افسانے

ذرہ متبادل

!!آہ وہ جنوری کی ٹھٹھرتی صبح

!!لحاف کی گرمایش

!!حی علی الفلاح

!کانوں میں رس گھولتی آوازیں

!سکوت اتنا کہ مر جانے کو جی چایے

!دور کہیں پٹڑی پر ریل کے دوڑنے کی آواز

فقط سارا عالم فیکون کی تشریح بنا ہوا

اندھیری رات چھٹنے سے صبح کو بھی وجود ملا

کن کی تڑپ کے ساتھ مانگنے والوں کو فیکون کا اشارہ مل رہا!

دلوں کے داغ دھوئے جا رہے ہیںڈگمامگاتے ایمان لیکن پھر بھی سجدہ ریزی آہ زاریاں جاری ! کیونکہ بات تو صرف تڑپ کی ہوتی ہے اس تڑپ کو تم ہلکا نہ لینا یہ جب ا پنی پہ آ جائے تو تمھاری جان پہ بن آےء۔یہ تڑپ بھی پھر کیا تڑپ ہے جب منصور انالحق کہتے کہتے جان کی بازی ہار جائے۔یہ تڑپ تو وہ تڑپ ہے دکھ کی کیفیت ہےنظر کے سامنے لخت جگر نور نظر نہیں ،بینا سے نابینا ہو گئے ہیں مگر ذات۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

ذات ایسی کہ مع الصابرین کی مثال بنی ہوئی ہےیہ تڑپ تو وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس کے بر گزیدہ بندے ہیں ۔بلند ہاتھ کیے جاے نماز پر بیٹھی وہ ایسے مدھم آواز میں رب سے سرگوشیاں کر رہی تھی وہ دونوں ہاتھ اٹھائے گڑ گڑا رہی تھی لبوں پر مسلسل التجائیں تھیں وہ روز ہی ایسے مانگتی تھی لیکن آج کچھ اور ہی سوز تھا جیسے اس التجا کو سنا جانا ہو

اسے سجدے میں مانگنا اچھا لگتا تھا بھیگتی آنکھیں ڈگمگاتے ہاتھ لیے آہستگی سے وہ سجدے میں گر گئی۔نیند کی کیفیت طاری ہونے لگی ایسے محسوس ہونے لگا دل کا بوجھ ہلکا ہو چکا ۔۔۔دل کی طمانیت واپس آنے لگی ہو جیسے۔وہ اپنے لئے ہدایت مانگ رہی تھی وہ کسی نا محرم کی محبت میں مبتلا نہ تھی بلکہ وہ تو گزرے حالات میں کٹھن رعنائیوں میں رب سے کیے شکوے ناراضگیوں،بیزاریوں،نادانیوں کی معافی کی طلبگار تھی۔

خوابوں کی کرچیاں جو ہوئی تھیں اس  کی،جب خواب ٹوٹتے ہیں نا یہ روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں۔اس کو اپنوں کی بہت سپورٹ تھی ۔باپ پیار سے بیٹی نہیں بلکہ اپنا بہادر بیٹا کہتا تھا اسےاور ہمیشہ وہ باپ کی دلاری ہی تو رہی تھی ۔وہ اس کے خواب پورے کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اسی لئے تو جدی پشتی زمینیں تک اس کے لئے قربان کرنے کے لییے تیار تھا وہ ۔

اس فیصلے کو سن اس کی بچی کھچی نیند بھی اڑ چکی تھی نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی وہ کاروبار اور آباؤ اجداد کی وراثت صرف اس کا حق نہیں تھی وہ اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ہمیشہ سے لیڈ رول کرنے والی تھی ان کا رول ماڈل ایسا کمزور نہیں ہو سکتا تھاوہ ہمیشہ سے میڈیکل میں داخلہ لینا چاہتی تھی لیکن اب کی بار بھی وہ قسمت کے سامنے بے بس ہو چکی تھی لیکن اس سال کی نا کامی نے اسے مضبوط بنا دیا تھا اب وہ اپنے رب کی رضا پر راضی رہنے والی بن چکی تھی

بس پھر کیا تھا؟

ظرف کو وسیع کر لیا

رکے لمحات،فکری اندازسب چھوڑ دیے پیچھے۔

شکوے شکایتیں کم کر دیں

  • اور؟؟؟؟؟؟

اور خواہشیں مختصر کر دیں

اس طرح اس نے اپنی زندگی کو آسان بنالیا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button