ادب

ہماری منزل

*ہماری منزل*
آج علی کے ساتھ اردو بازار میں
کتابیں خریدنے کا اتفاق ہوا
ہم orange trainسے سفر کرکے انارکلی اسٹیشن پر اترے جیسے ہی انارکلی کے اندر داخل ہوئے وہاں مختلف اقسام کی خوبصورت اشیاء تھیں جن میں خوبصورت کپڑے،جوتے اور طرح طرح کے لذیز کھانے تھے ان کو دیکھ کے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے بس یہی کھڑے رہیں اور ان سے لطف اندوز ہوتے رہیں کپڑے دیکھے تو بس من سب پر ہی فدا ہوگیا من تو تھا سب ہی خریدلے۔ پھر جوتوں کے پاس گئےتو وہاں بھی یہی حال ۔ کھانوں کی خوشبوؤں سے دل کر رہا تھا کہ ابھی سب کچھ مل جائے تو شکم سیر ہو جائیں لیکن پھر میں نے ایک پل کے لیے سوچا اور علی سےکہا کہ نہیں ہم نے اردو بازار جانا ہے یہ ہماری منزل نہیں ہماری منزل اردو بازار ہے اور ہم آگے بڑھے اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہوگئے۔
ہمارے پاس ایک خالی بیگ تھا جس کے ساتھ سفر کرنا آسان تھا جیسے ہی ہم بازار سے باہر نکلے تو میں نے محسوس کیا کہ یہی تو زندگی کے سفر کی حقیقت ہے جس کی منزل آخرت ہے ۔
زندگی بھی بالکل اسی طرح سے ہے کہ زندگی میں بہت سی خوبصورت چیزیں بہت سے حسین نظارے،مال و دولت، گاڑی بنگلہ ہمارے دل کواپنی طرف راغب کریں گے ۔ لیکن ہم نے ان سب کو چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف جانا ہی ہے ہم چاہے یا نہ چاہے اور اس بیگ کی طرح ہماری خواہشات اس سفر میں جتنی کم ہوگی زندگی کا سفر اس قدر ہی آسان ہوگا اس قدر اس میں دشواریاں کم ہوں گیں ہم صراطِ مستقیم پر رہے گے نہیں تو دنیا کی عارضی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہم صراطِ مستقیم سے بڑھک جائے گے۔اور اپنا اصل مقصد بھول جائے گے۔ منزل پر پہنچنا تو سب نے ہی ہے کوئی ہے جو انکار کر سکے؟
*___القرآن: ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے_*__
اب ضروری ہے کہ زندگی کے سفر میں کوئی بتانے والا ہو کہ سفر میں کیسے چلنا ہے کہاں رکنا ہے کہا جھکنا ہے کس سے بچنا ہے کون سا کام اختیار کرنا ہے اس لیے انسان کو اس سفر میں بھیجنے والے نے ساتھ ایک گائڈبک بھی دے دی۔ قرآن کریم کی صورت میں۔ اللہ نےکہا میرے بندے یہ گائڈ بک لیلو یہ سفر بہت کھٹن ہے یہاں بہت مصائب ،دکھ اور تکالیف ہیں اس گائڈ بک کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا اور اس سے رہنمائی لیتے رہنا اب جب اللہ تعالی نے انسان کو کتاب دی تو کہتا ہے آپ نے گائڈ بک مجھے دے دی ہے مجھے پتا نہیں چل رہا ہے اس پر عمل کیسے کروں خواہشات پر قابو کیسے پانا ہے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے،کاروبارکھانا پینا سونا جاگنایہ سب عمل کیسے کرنا ہے؟ اللہ نے کہا اے ابنِ آدم میں تیرے لیے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ وسلم کو بھیجتا ہوں انکو دیکھو کہ وہ یہ سب کیسے کرتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی گائڈ بک کے مطابق سفر مکمل کرکے دکھایا
الحدیث( مفہوم) : *اورآج میں نے (ابنِ آدم)تمہارے لئیے تمہارے دین اسلام کو مکمل کردیا*
بس جی یہی زندگی ہے اور اسکے سفر کی حقیقت ہے ۔اللہ ہم سب کو آخری منزل پے ایمان و کامیابی کے ساتھ پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Muhammad Saqlain Leghari

سبق اموز واقعات اور عظیم الشان تاریخ کے مضامین ۔

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!