افسانے

ان طبیبوں کا علاج کون کرے گا

“حافظہ نورافشاں”

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے پاس نہ کوئی نوکری تھی اور نہ ہی کوئی کاروبار تھا ۔صرف میرے شوہر کی نوکری سے گھر کا تمام خرچہ چل رہا تھا ۔ میری چند دنوں سے آہستہ آہستہ صحت بگڑ رہی تھی۔ایسا میرے ساتھ چار سال سے ہر رمضان المبارک میںں ہورہا تھا اور گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا وہ بھی بیماری کے ساتھ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ عطائی ڈاکٹر سے میں علاج کرواتی نہیں اور ایم بی بی ایس ہمارے گائوں میں دستیاب نہیں اور میں ایم بی بی ایس سے علاج کروانے کا خرچہ بھی برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ۔عید بھی آنے والی تھی اور ہزاروں خرچے سر پر منڈلا رہے تھے ۔

بچوں کے عید کے کپڑے،جوتے وغیرہ وغیرہ ۔پانچ نندوں کو عید بھی دینا ابھی باقی تھا۔سو میں سستے گھریلو ٹوٹکے کرتی رہی اس امید پر کہ میں بنا دوائی کے ہی ٹھیک ہو جاؤں گی لیکن سب امیدوں پر پانی پھر گیا جب ایک دن کچھ زیادہ ہی طبیعت خراب ہو گئی اور میں نے عمیر کو کال کی کہ آپ آفس سے کل کی چھٹی لے کر آنا تاکہ میں کل آپ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جا سکوں کیونکہ ہم ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور شہر ہم سے ۲۹کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور گاؤں میں ایک بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہے اگرچہ عطائی ڈاکٹر بہت سارے ہیں ۔ دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو نہ تو میں گھر چھوڑ کے جا سکتی تھی اور نہ ہی میں دونوں کے ساتھ لیکر اکیلی شہر جا سکتی تھی اس وجہ سے کہیں بھی جانا ہوتا تو عمیر کو دفتر سے چھٹی لینی پڑتی۔

بچوں کو کہیں لے کر جانا ہو تو بہت ساری تیاری کرنا پڑتی ہے۔ یہ وہ عورتیں ہی جانتی ہیں جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔آخرکار بہت ساری تیاری کرنے کے بعد ،۲۹ کلومیٹر سفر کر کے ہم شہر پہنچ گئے ۔عمیر کا کہنا تھا کہ میں کسی پرائیویٹ ڈاکٹر سے دوائی لوں کیونکہ ان کہ خیال میں پرائیویٹ کلینک پر مریض کا ذیادہ خیال کیا جاتا ہے اور سرکاری اسپتال میں سارا دن قطار میں لگ کر بھی قسمت سے ہی باری آتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ہے کہ جو ڈاکٹر اپنے گھروں میں یا اپنے گھروں کے پاس کلینک بنا کر بیٹھے ہیں یہ ناکام ڈاکٹر ہیں یہ عوام کی خدمت کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ یہ اپنی مرضی سے کلینک پر آتے ہیں اور بلاوجہ مریض کو گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں ۔ ایسے ڈاکٹر صرف پیسے کا لالچ رکھتے ہیں کیونکہ اپنے ذاتی کلینک پرایک ماہ کی تنخواہ سے دس گنا زیادہ کمائی ہوتی ہے۔ میں بضد تھی کہ بہت سے لوگ سرکاری علاج کرواتے ہی ہمیں بھی اسطرح کچھ بچت کرنی چاہیے ۔اگر فری دوائی ملنی ہے تو مجھے قطار میں کھڑے ہونے پر کوئی اعترض نہیں تھا کیونکہ پرائیویٹ کلینک پر چیک اپ کی بھاری فیس لی جاتی ہے اور بہت مہنگی دوائیاں لکھ کر دے دی جاتی ہیں ،مہنگے ترین ٹیسٹ الگ سے کروانے پڑتے ہیں۔اسطرح عمیر کی تنخواہ کا بڑا حصہ اسی میں خرچ ہو جاتا۔میرے ایسے خیالات کے باوجود مجھے عمیر کی بات مان کر پرائیویٹ کلینک پر جانا پڑا ۔

