BUSINESS

اعلٰی تعلیم کے باوجود طلباء کی معاشی ناکامیوں کا اہم جائزہ

دور حاضر میں تعلیم بہت عام ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود بھی ہمیں اپنی نوجوان نسل کا ایک بہت بڑا حصہ بے روزگار اور پریشان نظر آتا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر لاکھوں روپے لگا کر مہنگی سے مہنگی تعلیم دینے کے بعد بھی آخر میں مایوس اور ناامید نظر آتے ہیں۔ آخر اس پریشانی کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ اس بات کو جاننے کی اشد ضرورت ہے – آئیے ان میں سے چند اہم وجوہات پر مختصراور آسان سا جائزہ
لیتے ہیں جو آپ کو زندگی میں بہت کام آسکتی ہیں۔

1- بھیڑچال کی کیفیت
موجودہ دور میں نوجوان لوگوں کی معاشی ناکامی کی ایک اہم وجہ بھیڑچال کی کیفیت ہے۔ جی ہاں بھیڑچال- ہم میں سے اکثر سے جب پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے فلاں پروگرام میں داخلہ کیوں لیا تو وہ کہتا ہے کہ میری فیملی میں پہلے اتنے لوگ اسی گروپ میں کامیاب ہیں، یا فلاں دوست
جارہا تھا تو میں نے بھی لے لیا۔ حالانکہ یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔

2- آخری لمحے فیصلہ کرنا
ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ آخری وقت میں فیصلہ کرنا ہے۔ ذرا سوچیں، ہم نے دوسرے شہر جانا ہو تو کتنے دن پہلے سوچنا اور سامان باندھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ منزل کا فیصلہ ہم اڈے پر پہنچ کر پھر کریں۔ ایسا نہیں ہوتا نا؟ ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ ہم تو خود کو بڑے سمجھداروں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ اچھا تو بتائیں پھر؟ ایک چھوٹے سے سفر کا تعین آخری لمحے میں نہیں ہو سکتا تو ہم اپنی زندگی میں کچھ بننے کا فیصلہ بالکل آخر میں امتحانات کے رزلٹ کے بعد کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر ایسا کریں گے تو یہ ہمیں ناکامی کی طرف لے جائے گا۔ اپنے مستقبل میں کچھ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے بہت پہلے سے یہ سوچنا ضروری ہے۔

3- سیلابی کیفیت
آپ حیران ہو رہے ہونگے کہ اس وجہ کو یہاں کیسے شامل کیا؟ جی بالکل، یہ سیلاب پانی کا نہیں بلکہ ہمارے نوجوان طلباء کا ہے جو ہر بار سکوپ کو دیکھ کر کسی ایک پروگرام میں امڈ آتا ہے۔ بہت سارے طلباء صرف یہ سوچ کر کسی ایک پروگرام میں داخلہ لے لیتے ہیں کیونکہ اس فیلڈ کے لوگوں کی آمدنی بہت زیادہ ہے یا اس فیلڈ کے لوگ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔اور پھر جب طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد ویاں جاتی ہے تو سب کے لیے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، چند سال پہلے طلباء کی ایک بڑی تعداد انجنئیرنگ کی فیلڈ میں جارہی تھی – کچھ کاروباری افراد نے تو طلباء کا انجنیئرنگ کی طرف آتا سیلاب دیکھ کر انجنیرنگ یونیورسٹیاں بنا لیں اور اس میں لوکل کالجوں سے بھی کم سہولیات تھیں پھر بھی اس سیلابی ریلے کے باعث انہوں نے بہت پیسہ کمایا۔ مگر نقصان تقریبا اس سارے ریلے کا ہوا- آج کل ان میں سے بیشتر طلباء بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہیں۔ موجودہ دور میں وہی حال میڈیکل کے طلباء کا ہے۔ حالانکہ یہ وہ ریلا ہوتا ہے جس میں ذہین ترین لوگ شامل ہوتے ہیں مگر پھر بھی تعداد زیادہ ہونے کے باعث مستقبل قریب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتاہے-

4- ملازمت کی خواہش اور انتظار
ہمارے ملک میں طلباء کی ایک بڑی تعداد یہ سوچ کر تعلیم حاصل کرتی ہے کہ تعلیم کے فورا بعد ایک بہت ہی اچھی جاب ان کا انتظار کر رہی ہو گی – یہ سوچنا سراسر غلط ہے، کیونکہ ہر ملک میں ملازمتیں ایک محدود تعداد میں ہوتی ہیں چاہے وہ جتنا ہی ترقی یافتہ ہو۔ طباء کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ فضول سرگرمیوں پر اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے کسی بھی ہنر کو سیکھنے کا کسی چھوٹے کاروبار کو وقت دیں کیونکہ ایسا کرنے سے جب ان کی تعلیم مکمل ہو گی تو ان کے پاس تجربہ اور سرمایہ دونوں مناسب حد تک ہوں گے اور وہ اپنی بقیہ زندگی کا صحیح فیصلہ کر سکیں گے۔ آپ معاشی لحاظ سے کامیاب ملکوں کی فہرست اٹھا کر ان کا جائزہ لے کے دیکھ لیں جیسا کہ چائنہ، امریکہ اور جاپان وغیرہ وہاں ملازم افراد سے زیادہ ہنر مند اور کاروباری افراد کی شرح زیادہ نظر آئے گی۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ملک پر بوجھ ڈالنے کی بجائے برآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایسے ملکوں میں لوگوں کا زیادہ انحصار اپنے وسائل پر ہے اور اس کے نتیجہ میں ملکی سرمایہ درآمدات پر خرچ ہونے کی بجائے اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود پر ہوتا ہے۔

5- تعلیمی نصاب میں پلاننگ کا ہونا
طلباء کی معاشی ناکامی کی ایک اہم وجہ تعلیمی نصاب میں پلاننگ کا فقدان ہے۔ پلاننگ سے مراد یہاں یہ ہے کہ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ
کی سطح پر تعلیمی اداروں کو نصاب میں یہ چیز لازمی شامل کرنی چاییے کہ طلباء اپنی معاشی زندگی میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟: کسی بھی کاروبار یا ملازمت کے لیے کیسے بہتر انداز میں محنت کی جاسکتی ہے؟ بہت سے قابل طلباء کو بھی اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی زندگی کو صرف تعلیم کی حد تک صرف کر چکے ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بالکل بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں، یا وہ کسی خاص کاروبار یا ملازمت کے لیے کیسے مؤثر جدوجہد کی ضرورت ہے۔

امید ہے یہ تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی اس کے حوالے سے ہمیں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کیجیے گا۔ شکریہ

Umar Fayyaz

محمد عمر فیاض تعلیم: ایم فل مشغلہ: اچھی کتب کا مطالعہ کرنا اہم بات: زندگی میں خود کو اچھی چیزوں کو سیکھنے میں مصروف رکھیں کیونکہ تربیت سے خالی انسان کے لیے تعلیم بھی مؤثر نہیں -

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button