اسلامک

قراق کا بیٹا بھی لٹیرا ہو گا

ملک عرب میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ پہاڑ کی ایک چوٹی پر رہتا تھا اوراس نے وہاں سے گزرنے والے قافلوں کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ وہاں کے لوگ ڈاکوؤں سے ڈرتے تھے یہاں تک کہ بادشاہ کا لشکر بھی ان کے سامنے بے بس تھا۔ کیونکہ انہوں نے جس جگہ اپنا ٹھکانہ بنایا تھا وہ پہاڑ کی ایک مضبوط چوٹی تھی۔ بادشاہ کے مشیروں نے اس کو مشورہ دیا کہ ان ڈاکوؤں کی ایذا رسانی سے لوگوں کو بچایا جائے۔ یہ گروہ اگر اسی طرح ایک لمبے عرصے تک رہا تو بہت طاقتور ہو جائے گا۔ اور اس وقت اس سے مقابلہ سخت مشکل ہو گا۔کیونکہ جو درخت ابھی زمین سے نکلا ہے اس کو فقط ایک آدمی جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے لیکن اگر ایک طویل عرصے تک اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے تو اس کی جڑ بہت مضبوطی کے ساتھ زمین میں گڑ جائے گی پھر اس کو بہت سارے لوگ مل کر بھی جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتے۔ اس مشورے کے بعد بادشاہ نے ایک شخص کو ڈاکوؤں کی سراغ رسانی پر مامور کر دیا اور مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد اس شخص نے خبر دی کہ ڈاکو کسی جگہ لوٹ مار کے لیے گئے ہیں اور ان کی پناہ گاہ خالی پڑی ہے۔
بادشاہ نے فور اچھے تجربہ کار اور جنگ آزمودہ لوگوں کو روانہ کر دیا۔ وہ سب لوگ پہاڑ کی گھاٹیوں میں جا کر چھپ گئے۔ رات کو جب ڈاکو واپس آئے تو وہ بے حد تھکے ہوئے تھے انہوں نے لوٹ کا مال ایک طرف رکھا۔ ہتھیار وغیرہ بھی بدن سے اتار کر رکھ دیئے ۔ اور کھانا وغیرہ کھا کر تھوڑی دیر میں سوگئے۔
جب رات کا ایک پہر گزر گیا تو بہادر لوگ جو پہاڑی کی گھاٹیوں میں گھات لگا کر چھپے ہوئے تھے اپنی جگہوں سے باہر آئے ۔
اور ایک ایک کر کے تمام ڈاکوؤں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے صبح کے وقت ان کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ڈاکوؤں میں ایک کم سن لڑکا بھی تھا۔ جس کی جوانی بالکل ایک تازہ پھول کی طرح تھی۔ اس کے رخسار پر داڑھی مونچھوں کے بال ابھی آنا ہی شروع ہوئے تھے۔ ایک نیک دل وزیر کو اس پر رحم آگیا۔ اس نے نہایت ادب کے ساتھ بادشاہ سے اس لڑکے کی جان بخشی کے لیے درخواست کی۔ بادشاہ کو وزیر کی بات بہت بُری لگی۔ اس نے کہا:”جس کی بنیاد بدی پر ہو وہ نیکوں کے طور طریقے قبول نہیں کرتا۔ کسی ناہل کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا گنبد پر اخروٹ رکھنے کی طرح ہے۔ برے لوگوں کی نسل کو جڑ سے ختم کر دینا زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ آگ بجھا کر چنگاری محفوظ رکھنا اور سانپ کو مار کر اس کے بچے کی حفاظت کرنا عقل مندوں کا کام نہیں ہے۔ اگر بادل سے آب حیات بھی برسے تب بھی بید کی شاخ پر پھل نہیں آئے گا۔ برے آدمی کے ساتھ وقت برباد کرنا مناسب نہیں کیونکہ نر کل سے شکر حاصل نہیں ہو گی۔ وزیر نے بادشاہ کی بہترین رائے کی تعریف کی اور کہا: “جو کچھ آپ نے فرمایاوہ بالکل صحیح ہے لیکن اگر یہ نیک لوگوں کی صحبت میں تربیت پاتا تو ان کے عادات و اطوار اس میں بھی سرایت کر جاتے اور پھر یہ بھی ان ہی جیسا ہو جاتا۔ مجھے امید ہے اب یہ اچھے لوگوں کی صحبت میں تربیت پائے گا تو یہ بھی عقل مندوں کے خصائل سے آراستہ ہو جائے گا۔ یہ ابھی بچہ ہے اس کی اپنی قوم کی عادتیں ابھی اس میں سرایت نہیں کر سکی ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے: ہر ایک بچہ (اسلامی) فطرت پر پیدا ہو تا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا لیتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر خاندان نبوت سے اپنا رشتہ منقطع کر لیا۔ اصحاب کہف کا کتا کچھ روز اچھے لوگوں کے ساتھ رہا انسان صفت بن گیا۔
جب وزیر کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے چند مصاحبوں نے بھی اس کی سفارش کی تو بادشاہ نے اس کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا اور کہا: اگرچہ یہ بات مجھے مصلحت کے خلاف معلوم ہوتی ہے لیکن میں نے تمہارے کہنے کی وجہ سے اس کی جان بخش دی ہے“۔
زال نے اپنے بیٹے رستم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دشمن کو کبھی کمزور اور بے بس نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب کسی چھوٹے سے چشمے کا پانی بڑھ جاتا ہے تو وہ اونٹ مع سامان کے بہا کر لے جاتا ہے۔
بادشاہ نے وزیر کی درخواست پر ڈاکوؤں کے نوجوان لڑکے کو اس
کے حوالے کر دیا۔ وزیر نے اس کی بہتر پرورش کا اہتمام کیا۔ ادب سکھانے والے استاد اس کی تعلیم کے لیے مقرر کیے۔ رفتہ رفتہ وہ لڑکا سلیقے سے بات کرنا اور سلیقے سے بات کا جواب دینا سیکھ گیا۔ بادشاہوں کی خد مت کے آداب بھی اس کو سکھائے گئے۔ یہاں تک کہ لوگ اس کو پسند کرنے لگے۔
وزیر ایک بار بادشاہ کے سامنے اس کی اچھی عادتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: ”عقل مندوں کی تربیت نے اس پر اثر کیا ہے اور اس کی پرانی جبلت اس سے دور ہوگئی ہے۔
بادشاہ وزیر کی بات سن کر ہنسا اور کہنے لگا: ” بھیڑیے کا بچہ چاہے انسانوں کے ساتھ رہتے رہتے بوڑھا ہو جائے آخر کار وہ بھیڑیاہی ثابت ہوگا۔
اس واقعے کو دو سال گزر گئے۔ اسی دوران وہ لڑکا محلے کے بدمعاشوں کی صحبت میں رہنے لگا اور ان سے دوستی کر لی۔ اور ایک دن موقع پا کر اس نے وزیر اور اس کے دونوں بیٹوں کو مار ڈالا اور بہت سارا مال لے کر فرار ہو گیا۔ اپنے باپ کی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر رہنے لگا اور ڈاکو بن گیا۔
بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے تاسف سے کہا:” برے لوہے سے اچھی تلوار نہیں بنائی جاسکتی۔ ناہل کو تعلیم وتربیت سے لائق نہیں بنایا جاسکتا۔ بارش کی طبیعت کی لطافت سے کسی کو انکار نہیں۔ بارش سے باغوں میں لالہ اگتے ہیں لیکن بنجر زمین میں اس سے صرف گھاس پھونس ہی پیدا ہوتی ہے۔ بروں کے ساتھ نیکی کرنا نیکوں کے ساتھ
بدی کرنا ہے“۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!