معاشیات

پاکستانی صنعت کے مسائل

*** پاکستانی صنعت کے مسائل ***

کسی ملک کی معاشی ترقی ،اقتصادی خوشحالی اور استحکام کے لیے اس کا صنعتی طور پر ترقی یافتہ ہونا ضروری ہے۔ تقسیم کے وقت پاکستان میں کوئی قابل ذکر صنعت موجود نہ تھی۔ تمام اہم صنعتی کارخانے بھارت میں چلے گے اور پاکستان صنعتی میدان میں پس ماندہ رہ گیا۔ قیام پاکستان کے وقت بھارت کے ۹۲۱ بڑے کارخانوں میں سے صرف ۳۴ کارخانے پاکستان کے حصے میں آئے۔ انگریز حکمرانوں نے اپنی سیاسی اور تجارتی اغراض کی بناء پر پاکستان کے علاقے میں صنعتوں کے قیام کو نظر انداز کیے رکھا۔ اس بات کا اندازہ اس سے ببخوبی ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان پٹ سن کا گھر تھا لیکن وہاں ایک بھی پٹ سن کا کارخانہ نہ تھا۔

*** صنعتی پسماندگی کے اسباب ***

نمبر۱۔ سرمائے کی کمی 
کوئی بھی صنعت بغیر سرمائے کے قائم نہیں کی جاسکتی۔ بڑی صنعت کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں قیام پاکستان کے وقت کوئی قابل ذکر اہم صنعت نہ تھی۔ اس طرح ملک کو آغاز سے صنعت و حرفت کی ابتداء کرنا پڑی لیکن سرمائے کی کمی ہمیشہ آڑے آئی۔ حکومت نے چند بڑی صنعتیں لگانے کی ترغیب دی۔ حکومت نے دوسرے ملکوں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی لہذا ملک میں بہت سی صنعتیں قائم ہوگی ہیں۔

نمبر۲۔ زرمبادلہ کی کمی 
زرمبادلہ کی کمی بھی صنعتی ترقی میں رکاوٹ بنی رہی ہے ۔ پاکستان کو نہ صرف صنعتی ترقی کے لئے مشینری اور خام مال باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ہماری برآمدات بہت کم ہونے کی وجہ سے زرمبادلہ بھی کم ہی کمایا جا سکتا ہے ۔ اس لیے زرمبادلہ کی کمی بھی صنعتی ترقی میں مانع رہی ہے ۔

نمبر۳۔ ماہرین کی کمی 
ملک میں تجربہ کار ماہرین کی کمی رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے بلائے جانے والے ماہرین کو بہت زیادہ معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ انہیں ملک کی صنعتی ترقی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ ان کے پیش نظر اپنا ملکی مفاد ہوتا ہے ۔

نمبر۴۔ معدنیات کی قلت
ہمیں صنعتوں کے لیے معدنیات درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات پر زیادہ لاگت آتی ہے اور وہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمت کے لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔

نمبر۵۔ مسدود ذرائع نقل و حمل 
ملک میں نقل و حمل کے ذرائع محدود ہیں۔ ابھی تک بیشتر دیہاتی علاقے سڑکوں یا ریلوں کے ذریعے بڑے شہروں سے منسلک نہیں ہوسکے ۔ آمدو رفت اور مواصلات کے ذرائع کی کمی کے باعث خام مال کانوں تک لے جانا مشکل ہو جاتا ہے اور تیار شدہ مال بھی ضرورت کے علاقوں تک لے جانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

نمبر۶۔ صنعتی اجارہ داری 
پاکستان میں سرمایہ کاری چند خاندانوں تک محدود رہی ہے۔ یہی خاندان ملکی معیشت کے اجارہ دار رہے ہیں۔ وہ ملکی اور قومی ضرورت کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے ان صنعتوں کے قیام میں دلچسپی لیتے رہے ہیں جن میں ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدے کی صورت نظر آتی تھی ۔ یہ چند خاندان ملک کی صنعت پر چھائے رہے اور جائز اور ناجائز حربوں سے دولت کماتے چلے گئے ۔ ان کے مقابلے میں نئے صنعتکاروں کا نام مشکل ہوگیا ۔

نمبر۷۔ منصوبہ بندی میں عدم توازن 
صنعتی ترقی میں منصوبہ بندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ لیکن پاکستان میں سرمایہ چند ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث صنعتی منصوبوں میں کوئی ربط اور جامعیت پیدا نہ کی جاسکی ۔ اس وجہ سے صنعتی ترقی میں نمایاں کی پیش رفت نہ ہو سکی ۔

نمبر۸۔ قومی تحویل کی پالیسی 
صنعتوں کو سیاسی حربے کے طور پر بغیر کسی منصوبہ بندی کے قومی تحویل میں لیا گیا جس سے صنعتیں کئی مسائل سے دوچار ہوگئیں ۔ پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی اور معیار بھی گرتا چلا گیا۔ اس طرح مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں اور غیر ملکی مصنوعات کی طرف رجحان ہو گیا ۔

نمبر۹۔ قرضے کی سہولت 
ملک میں بینکاری کی سہولتیں بھی عام نہ ہوسکیں۔ جس کے نتیجے میں بڑے صنعتکار بینکوں سے بھاری قرضے لیتے رہے لیکن چھوٹے صنعت کار قرضےکی سہولتوں سے استفادہ نہ کرسکے ۔ غیر ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے بھی قرضے دینے کی یہی پالیسی اپنا رکھی جس کے نتیجے میں صنعتوں کا پھیلاؤ محدود رہا ۔

نمبر۱۰۔ ملک میں مال کی کھپت 
ملک میں ملکی مصنوعات کی کھپت بہت کم ہے ۔ بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش اور اس میں ساکھ قائم کرنے کے لیے مدت اور محنت کا درکار ہوتی ہے اور یوں بھی بین الاقوامی منڈیوں میں ہماری مصنوعات دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکیں ۔

Also Read:

https://www.newzflex.com/32635

نمبر۱۱۔ سیاسی عدم استحکام 
سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حکومتیں صنعتی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر رہی ہیں ۔ جس کی وجہ سے صنعتی ترقی کی مناسب سرپرستی نہ ہوسکی۔ حکومتیں اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہی ہیں جس سے صنعتی ترقی بری طرح متاثر ہوتی رہی ہے ۔

نمبر۱۲۔ غیر ملکی قرضے 
غیر ملکی قرضوں کو صنعتیں لگانے کے لیے استعمال نہ کیا گیا۔ غیر ملکی قرضوں کو اشیاءکی خریداری سے مشروط کیا جاتا رہا ہے جس کے نتیجے میں صنعت و حرفت ترقی سے محروم رہی ۔

Hamid Ali Shah

I am Student of Bsc & I fond of Writing

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!