شوبز

ضلع کرک میں مندر میں توڑ پھوڑ کا افسوسناک واقعہ

ہم مسلمان ہیں اور مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ پر امن قوم ہے اس کی مثالیں ہمارے آباؤ اجداد کی زندگی میں جابجا نظر آتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج مسلمان میں وہ صبر و تحمل ختم ہوگیا ہے وجہ قرآن و سنت سے دوری ہے۔ ہم بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں عمل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری اقوام کی شدت پسندی کو دیکھ کر ہم بھی شدت پسند بنتے جارہے ہیں، ہم کہتے ہیں وہ ایسا کررہے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔
مجھے یہ تمہید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آج سے کچھ دن پہلے خیبرپختونخواہ کے ضلع کرک میں حکومت مندر کی توسیع کرنا چاہتی تھی اس پر وہاں ہنگامہ برپا ہوا اور لوگوں نے مندر میں توڑ پھوڑ کی۔ یہ بات کسی صورت قابل تعریف نہیں ہے کیونکہ اسلام اقلیتوں کی اور ان کے عبادت خانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی لشکر کو جنگ کے لیے روانہ فرمایا کرتے تھے تو اس کو نصیحت فرمایا کرتے کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، غلاموں اور عبادت خانوں کو کچھ نہ کہا جائے۔ یہ تو جنگ کے دوران کا حکم تھا جس میں کسی چیز کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا لیکن ہم بغیر جنگ کے ایسا کررہے ہیں۔
میری نظر میں ہم شاید شدت پسندی کی طرف مائل حکومت کے حالیہ کچھ نامناسب اقدامات کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ حکومت نے سرکاری پیسے سے سکھوں کے لیے کئی ایکڑز پر مشتمل ایک گردوارہ بنادیا جبکہ اس پر کئی ارب خرچ کیے گئے اس کے بلمقابل میری معلومات کے مطابق چند ایک لاکھ میں ہماری مسلمان حکومت نے ایک بھی مسجد نہیں بنائی۔ اور پھر حکومت ملک کے دل یعنی اسلام آباد میں ڈیڑھ یا دو سو ہندوؤں کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے مندر کو بنانے جارہی تھی اس پر بھی عوام کا ردعمل آیا اور پھر حکومت اس منصوبے سے پیچھے ہٹ گئی۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جب سکھر اور اس کے گردونواح میں سترہ مساجد غیر قانونی قرار دے کر شہید کردی گئیں تب اس پر حکومت نے کوئی ردعمل نہیں دیا نہ کوئی علیحدہ زمین دینے کا کہا گیا۔ اس پر ایک مرد مولانا راشد محمود سومرو اٹھا اور کرینوں کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ یہ کرینیں میرے سینے سے گزر کر جائیں گی۔ پھر اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت سے سرخرو ہوا۔ کیا اب پاکستان میں مساجد کو بچانے کے لیے عدالتوں میں جانا پڑے گا؟
ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صرف اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر کاربند ہے اور اس کو مسلمانوں سے شاید کوئی سروکار نہیں ہے۔ اسلامی ریاست کے اندر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر صرف اقلیتوں کی کمیونٹی کرتی ہے ناکہ حکومتی سطح پر اس طرح کے کام کیے جاتے ہیں۔ خلافت راشدہ کا زمانہ ہمارے سامنے ہے جو تقریباً ستائیس سال بنتے ہیں، اس سارے ٹائم میں کوئی ایک بھی اقلیتی عبادت خانہ حکومتی سطح پر تعمیر نہیں کیا گیا۔ آخر میں پھر یہی کہوں گا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے بہرحال اقلیتوں کے عبادت خانوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے اس وقت تک جب تک کہ وہ شرپسندی نہ کریں۔ اگر وہ معبد کسی بھی طرح کی تخریب کاری یا پھر ریاست کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز بن جائے تب مسجد ضرار کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

محمد اسامہ

میں محمد اسامہ نمل یونیورسٹی ملتان کیمپس میں بی ایس انگلش کا طالب علم ہوں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!