اسلامک

مایوس مت ہونا

آج صبح اخبار کے اوراق پلٹ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک سُرخی پر پڑی جس میں ایک حکومتی اعلیٰ عہدیدار کا بیان شائع کیا گیا تھا جو کہ پاکستانی قوم کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور ان کا کہنا تھاکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں اپنے خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ہے،جبکہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے مگر ہمیں احتیاط کیساتھ اپنے پرودگار سے رحمت کی التجا کرنی ہے،ہمیں اپنے گناہوں پہ ندامت کیساتھ معافی مانگنی ہے تاکہ ہمارا مالک ہم سے راضی ہو جائے اور ہم وبا سے محفوظ ہوسکیں-

اس خبر کو پڑھتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال نقش ہوا، مایوسی ہے کیا؟ اس قدر خطرناک صورتِ حال میں بھی ہمیں کہا جا رہا ہے کہ مایوس نہیں ہونا-
اگرچہ ہماری معیشت بظاہر کمزور ہے، ہم بیرونی قرضوں کی لپیٹ میں ہیں،ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ مسلم قوم ہمیں مایوس نہیں ہونا- مگر غور طلب بات یہ ہے کہ مایوسی کس کیفیت کا نام ہے؟

مایوسی مسلسل افسردگی Depressiv Disorder کا نام ہے- دو چار دن کی بجائے مسلسل اور لگاتار کسی غم میں مبتلا رہنا مایوسی کی کیفیت میں لے جاتا ہے-
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں دس لاکھ لوگ روزانہ کی بنیاد پہ خودکشی کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور ممالک میں اس کی شرح زیادہ ہے- اگر ہم خود کشی کی وجوہات کا جائزہ لیں تو ہمیں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے مایوسی(Fustration) – یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ مایوسی اس تلخ احساس کا نام ہے جو ایک شخص اپنی لامحدود خواہش کے پورا نا ہونے پہ محسوس کرتا ہے-

مایوس ہونے کا مطلب ہے خدا کی ذات کا انکار کرنا،خدا ہے تو پھر مایوسی کیسی؟ جو لوگ مایوس ہوتے ہیں وہ اندر ہی اندر ،دل ہی دل میں یقین کر لیتے ہیں کہ خدا کا وجود ہی نہیں ہے- وہ دہریے ہوتے جاتے ہیں- ابلیس ان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے کیونکہ ابلیس کا لغوی معنی ہی مایوس ہے- ابلیس کا کام محض انسان کو خدا کی رحمت سے مایوس کرنا ہے-مگر الله پاک اپنے عاصی بندے کو بھی اکیلا نہیں چھوڑتے،خدا کی رحمت اپنے گنہگاروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے-

الله تعالیٰ قرآن پاک میں اپنے بندوں سے مخاطب ہوکے فرماتے ہیں “لا تقنطو مِن رحمتِ اللہ ”
اس آیت کی تشریح میں واصف علی واصف لکھتے ہیں کہ الله تعالیٰ اپنے گنہگار بندوں سے بھی محبت کرتا ہے- الله اپنے بندوں کو باقاعدہ ڈانٹ کر فرماتے ہیں کہ خبردار میری رحمت سے مایوس ہوۓ تو-

میری رحمت تو ہے ہی اپنے گنہگار بندے کے لیے- بس ایک دفعہ صِدق دِل سے میری طرف رجوع کر لے تو میں تیری ساری پریشانیاں ،سارے غم، ساری کی ساری مشکلات کو ختم کردوں گا-
اس لیے غم کی اس کیفیت میں، وبا کے ان لمحات میں،کمزوری اور لاچاری کی اس کیفیت میں ہمیں احتیاط کرنے کیساتھ ساتھ جو سب سے اہم کام کرنا ہے وہ اپنے پرودگار کو راضی کرنا ہے،اس مالکِ دوجہاں سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے- جب ہمارا سارا کا سارا دھیان رحیم خدا کی رحمت پر ہوگا تو وہ ہمیں وباؤں سے بھی بچا لے گا اور سزاؤں سے بھی بچا لے گا-
دعا ہے الله پاک پاکستان کیساتھ ساتھ ساری دنیا کو وباء کی اس لپیٹ سے محفوظ بناۓ

عادل فاروق

2018 میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد سے کمپیوٹر سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی‫، پیشے کے لحاظ سے میں معلم ہوں- اب تک بیشتر کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں-

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button