دیس پردیس کی خبریں

آسودگی

“آسودگی”

تحریر فیضان خانزادہ

مشکلات کا شکار ہوں
ہر آنکھ اشکبار ہوں
شہر کو کس کی نظر لگی
بھائی میں بیمار ہوں

اس بار عید الاضحی پر کچھ خاص اپنائیت کی فضا دکھائی نہیں دی کیونکہ اس بار عیدالاضحیٰ اور ابر رحمت کے ساتھ ساتھ بلدیاتی الیکشن بھی ہونے تھے یوں لگا کے عوام کی بے جا اصرار کے بعد اس بار زیادہ تر آزاد امیدوار عوام کی نمائندگی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں زیادہ تر کی تعداد نوجوان نسل ہے کل ہی کی بات ہے دیوار پر بنی ایک انتخابی نشان کو دیکھ کر مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ عوام مہنگائی سے بہت زیادہ تنگ آ چکی ہے اور اپنی لیے ایک لیڈر کی تلاش میں پہلے سے زیادہ پر امید ہے کیونکہ اقلیتیوں کا خصوصی تحفظ اور امن و امان کو قائم رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے جو آج ایک خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات فیز2 کے الیکشن چوبیس جولائی کو ہونے ہیں

جس کے باعث امیدواران اپنی اپنی یوسیز میں عوام کے ساتھ جلسے جلوس اور ریلیوں کے ساتھ ساتھ گلی کوچے اور نکڑ پر تقریر کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن ان سب عمل کے باوجود کراچی کی صورت حال سے عوام بخوبی واقف ہے نکاسی آب ہو یا پھر لوڈشیڈنگ آپ سب کو علم ہوگا کل پنجاب میں بھی الیکشن ہونے ہیں جس میں آزاد امیدوار اور نون لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اگر پنجاب میں ہم مہنگائی کی بات کریں تو مہنگائے کی نسبت سے نون لیگ کو کافی محنت کرنی ہوگی کیونکہ مہنگائی کی شرح میں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث عوام شدید پریشان دکھائی دے رہی ہے اس کا اثر ن لیگ پر پڑ سکتا ہے الیکشن میں عوام کی حق رائے دہی آنے والے تمام الیکشنز کی نوید ہوگی آپ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ پہلے کی طرح مشترکہ حکومتوں کا ہی دور ہوگا پہلی کی سیاست اور آج کی سیاست میں بڑا گہرا فرق دکھائی دے رہا ہے پہلے سیاستدان پارٹیز تبدیل کر لیا کرتے تھے لیکن آج سیاست دان ہی تبدیل ہوتے دکھائی دے رہا ہے میری اس مختصر سی تحریر کا متن یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پریشانیاں تو بےحد لاحق ہیں لیکن لگتا ہے اس بار عوام اڑ بیٹھی ہے

جبکہ حکومتی اعلانیہ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں کمی ہوگی اس کمی سے دیکھنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ عوام پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے یہ تو 24 جولائی کو ہی معلوم ہوسکے گا جبکہ دو ہزار پندرہ میں ایم کیو ایم میں 135 سیٹیں حاصل کی جس کے بعد میئر ایم کے ایم وسیم اختر کراچی پر حکومت کرتے دکھائی دیے لیکن پچھلے برسوں کی نسبت آ اس بار حالات کچھ الگ دکھائی دے رہے ہیں آزاد امیدوار ان اور دیگر جماعتیں سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں ماضی میں بھی کراچی میں ایک ضمنی الیکشن ہوا جس میں آؤٹ آف ٹرن ووٹوں کی تعداد بیس فیصد رہی جس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ عوام کا اعتبار کم ہوتا جا رہا ہے دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف آرٹیکل چھ لگانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اخبارات کی زینت بننے والا یہ آرٹیکل چھ آخر ہے کیا ؟؟؟

ذہن و گمان میں کھلبلی مچا تا ہوا یہ سوال بالکل بجا ہے اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی شخص جوآئین کو غیر آئینی طریقے سے ختم کرے یا اس کی کوشش کرے بغاوت ارفع کا قصوروار قرار پایاۓ جائے گا اور اس عمل کا معاون بھی جرم کا قصوروار قرار پایا جائے گا اور اس کی سزا کا فیصلہ مجلس شعوری یا پارلیمنٹ کرے گی سیدھے اور عام عوام الفاظ میں اس کا مطلب پارلیمنٹ نے جو قانون منتخب کیا ہے اس کے مطابق نہ چلنا لگتا ہے کسی بڑے رہنما کی گرفتاریاں متوقع ہے خیر یہ تو وقت بتائے گا کیونکہ مہنگائی کی شرح میں بدترین اضافہ ایک مزدور طبقے کی تنخواہ سے گزارا ہونا بالکل ہی ناممکن سی بات ہے ہمارے ملک پاکستان پر بالخصوص اللہ رب العزت رحم و کرم فرمائے آمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button