ہم سے پرچی بنوانے کی بھاری فیس لی گئی ۔ڈاکٹر صاحبہ کا انتظار بہت سے مریض پہلے ہی کر رہے تھے ۔کبھی نرس(جو نرس کم اور ڈاکٹر کے گھر کی نوکرانی ذیادہ لگ رہی تھی اس لیے کہ وہ بھاگ بھاگ کر ڈاکٹر کے گھریلو کام بھی کر رہی تھی ) کہتی کے وہ سو رہی ہیں وہ آدھے گھنٹے تک اٹھیں گی ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر اٹھنا ہی بارہ بجے کے بعد ہے توصبح ۹سے رات ۱۰ بجے تک کی ٹائمنگ کیوں لکھ کر لگائی گئی ہے؟ ایک گھنٹہ انتظار کرنے کہ بعد میں نے پھر نرس سے ڈاکٹر کا پوچھا تو وہ بولی وہ کھانا کھا رہی ہیں ۔اس کے بعد وہ کچھ کالز کریں گی اور آدھے گھنٹے تک آ جائیں گی اور ویسے بھی جب تک ۵۰ مریض کلینک پر جمع نہ ہو جائیں وہ نہیں آتیں ۔اس کی اس بات پر مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ بار بار مریضوں کی گنتی کیوں کر رہی تھی ؟ اس کا مطلب اگر ایک مریض پر ۵ منٹ لگیں تو مجھے ڈاکٹر کے آنے کے بعد بھی تقریباً ایک گھنٹہ اور انتظار کرنا ہو گا۔ آخر کار وہ محترمہ پونے دو گھنٹے بعد آ ہی گئیں ۔وہاں میں نے ایک اور مایوس کن منظر دیکھا کہ ڈاکٹر صاحبہ مریضوں کا چیک اپ کر رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ایک نرس سے بالوں میں تیل کی مالش کروا رہی ہیں اور دوسری نرس سے پیڈی کیور کروا رہی ہیں جو کہ ان کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہو گا ۔یہ دیکھ کر میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا میں نے عمیر کو کہہ دیا مجھے یہاں سے بلکل بھی دوائی نہیں لینی چلیں یہاں سے۔

چنانچہ ہم سرکاری اسپتال گئے اور ۵۰ روپے کی پرچی بنوائی اور وہاں پر پتہ چلا کہ لیڈی ڈاکٹر چھٹی پر ہے اور ایم بی بی ایس ڈاکٹرز نے۵۰۰ دیہاڈی پر اپنے کمرے کے باہر بندے بٹھائے ہوئے ہیں جو مریض کو چیک کرتے ہیں اور دوائی لکھ کر دیتے ہیں اور ڈاکٹر خود ائیر کنڈیشنڈ روم میں دروازہ لاک کر کے بیٹھے ہیں ۔ میری ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اب میں عمیر سے نظر بھی ملا سکوں۔آخر ہمت کر کے میں نے عمیر سے کہا کہ میں نے تو فی میل ڈاکٹر کو چیک اپ کروانا اور وہ یہاں موجود نہیں لہذا واپس چلیں گاؤں میں کسی بھی عطائی لیڈی ڈاکٹر سے دوائی لے لوں گی۔ عمیر نے کہا کہ آؤ ڈاکٹر کے کمرے میں چلتے ہیں وہ ڈاکٹر تو ہے لیڈی ڈاکٹر نہیں تو کیا ہوا عطائی ڈاکٹر سے تو بہتر ہو گا ۔ مجھے عمیر کی بات قابل قبول لگی اور ہم کمرے میں جانے لگے تو ہمیں روکا گیا یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر صاحب مصروف ہیں ۔ہم پھر بھی اندر چلے گئے ۔ڈاکٹر صاحب موبائل میں مصروف تھے اور کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر باہر بیٹا ہے آپ اس کے پاس جائیں ۔میں نے بتایا کہ مجھے لیڈی ڈاکٹر کے پاس جانا تھا وہ نہیں ہیں اور باہر والے ڈاکٹر کے پاس بہت سارے مرد مریض بھی ہیں تو آپ دوائی لکھ دیں۔ڈاکٹر رضا مند ہو گیا اور اس نے عمیر کو باہر جانے کا کہا تو عمیر نے بتایا کہ میں اس کا شوہر ہوں ڈاکٹر نے پھر بھی باہر جانے کا کہا اور وہ چلے گئے ۔ڈاکٹر فیس بک چلاتے چلاتے مجھ سے مرض کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔

جب میں نے مرض بتایا تو دھیمی اورگھٹیا مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے بہت سارے گھٹیا سوال کیے گئے جن کا میرے مرض سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔دوائی لکھنے سے پہلے میرا نقاب اتروایا گیا کہ چہرہ دیکھ کر بہتر علاج ممکن ہے ۔اس کے بعد مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا مجھے پہلے بھی کبھی یہ مرض ہوا ہے؟میں نے بتایا کہ رمضان المبارک میں ہو جاتا شاید پانی کی کمی سے۔مجھ سے یہ بھی پوچھاگیا کہ میں کہاں سے علاج کرواتی ہوں؟وہ کون سی دوا لکھ کر دیتے ہیں ؟یاد کریں اور مجھے بتائیں ۔مجھے ایک گولی یاد تھی میں نے گولی کا نام بتا دیا اور اس نے وہی لکھ دیا۔پھر مجھے کہا گیا کہ باقی گولیوں کے نام بھی بتاؤں ۔میں نے دماغ پر زور ڈالا اور دماغ کے کونوں کھدروں سے دوسری گولی بھی بتائی وہ بھی اس نے لکھ دی اور تیسری گولی نہ یاد آنے پر اس نے کوئی دوسری گولی لکھ دی ۔میری مایوسی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے ڈاکٹر کے سامنے پرچی اس کے کمرے میں پڑی کوڑے کی ٹوکری میں پھاڑ کر پھینک دی اور وہاں سے چل دی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!