تعلیم

تین نصاب تین گروہ

اشرافیہ انگریزی میڈیم اسکول ، ریاستی اردو میڈیم اسکول اور دینی مدارس پاکستان میں تین مختلف قسم کے نصاب پڑھائے جا رہےہیں۔ یہی نصاب تین مختلف قسم کے گروہ تیار کر رہی ہے ۔ ان لوگوں کی سو چ مختلف، طریقے مختلف اور انداز زندگی بھی مختلف اور پھر بھی یہی سوچتے کہ ہم ایک، ہماری فکر ایک ہماری رہن سہن ایک ۔ بلکہ ایسا نہیں جس ملک میں تین مختلف مکتبہ فکر کے لوگ تیا ر ہوتے ہیں وہ کیسے ایک ہو سکتی ہے ۔ اشرافیہ کی مزاج باقی ماندہ دو یعنی اردو میڈیم اور دینی مدارس کے بچوں سے بالکل ہٹ کر ہے دوسری جانب اردو میڈیم سکول کے بچوں کی سوچ دینی مدارس میں پڑھنے والے بچوں سے الگ تھلگ ہے۔ اب حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وفاقی طور ایک ایسی نصاب کی تشکیل منظور کردیں نہیں تو عنقریب یہ لاواپھوٹ جائے گا نہیں تو ملک میں ایک اور بنگلہ دیش بننے میں دیر نہیں لگےگی۔ کیونکہ مدارس کے بچے تعلیم سے فراغت کے بعد مسجدوں میں یا تو امامت کرتے ہوتے ہیں اور یا پھر کسی مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے رہتے ہیں اور وہ بھی نہایت کم اجرت پہ .دوسری جانب اردو میڈیم کے بچے ماسٹر تک پڑھتے ہوئے نان نفقے کے لئے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں .اور جو تیسرہ گروہ ہے یعنی اشرافیہ طبقہ وہ تعلیم بھی اعلٰی اداروں میں حاصل کرتے ہیں اور روزگار بھی جلدی سے مل جاتی ہے۔ یہ طبقاتی قسم کی تعلیم پاکستان کے نوجوانوں کے لئے کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ حکومت اگر بروٖقت انتظام نہ کریں تو قریب ہے کہ ملک ایک دو نہیں بلکہ تین گروہ میں تقسیم ہوجایئگا پھر اسکا ازالہ ناممکن ہوگا۔

Abid Hussain

عابد حسین لایبریری آفیسر انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!