اسلامک

مسلمانان برصغیر کے محسن ۔۔۔۔۔۔۔ امام رازی رحمہ اللہ

مسلمانان برصغیر کے محسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام رازی رحمہ اللہ

امام رازیؒ 26 جنوری 1150 کو ایران میں پیدا ہوئے اور آپ کا انتقال 29 مارچ 1210 کو افغانستان میں ہوا۔ امام رازیؒ نے طب، فلسفہ، تاریخ ، فلکیات، علم نجوم اور فقہی شعبوں میں تصنیفات لکھیں ۔ آپ نے قرآن مجید کی تفسیر بھی لکھی۔
پاکستان کا امام رازیؒ سے ایک خصوصی تعلق ہے اور ایک اعتبار سے ہر پاکستانی پر امام رازی علیہ الرحمہ کا اتنا بڑا احسان ہے کہ وہ اس احسان کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اس احسان کی تفصیل یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی فتح سندھ ملتان کے علاقے تک ہوئی تھی اور اس کے آگے وہ نہیں آسکا۔ جب بنو عباس کی حکومت کمزور ہوئی تو اس سے فائدہ اٹھا کر سندھ اور ملتان کے علاقوں پر باطنیوں اور قرامطہ نے قبضہ کر لیا اور پورے علاقے کو باطنیت کا مرکز بنانا چاہا۔ مسلمانوں میں زیادہ تر سیدھے سادھے نو مسلم تھے وہ باطنیوں کی ان سازشوں کو سمجھ نہ سکے۔ باطنی زوروشور سے یہاں کے ہندوؤں کو بجائے مسلمان بنانے کے اسماعیلی بنا رہے تھے اور کمزور مسلمانوں کو بھی اسماعیلت کے فریب میں مبتلا کر رہے تھے ۔ اسی زمانے میں یہاں کے لوگوں نے افغانستان کے حکمرانوں سے مدد کی اپیل کی اور درخواست کی کہ وہ اسماعیلوں کی سازشوں کو نیست و نابود کریں۔
چنانچہ افغانستان کے حکمران شہاب الدین غوریؒ سے بھی التجا کی گئی کہ وہ مسلمانوں کی مدد کریں۔ شہاب الدین غوریؒ نے مسلمانوں کو ان کے مظالم سے نجات دلانے کے لئے ہندوستان پر حملہ کیا لیکن اس کا پہلا حملہ کامیاب نہ ہوسکا۔
شہاب الدین غوری رحمہ اللہ کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ہندوستان جیسے دولت مند ملک اور پرتھوی راج جیسے راجہ سے مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے چندے کی اپیل کی جس کے جواب میں امام رازیؒ نے بیش بہا رقم چندے کے طور پر شہاب الدین غوریؒ کو دی جس کی تفصیل بہت دلچسپ اور عجیب ہے۔
امام رازی رحمہ اللہ کے دو صاحب زادے بہت حسین و جمیل اور ذہین تھے ۔ ہرات (افغانستان کا شہر) میں بہت بڑا ایک تاجر تھا جس کی تجارت پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں اور اس کے پاس دولت بھی بے حساب تھی۔ وہ ایک علم دولت شخص تھا ، اس کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنی دونوں بیٹیاں امام رازیؒ کے سپرد کر دیں اور درخواست کی کہ ان کا خیال بھی رکھیں اور جوان ہونے پر اپنے تعلیم یافتہ اور خوبرو صاحب زادوں سے ان کی شادیاں کر دیں ۔ امام رازی رحمہ اللہ نے اٰیسا ہی کیا۔ یوں تاجر کی ساری دولت امام صاحب کے گھر میں آگئی۔
امام رازی رحمہ اللہ نے یہ تمام دولت قرض کے طور پر شہاب الدین غوریؒ کے حوالے کر دی۔ اس سے لشکر تیار ہوا اور اس لشکر نے پرتھوی راج کو شکست دی اور یوں اسماعیلیوں کے مکر و فریب اور چنگل سے یہ علاقہ آزاد ہوگیا۔ یوں پہلی مرتبہ شہاب الدین غوریؒ نے یہاں آزاد مسلم مملکت قائم کی اور آج تک اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے یہاں آزاد مسلم مملکت قائم ہے۔
اس طرح ہم سب اہل پاکستان امام رازی رحمہ اللہ اور شہاب الدین غوری رحمہ اللہ کے مرہون منت ہیں۔ امام رازیؒ کا پیسہ نہ ہوتا اور شہاب الدین غوریؒ کا حوصلہ نہ ہوتا تو شاید آج یہ جگہ اسلام کے زیر نگیں نہ ہوتی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!