ادب

سوشل میڈیا کے اثرات

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر ایک کو شخصی آزادی مہیا کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ پر اپنے اطراف آپ جو کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں سب سوشل میڈیا ہے۔ تصاویر، تحاریر، ویڈیوز، روابط، خبر اور پیغام رسانی سب میڈیا ہی کی کرامات ہیں۔ سوشل میڈیا وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ایک ایسا آزادانہ نظام ہے جہاں سب کو اپنی مرضی،مزاج اور قابلیت کے مطابق استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ وہ جگہ ہےجہاں ہم ایک دوسرے سے اپنے خیالات ، رجحانات، احساسات اور تجربات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔
اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک منفی دوسرا مثبت۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی منفی و مثبت اثرات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو ہماری طبیعت اور مزاج پر واضح طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا ایک نشے کی صورت ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے جس سے چھٹکارا ناممکن ہے۔ نشے سے چھٹکارا بھی بھلا کوئی آسان کام ہے۔ یہ ہمارے حواسوں پر ایسا سوار ہےجس میں الجھ کر ہم اپنا آپ کھو بیٹھے ہیں۔ منافقت، خود پسندی اور ریاکاری کی ایک ایسی دنیا سجائے ہوئے ہیں جہاں بے تحاشا لوگوں کے ہجوم میں بھی ہم تنہائی کا طوق گلے میں ڈالے پھر رہے ہوتے ہیں۔ حقیقی زندگی سے ہٹ کر اپنی شخصیت کا ایسا تاثر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جس کا آپکی ذات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہی وہ بیماری ہے جو ناسور بن کر آپ کی ذات کو اذیت ناک دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں آپ بے بس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ شے ہے جو آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے، دوسروں کے ساتھ موازنہ آپ کی ذات کو دیمک کی طرح کھوکھلا کردیتا ہے۔ آپ دو کشتی کے مسافر بن کر رہ جاتے ہیں۔یہ آپ کو ذہنی و جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے۔ میڈیا عوام الناس کو مختلف خبروں سے آشنائی فراہم کرنے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔ مگر بعض اوقات معلومات کا وسیع خزانہ انسانی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ اسی طرح میڈیا مغربی تہذیب کو فروغ دے رہا ہے جس سے مشرقی تہذیب کے نقوش مٹ کر رہ گئےہیں۔

روزمرہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال اضطراب و بے چینی کا باعث بنتا ہے۔ طبیعت بوجھل اور مزاج کرخت ہونے لگتا ہے۔ تحقیقی صلاحیتیں معدوم ہوکر رہ جاتی ہیں۔ وقت کا ضیاع ہوتا ہے علاوہ ازیں طلباء کی تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ مناظر کو کیمرے میں قید کرنے کی فکر میں ہم خوشی کا جشن منانے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا کی طاقت کو مثبت انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے میڈیا کی تباہ کاریوں سے نجات حاصل کی جائے۔

بے شک ہم اس لت کو ترک تو نہیں کرسکتے مگر کمی ضرور لا سکتے ہیں۔آپ سوشل میڈیا ضرور استعمال کریں مگرمنصوبہ بندی کے تحت، استعمال کا وقت مقرر کیا جائے، بنا تحقیق کے کوئی معلومات سوشل میڈیا پر نہ ڈالی جائے،آپ کو معلوم ہونا چائیے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں آپ کے بنیادی مقاصد کیا ہیں، اس کے استعمال سے آپ کے مسائل میں کمی آتی ہے یا مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے،والدین اپنی نگرانی میں بچوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کروائیں، درس گاہوں، تعلیمی اداروں میں ایسے سیمینار منعقد کروائے جائیں جو ذہنی سکون کا باعث ہوں۔ جہاں اس بات کی تربیت دی جائے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کیا جائے۔ اس کے فوائدو نقصانات سے آشنائی فراہم کی جائے۔ تاکہ آنے والی نسلیں اس لت سے محفوظ رہیں۔

از قلم عائشہ عثمان

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!