اسلامک

حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی زندگی کی چند اہم باتیں

حضرت ابراہیم علیہ اسلام اللہ رب العزت کے بہت برگزیدہ بندے تھے. آپ ایک بت پرست کے گھر میں پیدا ہوئے. آپ بچپن ہی سے بت پرستی سے بیزار تھے. آپ بت پرستی کو بہت معیور کام سمجحتے تھے. آپ کو اللہ رب العزت نے علم بخشا. آپ کے دور میں ایک ظالم بادشاہ نمرود تھا. جو خود خدا ہونے کا دعوہ کرتا تھا. آپ کے والد ایک ماہر بت تراش بھی تھے. وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے. وہ آپ کو بھی بت پرست بنانا چاہتے تھے. وہ آپ کو اپنے ساتھ بت خانے لے جاتے تھے. آپ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں اور نہ ہی بولتے ہیں. آپ نے کہا کہ جس نے مجھے اور تم سب کو بنایا وہ یہ نہیں ہو سکتا. آپ نے چاند کو دیکھا کہ اس میں سے چمک آ رہی ہے تو سوچا کہ یہ میرا خدا ہے. مگر جب چاند چھپ گیا تو آپ نے کہا کہ جو غروب ہو جائے وہ میرا خدا نہیں ہو سکتا. پھر جب سورج کو دیکھا کہ خوب چمک رہا ہے تو سوچا کہ یہ میرا خدا ہے. مگر جب سورج بھی غروب ہو گیا تو آپ نے کہا کہ جو غروب ہو جائے وہ میرا خدا نہیں ہو سکتا. پھر اللہ پاک نے آپ کو علم بخشا اور اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں میں شامل کیا. اور آپ نےاسی خدائے واحد کی طرف رجوع کیا اور اسی کی عبادت کرتے رہے. آپ نے اپنی قوم کو صرف ایک خدا کی عبادت کرنے کا درس دیا. لوگ آپ کو دیوانہ کہنے لگے. اور آپ کا مزاق اڑاتے. مگر آپ نے کبھی مایوسی کا دامن نہ تھاما اور اسی خدائے واحد کی عبادت کرتے رہے. اللہ رب العزت نے آپ سے بہت سارے امتحان لیے. آپ ہمیشہ ثابت قدم رہے. اللہ پاک نے آپ کو قرآن کریم میں امام الناس کہا. اور آپ کو خلیل اللہ بھی کہا. ایک دن جب آپ کی قوم کسی تہوار میں مصروف تھے تو آپ بت خانے میں جا کر سارے بت توڑ دیے سوائے بڑے بت کے. جب لوگ واپس آئے تو اپنے خداوؤں کا یہ حشر دیکھ کر چلا پڑے. ہائے ہمارے خداوؤں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا. کچھ لوگو نے کہا ایک نوجوان کو کہتے سنا کہ میں ان بتوں کو توڑ دوں گا. اس کا نام ابراہیم ہے. تو آپ کو بلا کے پوچھا کہ ہمارے خداوؤں کا یہ حشر کس نے کیا؟ آپ نے کہا کہ اس بڑے بت سے پوچھو اسے علم ہوگا. تو سب ایک ساتھ بولے کہ ہم بھلا ان سے کیسے پوچھیں ؟ آپ کو علم ہے کہ وہ بول نہیں سکتے. آپ نے کہا کہ جو نہ ہل سکتے ہیں اور نہ ہی بولتے ہیں تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو. تم بھی اسی کی عبادت کرو جس نے مجھے اور تم سب کو بنایا. سب لوگ آپ کو اپنے ساتھ بادشاہ نمرود کے پاس لے گئے. نمرود جو خود خدا ہونے کا جھوٹا دعوہ کرتا تھا. اس نے کہا تم میری اور دوسرے خداوؤں کی پیروی کیوں نہیں کرتے. آپ نے کہا کہ میں صرف ایک خدا کی عبادت کرتا ہوں. حس نے ہم سب کو پیدا کرتا اور پھر ہم سب کو موت دیتا اور قیامت کے دن زندہ کرے گا. نمرود نے کہا زندگی اور موت میں بھی دیتا ہوں. اس نے دو آدمی بلائے ایک کو قتل کروا دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا. آپ نے کہا کہ جو میرا خدا ہے وہ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اور پھر مغرب میں ڈوباتا ہے. آگ تم سچے ہو تو سورج کو مغرب سے اگا کر دکھاؤ. اس پر نمرود نے حضرت ابراہیم کو آگ میں جلانے کی سزا دی. سب لوگ آپ کو جلانے کے لئے لکڑی اکٹھا کرنے لگے. آپ کے والد بھی لکڑیاں جمع کرنے والو میں شامل تھے. جب آگ جلائی گئی تو آپ کو اس میں پھینک دیا گیا. اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ آگ ابراہیم کے لئے سلامتی والی بن جا. تو آگ حضرت ابراہیم کے لئے ٹھنڈی اور پھولوں کی سیج بن گئی. اللہ رب العزت اپنے نیک بندوں پر اسی طرح احسان کرتا ہے. قرآن کریم میں اللہ پاک نے آپ کو سب سے پہلے مسلم کہا .

تحریر ***ڈاکٹر محمد عمران ***

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button