اسلامک

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت

داماد رسول، ہمراز مصطفٰی، ہم زلف حیدر کرار ،سسر حسن ابن علی، جامع القرآن، سخاوت کے مہر و منیر ،جن سے حیا کرے خود رب ذوالجلال وہ پاک ہستی ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا محاصرہ کر لیاگیا تو یہ خلافت کا آخری دور ہے اور آپ کی عمر82 سال تھی۔ یہ تاریخ کا المناک باب ہے کہ حضرت عثمان غنی پر چالیس دن تک پانی بند تھا ایک منصوبہ تھا تین لوگ تین مختلف شہروں مصر سے ، کوفہ سے اور بصرہ سے ایک ایک ہزار آدمیلے کر مدینہ پہنچے۔حضرت علی المرتضی سے ملے ام المومنین سیدہ عائشہ سے ملے اور بعض اصحاب سے ملے ۔تو انہوں نے انہیں سمجھا کر واپس بھیج دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ پراقرباٗ پروری کاالزام عائد کیا تھا

پھر یہ تھا کہ آپ نے کم عمر گورنر کم عمر لوگ مقرر کیے ہیں۔اس پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ حضرت اسامہ بھی تو کم عمر تھے حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو اگر مقرر کیا تھا تو یہ تو مثال ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن یہ ایک منصوبہ تھا اس منصوبے کے تحت تین جگہ سے لوگ آئے تھے وہ تین دن کی مسافت کے بعد پھر تینوں واپس آ گئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ تینوں کے واپس آ گئے کوئی ایک تو نہ آتا اگر یہ سب طے شدہ منصوبہ نہ ہوتا۔ جس نے مدینتہ المنورہ کو گھیر لیا اور بلوائیوں نے اس طرح کے حالات پیدا کر دیئے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ شہر مدینہ سے باہر تھے اور اپنے بیٹوں امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عثمان غنی کے دروازے پر مقرر کیا تاکہ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچتے تھے

اب سات سو صحابہ اجازت طلب کر رہے ہیں آپ ان بلوائیوں سے نپٹنے کا اجازت نامہ دے دیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے کہا کہ نہیں میں ایسی اجازت نہیں دوں گا جس سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا شہر مدینہ کے لوگوں کے خون سے لال ہوجائے آپ کے غلاموں نے جب تلوار اٹھا لی تو آپ نے فرمایا کہ میرا حکم ہے کہ تم سارے تلوار نیچے رکھوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ پڑھنے پڑھانے والے لوگ تھے تعلیم و تعلم فن کا تعلق تھا لیکن وہ بھی آپ کے دفاع میں آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی حضرت عثمان غنی روک دیا۔مالک بن اشتر کہنے لگا کے ہم آپ کی دستبرداری کے خواہاں ہیں آپ خلافت سے دست برداری اختیار کر لیجئے۔حضرت عثمان غنی نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا۔ دستبردار ہونا سب سے زیادہ آسان تھا لیکن حضور نے ارشاد فرمایا اے عثمان تمہیں اللہ ایک قمیض پہنائے گا لوگ اس کو اتارنا چاہیں گے تم کبھیاس کو نہ اتارنا ۔اس سے مراد خلافت کی قمیض تھی اگر آپ دستبردار ہوجاتے تو خلافت ایک بازیچہ بن جاتی ہے چند آدمیوں کے پریشر سے خلافت سے دست برداری کرنا پڑتی۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے چند باغی تھے ان کو کس طرح کچل دیا جاتا لیکن نہیں ایک تو یہ کہ مدینہ کی حرمت پامال نہ ہو اور دوسرا پورے عالم اسلام کو آگ لگانے کا اور وہ جو ان کےتین آدمیوں کے پیچھے کام کرنے والے نادیدہ ہاتھ تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ یہاں سے تینوں شہر مختلف سمتوں میں تھے تینوں سمتوں میں جب لاشیں جائیں گی تو پورے عالم اسلام کو ہم جنگ کی آگ میں دھکیل سکیں گے۔ حضرت عثمان غنی ان سازشوں سے آگاہ تھے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں خلافت سے دستبردار بھی نہیں ہوگا اور مدینہ کی عظمت بھی پامال نہیں ہونے دوں گا اور تیسری بات یہ کہ میں خود مظلوم شہید کر دیا جاؤں تو آپ نے یہ گوارا کیا۔ 18ذوالحج ،جمعہ کا دن اور آپ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے حضرت امام حسن امام حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر اور دیگر لوگ آپ کے دروازے پر پہرا دے رہے تھے لیکن باغی پچھلے گھر سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر داخل ہو ئےتلوار سے وار کیا آپ کی زوجہ حضرت نائلہ آگے بڑھی اور ہاتھ سے روکنا چاہتی تھی مگر انگلیاں کٹ گئی پھر دوسرا وار کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا دایاں ہاتھ کٹ کے گر گیا۔آپ نے افسوس کیا کہا کے تم نے وہ ہاتھ کاٹ دیا جس میں وحی کی کتابت کیا کرتا تھا اس کے بعد آپ پر 9 وار کر کے آپ کو شہید کر دیا گیا اور آپ کا خون قرآن مجید پڑھتے ہوئے اس آیت پر گرا

فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ(۱۳۷)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی بھوکے پیاسے شہید کئے گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور فتنوں کا ذکر کر رہے تھے تو ایک شخص نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور وہ مجلس وعظ کے قریب سے گزر گیا اور حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ شخص حق پر ہوگا۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور جا کے دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ تھے تو میں نے حضرت عثمان کے چہرے کو پکڑ کے تھوڑا سا حضور کی جانب کیا تو حضور نے فرمایا کہ جب فتنے ہوں گے یہ حق پہ ہوگا۔ حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اس شخص کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا جو حضرت عثمان غنی رضی رضی تعالی عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ کارنامہ تھا کہ آپ نے اپنی جان پیش کر کے امت کو جو فتنوں سے محفوظ کر لیا اور امت کو بچا لیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ پر کروڑوں رحمتیں کروڑوں سلام ہم آپ کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک پاکستان کو بھی اپ رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران عطا فرمائے۔آمین

تحریر کنندہ:محمد احسان غوث

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button