ادب

بد انتظامی

یہاں پر ہو رہی بد اِنتظامی
جہاں دیکھو وہاں خامی ہی خامی

ہمارا خُون پی کر، چاہتے ہیں
نہ ہو گی اِن رذِیلوں کی غُلامی

ہمارے شعر پڑھنا مانگتے ہیں
ہیں اِن میں عام کُچھ، کُچھ ہیں عوامی

ہمیں بھی لَوٹ جانا ہے کِسی دِن
یہاں سے اُٹھ گئے نامی گِرامی

بنا مجذُوب کوئی اِس میں کھو کر
ہُؤا ہے عِشق میں کوئی سوامی

تقاضہ دِل کا اُس نے یُوں کِیا تھا
ہمیں بھرنی پڑی ہر حال حامی

بنایا مُشکلوں سے ہم نے خیمہ
طنابیں کھینچ کے ہے چوب تھامی

کِیا ہے ترک ہم نے آنا جانا
کرے بے کل تِری جادُو خرامی

اگر شعروں میں تھوڑا دم ہے حسرتؔ
تو مُرشد بھی تو ہیں سعدیؔ و جامیؔ

رشِید حسرتؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site