تاریخ

صدارتی ریفرنس (زوہیب احمد)

صدارتی ریفرنس کیا ہے ؟ اور موجود صدارتی ریفرنس ۔

آج کل ملک کے سیاسی ماحول میں ایک بات بہت زیادہ سننےکو مل رہی ہے کہ صدرعارف نے سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا ہے جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کے منحرف ایم اینز کے مستقبل کا فیصلہ ھوگا۔ سب سے پہلے صدارتی ریفرنس کیا ہے ؟آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 186 میں صدر کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ جس کو ہم عام الفاظ میں صدارتی پاور بھی کہ سکتے ہیں۔

آرٹیکل 189 مشاورتی دائرہ اختیار۔
ایڈوائزری جیوریسڈیکشن آرٹیکل 189.
نمبر1: اگر، کسی بھی وقت، صدر یہ سمجھتا ہے کہ قانون کے کسی ایسے سوال پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے جسے وہ عوامی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے، تو وہ اس سوال کو غور کے لیے سپریم کورٹ کو بھیج سکتا ہے۔

نمبر2: سپریم کورٹ اس سوال پر غور کرے گی اور اس سوال پر اپنی رائے صدر کو بتائے گی۔اس کا مطلب کے صدر کے پاس اختیار ہے کے جہاں پر قانون میں عوامی اہمیت کا مسئلہ اتا ہے اور یہ کوئی سوال آتا ہے تو وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کہہ سکتا ہے کے قانونی تناظر میں اس کی تشریح کر کے اپنے رائے سے مجھے آگاہ کریں اور جب ایک دفعہ کوئی مسئلہ یہ کوئ قانونی سوال بھیج دیا جاتاہے تو سپریم کورٹ پابند ہے کہ اس ریفرنس کو جواب کے ساتھ صدر کو واپس کردے آیا وہ قانونی مسئلہ یہ سوال بنتاتا یہ نہیں اور یہ ایک رائے کے حد تک ہوگی جو کہ سپریم کورٹ کا فیصلا شمار نہیں ھوگا۔ یہ تو تھا آرٹیکل 189 کے متعلق لیکن اور جگہ بھی صدر، صدارتی ریفرنس دائر کرسکتا ہے جیسا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 سپریم جوڈیشل کونسل سپریم جیوڈیشنل کونسل میں صدر دو بنیادوں پر کسی جج کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرسکتا ہے

نمبر1) کسی جج کی بدتمیزی پر
نمبر2) جج کی جسمانی یا ذہنی طور پر اپنے دفتر کے فرائض کو صحیح طریقے سے انجام دینے کی نااہلی پر۔ موجودہ صدراتی ریفرنس میں بھی صدر نے آئین کا آرٹیکل اے (63) جس کے 16 کلاز ہے جو کہ پارلیمنٹیرینز کے نااہلی کے متعلق ہے کے تشریح کےلئے آئین کہ آرٹیکل 189 کے نیچے سپریم کورٹ کو بھیجا ہے جس میں حکومت کے طرف سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان پروی کرگا جس پر چیف جسٹس اف سپریم کورٹ عمر عطاء بندیال نے لارجر پانچ ممبر بنچ تشکیل دیدیا جن نام کے ابھی تک نام سامنے نہیں ائے۔ سپریم کورٹ اس معاملے پر صدر کو اپنے رائے سے جلد سے جلد آگاہ کرنے کا پابند ہے ۔

وہ سؤالات جو صدر نے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے کیے ہیں ۔ سپریم کورٹ سے چار بنیادی سوالات کی تشریح کی درخواست کی ہے۔
نمبر1) کہ کیا اگر کوئی خیانت کرتا ہے اور اپنی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے انحراف کرتا ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے اور اسے ڈی سیٹ یعنی اپنے کیے کی سزا دیتے ہوئے اسے اس کی نشست سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے ؟
نمبر2) کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے ایک وسیع مشاورت کے بعد آئین میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے رکن کو تاحیات نااہلی قرار دیا جا سکتا ہے تاکہ اس قسم کی دھوکہ دہی، غیرآئینی اور غیراخلاقی عمل میں شریک ارکان میں ڈر پیدا کیا جاسکے ؟
نمبر3) کہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے کیا ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ جس سے انحراف، فلور کراسنگ اور ووٹ بکنے جیسے عمل کو روکا جا سکے۔
نمبر4)کہ ایسا رکن جو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک نہیں کہتا اور اپنی نشست سے استعفیٰ نہیں دیتا اور بعد میں اپیل میں سپریم کورٹ سے بھی اگر اسے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور صادق اور امین نہ رہے تو پھر کیا ایسے میں اس رکن کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے گا؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button