سیاحت

وزیرستان سیاحت کیلئے موزوں مقام

وزیرستان وہ علاقہ ہے،جس کو دہشت گردوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ہر طرف خوف وحراس تھا۔دو بڑے آپریشن “ردالفساد” اور “ضربِ عضب” نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔پاک فوج کی لازوال قربانی کے بعد دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔اب وزیرستان میں امن کی فضا قائم ہے اور عوام نے لمبے عرصے بعد سوکھ کا سانس لیا۔
پاکستانی میڈیا نے وزیرستان کا ایک ہی چہرہ عوام کو دیکھایا اور وہ دہشت گردوں کا چہرہ ہے جبکہ وزیرستان کی خوبصورتی پر کبھی بات نہیں ہوئی۔اگرچہ موجودہ حکومت نے وزیرستان میں سیاحت پر توجہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی بھی عملی کام نہیں ہوا۔
وزیرسان کا علاقہ دیگر مشرقی علاقوں کی خوبصورتی سے کم نہیں بلکہ ان سے بھی حسین علاقہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے اس علاقے کو “لٹل لندن” یعنی چھوٹا لندن کا خطاب دیا تھا جس سے اس کی خوبصورتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس علاقے کی خوبصورتی قدرتی ہے۔ہر طرف سرسبز کھیت،خوبصورت جنگلات اور درختوں سے بھرے پہاڑ دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس کے علاوہ بہتے چشمے اور آبشاریں اس کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کرتی ہے۔
وزیرستان کے قریب تر علاقے جیسے بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک وغیرہ کے لوگ چونکہ مری،ناران،کاغان اور ایبٹ آباد نہیں جا سکتے،تو سیاحت کا لطف اٹھانے وزیرستان کا رخ کر سکتے ہیں اور جب سے وزیرستان میں امن آیا ہے،ان علاقے کے لوگ ہر آنے والی عید کو وزیرستان کی سیر کرتے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان علاقوں پر توجہ دے۔سیاحت کے مواقع پیدا کرے۔اور سیاحوں کیلئے سہولیات مہیا کرے۔جس سے نہ صرف سیاح کثیر تعداد میں ان علاقوں کا رخ کریں گے،نہ صرف حکومت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے
مواقع پیدا ہونگے۔
وزیرستان میں بسنے والے لوگ اکثر بےروزگار ہیں،انکے پاس کوئی روزگار نہیں۔اور اس وجہ وزیرستان میں حکومت کی عدم توجہ ہے۔ایک طویل عرصے تک وزیرستان کو تمام تر سہولیات سے محروم رکھا گیا لیکن اب چونکہ یہ علاقہ خیبرپختونخواہ میں ضم ہو چکا ہے تو حکومت کے پاس اب موقع ہے کہ اس علاقے کی خوبصورتی کو دینا کے سامنے پیش کریں،سیاحت پر توجہ دیں تاکہ مقامی لوگوں کیلئے روزگار پیدا ہو اور انکی زندگیاں تبدیل ہونا شروع ہو جائے۔اور وہ دوسرے علاقوں میں تجارت کرنے کے بجائے ،اپنے ہی علاقے میں اپنے بچوں کیلئے حلال کی رزق کمائیں۔یہ کام حکومت کیلئے ایک امتحان ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button