ادب

اپنی زندگی میں حقیقی راحت کیسے حاصل کریں ؟

زندگی گزارتے ہوئے جن چیزوں کو ہم حاصل کرکے اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کو حاصل کرنے کا ہمارا مقصد ان چیزوں سے راحت حاصل کرنا ہوتا ہے اور زندگی کو آسان اور پر سکون بنانا ہوتا ہے. اس کی خاطر ہم اپنے ارد گرد ایسی چیزیں زیادہ سے زیادہ جمع کرتے ہیں جو ہمیں ذہنی، جسمانی سکون فراہم کر سکیں. اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رہنے کے لیے گھر، سفر کے لیے سواری، کھانا اور دوسرے لوگوں سے تعلق اور رابطہ، یہ سب کچھ ہماری زندگی میں اس طرح شامل ہے کہ ہماری تمام تر محنت ان کے معیار کو بڑھانے میں لگی رہتی ہے. ہم میں سے ہر ایک انسان اپنی زندگی کے معیار کو ان سہولیات سے جوڑ کر اور ان کا معیار بڑھا کر راحت کو حاصل کرنا چاہتا ہے.
جس شخص کی زندگی میں یہ سہولیات نہیں ہیں یا کم ہیں وہ ان کو بڑھا کر راحت اور اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے. کیونکہ اس سے وہ جسمانی مشقت سے اپنے آپ کو دور اور ذہنی سکون کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہے. لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس یہ چیزیں جو کہ سامان راحت ہیں وہ بھی ان کے ہونے باوجود ذہنی سکون سے دور ہیں. آج سے جتنا بھی پیچھے چلتے چلے جائیں ہمیں سہولیات کم ہوتی دکھائی دیں گی لیکن ذہنی اطمینان کی سطح آج کے اس زیادہ سامان راحت والے دور سے بلند نظر آئے گی حالانکہ جسمانی مشقت تب زیادہ تھی. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج کے اس دور میں سامانِ راحت زیادہ اور جسمانی مشقت کم ہونے کی وجہ سے ذہنی اطمینان زیادہ ہونا چاہیے تھا لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے. ایسا کیوں ہے؟
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک اصطلاح “سامان راحت” (جو کہ میں پیچھے سہولیات کی چیزوں کے لیے استعمال کر چکا ہوں) اور دوسری “راحت” جو کہ اطمینان کی ایک کیفیت ہے، ان دونوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے. راحت اور سامانِ راحت دو مختلف چیزیں ہیں. راحت اس لمحے کا نام ہے جو ہمیں جسمانی یا ذہنی مشقت سے ایک دم باہر نکال لے اور ہماری مشکل کی کیفیت کو اچانک آسانی اور سکون میں بدل دے. جیسے شدید گرمی میں ایک پیاسے کو نلکے کے ٹھنڈے پانی کا مل جانا اس کے لیے راحت کا باعث بن سکتا ہے اور ایک پسینے سے شرابور انسان کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مل جانا اس کے لیے راحت کا باعث بن سکتا ہے. راحت کا قدرتی طور پر ملنا ہی اصل راحت ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھ بے چینی کو نہیں لیے ہوتی. اور سامان راحت کے ساتھ جو راحت حاصل کی جاتی ہے وہ اصل راحت نہیں بن پاتی کیوں کہ وہ اپنے اندر راحت کے ساتھ بے چینی بھی لیے ہوتی ہے جو کہ عام طور پر ہمیں نظر نہیں آتی حالانکہ بے چینی بھی اتنی ہی وہ سامان راحت اپنے ساتھ لے کر آیا ہے جتنا کہ سہولت. مثلاً جب ہم ٹھنڈی ہوا کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ائیر کنڈیشنز اپنے گھر میں لاتے ہیں جو کہ شدید گرمی میں ہمارے کمرے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور وہ احساس جو قدرتی طور پر ہمیں کبھی کبھار ہوتا ہے اس کو جب چاہتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں لیکن اگر ہم غور سے دیکھیں تو یہی ہمارے لیے کتنی بے چینی کا سبب بنتا ہے. جب ایئر کنڈیشنر ہمارے پاس نہیں ہوتا تو ہم اس بات کی وجہ سے بے چین ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہے اور اس کے بعد جب ہم محنت کو سرف کرکے اس کو حاصل کرتے ہیں تو پریشانی سے گزرتے ہیں. یہاں پر بھی بس نہیں ہوتی بلکہ جب ہم کمرے میں بیٹھ کر اس کی ٹھنڈک سے لطف لے رہے ہوتے ہیں تو ساتھ ہی اس بے چینی میں ہوتے ہیں کہ اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور پھر اس کی مرمت سے لے کر دیکھ بھال تک بہت سی بے چینیاں اس کے ساتھ ہوتی ہیں. اگر ہم راحت کا اور بے چینی کا موازنہ اس صورت میں کریں تو حیرت انگیز طور پر ہمیں پریشانیوں کا انبار نظر آئے گا. ہم جب سہولت کو خریدتے ہیں تو لا شعوری طور پر پریشانیاں بھی خریدتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم ایک فائدہ دینے والی چیز کو کوس رہے ہوتے ہیں. آپ موبائل فون کو ہی دیکھ لیجیے، کتنے لوگ ہیں جو اس کو اچھے لفظوں میں یاد کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ اس نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے. کیونکہ جہاں پر پیدا ہوئی ہے وہیں کتنی پریشانیوں کا بھی سامنا ہے اور ان کے حل کے لیے اصل وجہ کی بجائے ہم کسی اور نئی اور بہتر چیز کی طرف اپنی نگاہیں مرکوز کر لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور محنتوں کو اس سمت میں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں جو کہ اس سے بھی زیادہ پریشانیوں کا سبب اپنے ساتھ لیے ہوتی ہیں. اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سارا سامان راحت ہونے کے باوجود ہمارے اندر ذہنی اطمینان اور سکون کا فقدان نظر آتا ہے. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منزل کہیں گم سی ہو گئی ہے اور بے یقینی کی حالت جس میں عدم برداشت اور بے حسی ہے، کی کیفیت نظر آتی ہے. جبکہ قدرتی راحت چاہے مقدار میں کم ہو لیکن حقیقی معنوں میں راحت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھ اور بے چینی نہیں لے کر آتی. اس لیے ایسا سامان راحت کس کام کا جو انسان کو منزل سے غافل اور بے چین کردے.
انسان یہ سمجھتا ہے کہ کہ راحت کو صرف سامانِ راحت سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن راحت اور سامانِ راحت دو مختلف چیزیں ہیں. ہوسکتا ہے جس کے پاس سامانِ راحت ہو وہ راحت کو نہ حاصل کر رہا ہو اور دوسری طرف جس کے پاس سامانِ راحت تو موجود نہ ہو لیکن ذہنی اطمینان اور “راحت” جیسی قیمتی چیز ہو.
                                                             از قلم :بدر حسین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button