اسلامک

دولت عثمانیہ کے خلاف صلیبی ساز ش

شاہ ہنگری سچسموند اور پوپ نہم بونیفارس دولت عثمانیہ کے خلاف صلیبی مسیعی یورپی اتحاد کی تبلیغ کے لئے اٹھ کھڑے ہوۓ ۔یہ ان اتحاد میں سب سے بڑا اتحاد تھا جس کا چودھویں صدی عیسوی میں دولت عثمانیہ كو سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ اس اتحاد میں پہلے کی نسبت زیادہ سلطنتیں شامل تھیں اور ان تمام نے اسلحہ فوجی ساز و سامان اور فوجوں کی فراہمی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اس صلیبی حملہ میں تقریبا 1200000 جنگجوؤں نے حصہ لیا جو مختلف قوموں سے تعلق رکھتے تھے۔800ھ،1396ء میں صلیبی فوجییں ہنگری کی طرف بڑھیں۔لیکن سپہ سالاروں اور سرداروں کی درمیان اور سچسموند کے درمیان جنگ سے پہلے اختلافات پیدا ہو گئے۔ سچسموند اس بات کو ترجیح دیتا تھا کہ صلیبی لشکر انتظار کرے اور جب عثمانی لشکر حملہ کرے تو وہ تب جنگ شروع کرے۔لیکن باقی سپہ سالار اس انتظار کے حق میں نہیں تھے۔انہوں نے بغیر کسی انتظار کے اپنی فوجوں كو حملے کا حکم دے دیا۔ وہ دریا دانوب کے ساتھ ساتھ نشیب میں اترتے گئے اور بلقان کی شمال میں نیکو بولیس تک پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا اور شروح شروع میں انہیں عثمانی فوجوں کے مقابلے میں كامیابی ہوئی لیکن بایزید اچانک نمودار ہوئے۔کیونکہ وہ یورپیوں پر فوقیت رکھتے تھے۔ سو اکثر نصرانی شکست خوردہ بھاگ کھڑے ہوۓ کئی قتل ہوۓ اور ان کے بہت سے قائد گرفتار ہوئے ۔
اس جنگ میں بے انداز مال غنیمت عثمانیوں کے ہاتھ لگا۔ وہ دشمن کے زخیروں کے مالک ہوۓ فوزو کامرانی کے نشہ میں سلطان با یزید کہہ اٹھا۔میں اٹلی کو فتح کروں گا اور اپنے گھوڑے کو روم میں پطرس رسول کی قربانی گاہ میں جوکے دانے کھلاؤں گا۔ فرانس کے بڑے بڑے رئیس جن کی تعداد بہت زیادہ تھی گرفتار ہوۓ جن میں کاؤنٹ ڈی نیفر کا نام سر فہرست ہے۔ سلطان با یزید نے ان قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کرنے کی تجویز منظور کر لی تمام قیدی رہا ہو گئے۔ کاؤنٹ ڈی نیفر کو بھی رہائی مل گئی جس نے قسم کھائی کہ وہ جنگ کے لئے دوبارہ نہیں آئے گا۔بایزید نے کہا میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ اگر تم دوبارہ میرے خلاف میدان میں اترنا چاہو تو اتر سکتے ہو ۔کیوں کہ مجھے اس سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں کہ تم یورپ کے تمام مسیحیو ں سے لڑو اور ان پر فتح حاصل کرو ۔
نیکو بالیس کے معرکہ کے بعد یورپی معاشرے کی نظروں میں ہنگری کی قدر و منزلت بہت گر گئی اور ان کی ہیبت اور سطوت کا محل زمین بوس ہو گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!