے کا شروع ہو چکا ہے۔ اس میں تمام مہمانوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ ایک جیسا لباس پہنیں جیسا کہ مہندی کے لیے شرارہ،برات پر میکسی اور ولیمے پر ساڑھیاں پسند کی جاتی ہیں۔ مردوں کے لیے برات پر قمیض شلوار کے ساتھ ویسٹ کوٹ اور ولیمے پر پینٹ کوٹ پہنا جاتا تھا۔اسکے علاوہ کچھ جگہوں پر ایک رنگ کےلباس پہننے کا بھی رواج عام ہے۔اس وجہ سے نا صرف جس گھر میں شادی ہوتی ہے انکا خرچ ہوتا ہے بلکہ جو مہمان آ تے ہیں انکا بھی بہت زیادہ خرچہ ہو جاتا ہے۔

دلہے کے گھر والوں اور رشتے داروں یعنی اوپر والوں کے لیے بھی بہت سےکپڑوں اور تحائف کا انتظام کیا جاتا ہے جو کہ ایک زائد خرچ ہوتا ہے۔۔جہیز میں لڑکی کو ضرورت کی ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔الیکٹرانکس،فرنیچر،برتن،بستر،کپڑے اور مہنگے زیورات تک دئیے جاتے ہیں۔کئی جگہوں پر تو موٹر سائکل،گاڑی وغیرہ بھی دی جاتی ہے اور گاؤں دیہاتوں میں بھینس گائے وغیرہ بھی دی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں شادی کرنا اس قدر مشکل کام بن گیا ہے کہ اس فریضے کو انجام دینے سے مہینوں پہلے اور بعد میں ٹینشن لی جاتی ہے۔ پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے اور جن لوگوں کی باتوں کے ڈر سے یہ سب اس طرح سے کیا جاتا ہے وہ لوگ باتیں پھر بھی کر کے ہی جاتے ہیں۔اسلامی لحاظ سے دیکھا جائے تو نکاح کرنا سنت ہے اور اس نکاح کا اعلان کرنا ضروری ہے۔اسکے بعد ولیمہ کی دعوت سنت ہے۔یہ سب معاملہ اسی طرح کیوں نہیں اپنایا جا سکتا۔۔۔۔

صاحب حیثیت لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے سادگی سے شادی کی تو لوگ کیا کہیں گے حالانکہ صاحب حیثیت شخص جو کام کرتا ہے پھر اسی کام کو باقی لوگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ ان کی حیثیت اجازت دے یا نہ دےاور اس طرح شادی کو سادگی سے کرنے کی بجائے مزید فضول خرچیوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔۔۔اسکی بجائے اگر صاحب حیثیت لوگ سادگی سے شادیاں کرنے لگیں تو وہ لوگ باقی سب کے لیے مثال بنیں گے اور معاشرے میں سادگی سے شادیاں کرنے کا رواج عام ہو جائے گا۔

سادگی سے شادی کرنے کے لیےکچھ تجاویز ہیں۔۔

نمبر1:- نکاح گھروں میں کیے جائیں جس میں صرف قریبی عزیزوں کو دعوت دی جائے۔ باقی دوست احباب کو بچی کے نکاح کی اطلاع دینے کے لیے انکے گھروں میں مٹھائی وغیرہ بھجوا دی جائے۔۔۔

نمبر2:- شادی کا جوڑا سادہ رکھا جائے۔ دس پندرہ ہزار سے زیادہ قیمت نا ہو۔

نمبر3:- ولیمہ میں ون ڈش ہونی چاہیے۔

نمبر4:- ہرفنکشن کی الگ تصاویری البم کی بجائے ایک ہی البم میں ہر فنکشن کی دو تین تصاویر کے حساب سے لگائی جائیں۔۔۔

نمبر5:- پارلر کے مہنگے میک اپ کی بجائے نارمل میک اپ کیا جائے کیوں کہ دلہن کے چہرے پر ویسے ہی روپ آیا ہوتا ہے اسے میک اپ سے چھپانے کی بجائے کم میک اپ سے نکھارنا چاہیے۔

نمبر6:-جہیز میں صرف بہت ضروری چیزیں ہونی چاہیے۔۔۔۔ جہیز کو لڑکی کی وراثت کا نعم البدل نہیں سمجھنا چاہیے ۔

نمبر7:-حق مہر کم رکھنے چاہیے اور نکاح نامے میں لڑکی کو دئیے جانے والے تمام حقوق کاٹنے کی بجائے انہیں باقاعدہ لکھا جانا چاہیے۔۔

نمبر8:-شادیوں پر خرچ کیا جانے والا بیس پچیس لاکھ روپے کو دلہا دلہن کو انکی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے تحفے کے طور پر دے دیا جائے تو انکے کئی معاشی مسائل حل ہو جائیں۔

سادگی سے شادی کرنے کے بارے میں ہمیں کمپین چلانی چاہیے۔ ہمیں اس موضوع پر بات کرنی چاہیے۔ ہمیں سادگی کی طرف جانا چاہیے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک میں شادیاں کرنا آسان ہو جائے تاکہ ایک عام آدمی بھی اپنے بچوں کی شادیاں وقت پر کر سکےاور نوجوان طبقے کو بھی نا آسودہ خواہشات کے لیے غلط راستے نہ اپنانے پڑیں۔

[ آنسہ رانا ]

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button