اسلامک

نیکی اپنے لیے

نیکی اپنے لیے
کہا جاتا ہے کہ انسان نیکی اپنے لیے کرتا ہے اورگناہ کا وبال بھی انسان کے اپنے اوپر ہوتا ہے ﷲ تعالی کا ارشاد ہے من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا:ترجمہ، جس نے نیکی کی اس کا فائدہ بھی خود کرنے والے کو ہے اورجس نے برائی کی اس کا وبال بھی اسکے کرنے والے پر ہے کلام خدا ہونے کی وجہ سے حق الیقین تھا لیکن ایک واقعہ نے تو اس آیت پربھروسہ عین الیقین میں بدل دیا سردیوں کی ایک رات میں راولپنڈی کے راجہ بازارمیں ایک دوکان پر بیٹھااپنے دوست کے ہمراہ سوپ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک گونگا شخص انڈہ لینے کے لیے آیا اوراس کے ہاتھ میں کچھ سکے تھے اس نے وہ سکے دوکاندار کودئیے اور انڈے کا تقاضہ کرنے لگا جبکہ اس میں دو، تین روپے کم تھے اور دوکاندار اس کو انکار کیے جارہا تھاجبکہ وہ گونگا شخص اس کی منتیں کیے جا رہا تھا اورداڑھی کوہاتھ لگارہاتھا اور ہاتھ سےاشارہ کررہاتھا کہ اتنے میں ہی دے دومیرے پاس یہی ہیں لیکن دوکان والے نے بھی دینے سے انکارکردیا میں نے یہ سارا منظردیکھا تو دوکان والے سے کہا کہ اس کوانڈہ دے دو اس کے پیسے میں دے دوں گا اس گونگے شخص نے انڈہ ٖلیا اور شکریہ کا اشارہ کر کے چلاگیا ابھی ہم سوپ پی رہے تھے کہ اتنے میں میرا ایک سٹوڈنٹ آیا اورسوپ لینے لگا اس نے جب مجھے دیکھا تومیرےپاس آیا سلام کیا اورچلا گیا ہم جب سوپ پی کرنکلے اورپیسے دینے لگے تووہ دوکاندار کہنے لگا کہ حافظ صاحب آپ کے پیسے آپ کے سٹوڈنٹ نے دے دیے ہیں میںﷲ کی قدرت پر حیران رہ گیا کہ اتنی جلدی ﷲ تعالی انسان کو نیکی کابدل دیتے ہیں میں نے چند روپے خرچ کیے ﷲ نے فورا کئی گنا مجھے واپس کردئیے ،نیکی کرنے والا ہر گز یہ نہ سمجھے کہ وہ نیکی کر کے ﷲ پر احسان کر رہا ہے حقیقت میں نیکی اپنے آپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!