افسانے

پرندوں سے ہمارا سلوک

دوستو اس دنیا کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں پرندے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔پرندوں کی بھی بہت سی اقسام ہوتی ہیں ۔
کچھ بادلوں سے بھی اونچی اڑان کرتے ہیں ۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے پرندوں کو کھا کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں ۔ کچھ ایسے ہیں جن پہ جب بھی نظر پڑے ہماری أنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔

أج کچھ ایسے پرندوں کی بات کریں گے جن کا شوق ہم گھر میں کرتے ہیں ۔
۱۔مرغ بان
سب سے پہلے تو میں أپ کو یہ بات واضع کر دوں کہ مرغ بازی اور مرغ بانی میں کیا فرق ہے ۔
مرغ بازی۔
لگ بھگ ہر علاقے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں مرغے لڑانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ مرغوں پہ جوأ لگایا کر تب تک لڑاتے ہیں جب تک ایک مر نہ جائے ۔ یہ ظلم اور گناہ ہے ۔
مرغ بانی۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مرغوں کا شوق برا ہے پر اصل میں ہم لوگوں نے خود اس شوق کو برا بنایا ہوا ہے ۔ مرغے پیار سے اور خوبصورتی کیلیے رکھنا مرغ بانی کہلاتا ہے ۔ مرغ بازی پہ کافی علاقوں میں پابندی ہے پر مرغ بانی جب چاہیں اور جہاں چاہیں رکھ سکتے ہیں ۔
٢۔ کبوتر رکھنا۔
کبوتر خوبصورتی میں اپنی مثال ہیں ۔ کبوتروں کی بہت سی نسلیں ہیں ۔کچھ خوبصورتی کے لیے مشہور ہیں ۔ کچھ اپنی خوبصورت اور دلکش پرواز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ اور کچھ اپنی اونچی اڑان کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔پر سب سے زیادہ اسی نسل پہ اس کی اسی اونچی اڑان کی وجہ سے لوگ اس پہ جوا لگا کر اسے ایسی دوائیں دے کر انہیں اڑاتے ہیں جن سے یہ مدہوش ہو کر اڑتے ہی رہیں۔ اور لوگ اپنی مستی میں ان کی معصوم زندگیوں پہ ظلم کرتے ہیں اور جب بازیوں پہ کبوتر اڑائے جاتے ہیں تب زیادہ تر کبوتر مر جاتے ہیں ۔
۳۔ کچھ لوگ چوٹے چھوٹے جنگلی پرنے گھر میں خوبصورتی کے لیے رکھتے ہیں پر وہ بھی ایک طرح سے ظلم کرتے ہیں ۔کیونکہ وہ ان کھلی جگہوں پہ گھومنے والے پرندوں کو چھوٹے سے پنجرے میں بند کر کے رکھتے ہیں ۔ اگر کسی نے ایسے پرندے رکھنے ہے تو کم سے کم 4×4 کا ان پرندوں کے لیے گھر بنائیں اور پھر جتنے چاہیں پرندے رکھیں۔
اگر أپ پرندوں سے پیار کریں گے تو أپ کو دنیا خوبصوت لگنی لگے گی۔ اور أپ کی جب بھی کسی پرندے پہ نظر پڑے گی تو أپ کی ساری تھکاوٹ اور پرشانیاں دور ہو جائیں گی۔

اگ اس پوسٹ میں کوئی بھی بات اچھی لگے تو لائیک ضرور کریں ۔
شکریہ

Aqib Abbas

Mera naam aqib hai or mn Sargodha ka rehny wala hon

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button