افسانے

خبریار : قسط نمبر 125پہلا ہاف “کشمیریوں اور کسانوں کےہاتھوں مودی کی شامت آگئی!”

اسلام علیکم خبریار میں خوش آمدید میں ہو آپ کا ہوسٹ آفتاب اقبال…..!
خواتین و حضرات شو کے آغاز میں آپ کی ملاقات کرواتے ہے ڈمی موزیم سے آئے ایک کسان بھائی’ ارنب گسوامی اور ساتھ تشریف رکتے ہے نردمودی.
نردمودی:- پرائم منسٹر نردمودی کہے!
آفتاب اقبال:- پرئم منسٹر نردمودی’ پرئم منسٹر نردمودی پرئم منسٹر نردمودی
نردمودی:- ایک اور بات کا جواب دیں؟
ڈاکٹرعروبہ:- اور وہ یہ ہوگا کہ مجھے تیسرے نمبر پر انٹرڈوس کروایا.
نردمودی:- الٹاہی تعارف کرواتے ہے یہاں سے سیدھا ہوتا ہے.
آفتاب اقبال:- نہیں نہیں ٱدھرہمارا سردار بھائ بہٹھا ہے یہ کیسے ہو سکتاہے. الٹی ریل یہاں سے چلتی ہے. سیدھی ادھر سے چلے گی آپ کے تیور بھی اچھے نہیں لگ رہے( ارنب گوسوامی)
ارنب گوسوامی:- ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہ میں نہیں بولوں گا. ( سامعین ہنستے ہوئے ہاہاہاہا)
آفتاب اقبال:- 20 ہزار پاؤنڈ اسے جرماناہوا ہے انگلینڈ میں اور ایسا بےشرم ہے ابھی تک معزرت نہیں کی اس نے .
انم :- سر کس بات پہ جرمانا ہوا ہے؟
آفتاب اقبال:- کہتاہےکہ پاکستان کے سارے سیاستدان’ سائنسدان’حکمران سب دہشتگرد ہے. نفرت امیزا تقاریر پے پکرےجانا بہت بڑی بیستی ہے ایک جرنلیسٹ کی کیوں کہ یہ جرنلیسٹ ہے ہی نہیں.
ارنب گوسوامی:- تالیاں مارتے ہوئے’ اپنے روایتی انداز میں” بیس ہزار پاؤنڈز آفتاب اقبال صاحب!یہ وزیراعظم نریندر مودی کےلئے چھوٹی سی رقم ہے!
آفتاب اقبال:- شرمندگی اس پہ نہیں ہے کہ جرمانہ ہوا ہے” رقم بہت چھوٹی ہے”
نریندر مودی:- یہ تو کوئی جرمانہ نہیں اتنے تو میں نے بیس باری دے چکاہوں.
آفتاب اقبال:- اچھا اتنا امیر ہونےکےباوجود اندر سے کامینا’ تھوتھلا ہے.
ارنب گوسوامی:- میں یا یہ؟( سامعین ہنستے ہوئے ہاہاہاہا)
آفتاب اقبال:- تم تم
ارنب گوسوامی:- واہ یہ ایک اچھی چال ہے بہت اچھاحربہ ہےمجھےخاموش کرنےکا.کیونکہ آفتاب اقبال صاحب میں نے آپکو بےنقاب کیاہے اور آپ کے ملک کو بھی!
ڈاکٹر عروبہ:- کیا بےنقاب کیاہے؟
ارنب گوسوامی:- آپ لوگ برطانیہ کی عدالتوں کورشوت دیتے کی قابلیت رکھتے ہیں!
ڈاکٹرعروبہ:- سچی؟
ارنب گوسوامی:- آپ لوگ اس کام میں اولمپک گولڈ میڈل لینے کی اہلیت رکھتے ہیں.کیا لابی ہے, کیالابی ہے. تلیاں مارتے ہوئے آفتاب اقبال صاحب!
آپ میرے بارے میں کیاسوچتے ہیں؟
آفتاب اقبال :- کہ تم گردن کا درد ہو ( سامعین ہنستے ہوئے ہاہاہاہا)
کسان بھائی(سردار):- مجھے لگ رہاہے کہ میں انگلش فکم دیکھ رہا ہوں.( سامعین ہنستے ہوئے ہاہاہاہا) ادھر سے انگلش ادھر سے انگلش.
آفتاب اقبال:- سردار جی کیا حال ہے آپ کا؟
سردار صاحب:- رب کا شکرہے آپ سناؤ؟
آفتاب اقبال:- کیسا چل رہاہے جلسہ کیسا چل رہاہے احتجاج؟
سردار:- بہت اچھا چل رہاہے.
آفتاب اقبال:- ایک خاتون ساٹھ سال عمر ان کی اور وہ دھائی سو کلومیٹر کے فاصلے سے خود گاڑی جلا کر دھرنے میں پونچی.
سب کاسٹ:- واہ جی واہ
ڈاکٹر عوبہ:- سر آپ نے ان کو انٹروڈوس نہیں کروایا!
آفتاب اقبال:- ہاں معزت ” خواتین و حضروت یہ ہماری کشمیری ڈیسڈنٹ ہے مسلم خاندان سے ان کا تعلق ہے اور انہوں نے انکار کر دیامیں وہ الفاظ استعمال نہیں کرتا جو انہوں نے نرد مودی کے بارے کہے.
نردمودی:- کیا کہا اس نے؟
آفتاب اقبال :- بس رہنے دیں.
نردمودی:- بتائیں میں جاننا چاہتاہوں کیا کہا ہے اس نے.
آفتاب اقبال:- اس ںے کہا ہے کہ میں اس بھڑے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی .
ارنب گوسوامی:- یہ کشمیری ہے! اپنی کرسے کے پیچھے چھپتے ہوئے اس کے پاس بہت سارے پتھر ہوں گے.
نرد مودی: کچھ نہیں ہوتا بیٹھ جاؤ .
ارنب گوسوامی:- تمہیں نہیں پتا ان کے پاس اتنے بڑے پتھر ہوتے ہیں

دوسرا ہاف انشااللہ کل اپلوڈ کیاجائےگا.
#funny

Khawaja Sohaib

یوٹیوبر+ کمپیوٹرسائنس طالبعلم 5 سمیسٹر + ایکٹر

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button