افسانے

پردیس میں خودکشی

پردیس میں خودکشی
مجھے آج پردیس میں تیس سال ہو گئے ہیں۔ میں آج خودکشی کرنے لگا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی مجھے معاف نہیں کریں گے ۔ پردیس ایک ایسی جیل ہے جہاں انسان آتا تو اپنی مرضی سے ہے مگر جانا کب ہے یہ وقت اور #حالات طے کرتے ہیں۔ پہلے ماں باپ کی ضروریات پوری کی پھر بیوی بچوں کی۔ دن رات محنت کی اور بیوی اور بچوں کو پالا اس مقام تک پہنچایا کہ آج ان کے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے۔
اب دل کرتا ہے میں واپس چلا جاؤں۔ پاکستان کال کی بیوی کہنے لگی بیٹی کی شادی کر لو پھر چاہے آجانا۔ میں راضی ہو گیا۔ کچھ عرصہ گزر گیا ۔ بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پاکستان نہ جاسکا ۔ میں نے آخری دیدار بھی نہ کیا۔
کچھ عرصہ بعد پاکستان گیا بیٹے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش تھے۔ پہلے بیٹے نے رکھنے سے انکار کر دیا۔ کہنے لگا ۔ اتنی جگہ نہیں آپ کو کہاں رکھوں گا۔ آپ چھوٹے کہ پاس چلے جاؤ۔ چھوٹے نے کچھ دن رکھا اور کہنے لگا آپ نے واپس کب جانا ہے باپ نے کہا اب میں یہاں آپ کے پاس رہوں گا ۔
اس کے تو جیسے مزاج ہی بدل گئے ۔ کہنے لگا اگر ایسی بات تھی تو پہلے بتاتے اپنا بندوبست کریں اور کہیں جائیں میں نہیں رکھ سکتا۔
یہ ہوتے ہیں بیٹے ہم سب ایسے دعائیں مانگتے ہیں کہ بیٹا پیدا ہو ۔ ان بیٹوں سے بہتر ہے انسان بے اولاد ہی رہے ۔
میری بیٹی اللہ تعالیٰ اسے ہر خوشی دے اپنے ساتھ لے گئی مگر میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ میں بیٹی کے گھر رہوں۔
میں واپس پردیس آگیا ۔ اب طبیعت اجازت نہیں دیتی کہ کام کر سکوں۔ اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو گیا ہوں۔ کہ آب زندہ رہنا مشکل ہے۔ کیا پوری زندگی اس اولاد کے لیے اتنی محنت کی کہ آج وہ دو وقت کا کھانا بھی نہیں کھلا سکتی؟
تحریر
غلام علی

Ghulam ali

میرا نام غلام علی ہے میں نے علم سیاسیات میں ایم اے کیا ہوا ہے میں لاہور پاکستان سے ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!