اسلامک

رہنما ئی ، رائے مسلط ، زبردستی اور آنے والا کل

رہنما ئی سے مراد انسان کی ایسی مدد ہے جس کے ذریعے وہ اپنی منزل کو حاصل کر سکے۔رہنمائی سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ آپ کسی پر زبردستی اپنی رائے مسلط کرےبلکہ رہنما ئی ایک مخلصانہ تعاون کا نام ہے جو صرف اور صرف انسان کی ذہنی صلا حیتوں اور استعداد کے مطا بق فراہم کی جا تی ہے۔رہنما ئی کے سلسلے میں والدین کے کردار کوبڑی اہمیت حاصل ہے۔آج کل والدین بچوں سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔

اسی وجہ سے وہ تعاون رہنمائی اور مدد کے بجائے رائے مسلط کرتے اور زبردستی کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شوق کا اندازہ نہیں لگا تے بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے ہر وسیلہ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کے نتائج کچھ ایسے سامنے آتے ہیں کہ بچہ کےآنے والے کل کا مستقبل بجائے سنوارنے کے بگڑنے لگتا ہے۔ رہنما ئی کے لئے والدین کا تعاون اور مدد اسلئے بھی محسوس کی جا تی ہےکہ بچے اپنا زیا دہ تر وقت گھر پر گزارتے ہیں ان کی عا دتوں اور رویوں سے والدین اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ بلکہ کسی حد تک بچے کے شوق اور صلاحیتوں کا بھی ادراک کر لیتے ہیں۔ والدین کا کا یہی مقصد ہو تا ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کر با عزت اور عالی مقام حاصل کر سکیں۔ جس کے لئے وہ بچہ کو اعلی تعلیمی اداروں میں داخل کراتے ہیں ۔ اور زیا دہ سے زیادہ پیسہ خرچ کر کے ہر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

والدین کے تعاون کے بغیر رہنمائی کی کوشش بے فائدہ ہے کیونکہ والدین اپنے بچوں کی سر گرمیوں سے اسا تذہ کو آگاہ نہیں کرے گئے تو اساتذہ کی محنت ضائع ہو جائے گی۔بچہ جیسے جیسے بڑا ہو تا ہے اپنی حرکتوں اور سر گرمیوں سے والدین کو اپنی فطری دلچسپیوں اور رحجانات سے آگاہ کرتا ہے والدین بھی ان سر گر میوں کو دیکھ کر مستقبل کی پیش گوئی کرنے لگتے ہیں ۔ مستقبل کے آنے والے کل کی پیش گوئی کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے بھی بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ ایک بہتر اور مثالی معاشرہ پیش آئے۔

Rimsha Malik

بیشک میرا رب ہی ہے جو دلوں کو قرار دیتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!