ادب

  • اپریل کی سہانی شام

    اپریل کی سہانی شام تھی۔ ہم دونوں چشمے کے بیچوں بیچ ایک گول پتھر پر بیٹھے اپنی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔ ننھی لہریں، کبھی تو اس کے ٹخنوں کو بوسہ دے کر آگے بڑھ جاتیں، اور کبھی رک کر پازیب سے اٹکھیلیاں کرنے لگتیں۔ پھسلنے کے ڈر سے اس نے میرا بازو تھام رکھا تھا۔ وہ قریب تھی، پر لگتا تھا جیسے میلوں دور ہے۔ ایسے میں ہوا کو شرارت سوجھی تو ایک سبک رفتار جھونکا ہماری طرف روانہ کر دیا۔ اسکا توازن بگڑا، اور وہ میری گود میں آ گری۔ جتنی دیر میں وہ خود کو سنبھالتی، آسمان نے سب کچھ دیکھ لیا۔ کالی گھٹائیں قہقہے لگانے لگیں، اور کچھ نے تو تصویریں بھی کھینچ لیں۔ “بہت…

    Read More
  • ستم عشق

    ستم عشق

    کیا انسان جب اس دنیا میں آیا تب بھی اتنا ہی مغرور تھا تب بھی وہ اکڑ کر چلنا چاہتا تھا اور اس قدر تکبر والے لفظوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے اور آمریت کو ترجیح دینا آگیا تھا کیا صرف تب اس کے پاس طاقت کی کمی ہوتی ہے کیا وہ پہلے سانس کے ساتھ سیکھ جاتا ہے اس کے یہ الفاظ میرے کلیجے کو چھلنی چھلنی کر رہے تھے اتنے معصوم سے چہرے کے پیچھے اس قدر درد اور تکلیف تھی میں اپنا درد جیسے بھول ہی گئی مجھے اپنی نواب سکندر سے ہونے والی بے عزتی جیسے یاد ہی نہ رہی ہو .میں ایک اور غوروفکر میں لگ گئی میری بیٹی پہلے تو ایسی نہیں تھی جب…

    Read More
  • اِندمال ہو جائے۔

    ہمیں جو ضبط کا حاصل کمال ہو جائے ہمارا عِشق بھی جنّت مِثال ہو جائے سُنا ہے تُم کو سلِیقہ ہے زخم بھرنے کا ہمارے گھاؤ کا بھی اِندمال ہو جائے ذرا سی اُس کے رویّے میں گر کمی دیکھیں طرح طرح کا ہمیں اِحتمال ہو جائے چلا تھا کھوکھلی کرنے جڑیں وطن کی جو گیا ہے مُنہ کی وہ کھا کر، دھمال ہو جائے پِھر اُس کے بعد کبھی بھی دراڑ آنے نہ دُوں بس ایک بار تعلّق بحال ہو جائے سُکونِ قلب جِسے تُم خیال کرتے ہو بہُت قرِیں ہے کہ دِل کا وبال ہو جائے کِسی کے صبر کا ایسے بھی اِمتحان نہ لو تڑپ کے رُوح اَلَم سے نِڈھال ہو جائے یہ اِختلاط ہمیں کر رہا…

    Read More
  • غزل

    غزل

    تو نے پیچھے سے جب نہ دی آواز آنکھ سے آئی دکھ بھری آواز میرے ہونے کا بس یہ مطلب ہے ان سنی اور ان کہی آواز خون پانی ہوا تو دل میں ہی زنگ سے بھر گئی نئی آواز منتظر دست آرزو کی تھی پانی میں ڈوبتی ہوئی آواز اس کی آواز تھک گئی تھی مگر میں نہیں سنتا دوسری آواز میرے گاؤں کا پانی ایسا ہے دل میں چبھتی رہی تری آواز جب مرے پاس کوئی اور نہ ہو مجھے آتی ہے تب مری آواز دکھ تو یہ ہے سنی نہیں تو نے اپنے اطراف گونجتی آواز کچے رستوں سے ہو کے آیا ہوں دھول سے اٹ گئی مری آواز اتنے زوروں سے چیخا ہے کوئی چلتے چلتے…

    Read More
  • سنہری باتیں

    سنہری باتیں

    ہر قسم کے باطل کے خلاف اکیلا لڑنا پوری دنیا کا سلطان بننے سے بہتر ہے ، ‏باطل کے ساتھ اتحاد کر کے آپ حق کے راستے پر نہیں چل سکتے۔۔ ناممکن ، ‏پوری دنیا بھی اگر خلاف ہو جائے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی ظالم کا ساتھ دیں کبھی ‏تمام جہان بھی اگر ظالم ہو جائے تو بھی ہم ظالم سے ڈرنے والے نہیں ‏حق کی راہ پر چلنے والوں کو میرا رب کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ‏اگر آپ کا دل خالص و پاکیزہ ہے تو دنیا کی کوئی شیطانی قوت آپ کا محاصرہ نہیں کر سکتی۔ ‏آپ کی زندگی سالوں، مہینوں یا دنوں میں نہیں بدلتی۔ زندگی اسی لمحے بدل جاتی ہے جس لمحے میں…

    Read More
  • برہمن میں کیا تفریق۔

    اچُھوت کوئی، کِسی برہمن میں کیا تفرِیق تُمہارے اُجلے، مِرے میلے من میں کیا تفرِیق دھکیل کر جو کرے زن پرے خصم خُود سے تو فاحشہ کے کسِیلے بدن میں کیا تفرِیق شجر میں ایسا، نہِیں جِس پہ برگ و بار کوئی رہُوں میں دشت یا صحنِ چمن میں کیا تفرِیق تُمہارا کام جفا، ہے وفا مِری فِطرت نہِیں ہے کوئی ہمارے چلن میں کیا تفرِیق؟ کمال دونوں کا مسحُور کر کے رکھ دینا تُمہاری زُلف میں، مُشکِ خُتَن میں کیا تفرِیق چمکتے شہر میں مزدُور کا کُھلے بندوں جو حق غصب کرے وِیران بَن میں کیا تفرِیق سکُون پاتا ہے مزدُور، تُم مگر بے کل سو جان جاؤ کہ ہے کالے دَھن میں کیا تفرِیق وہی چمکتے سِتارے وہی…

    Read More
  • پُھولوں کی زباں

    جانتا کوئی نہِیں آج اصُولوں کی زباں کاش آ جائے ہمیں بولنا پُھولوں کی زباں موسمِ گُل ہے کِھلے آپ کی خُوشبُو کے گُلاب بولنا آ کے ذرا پِھر سے وہ جُھولوں کی زباں یہ رویّہ بھی ہمیں شہر کے لوگو سے مِلا پُھول کے مُنہ میں رکھی آج ببُولوں کی زباں آپ نے سمجھا ہمیں غم کا تدارُک بھی کیا جانتا کون بھلا ہم سے فضُولوں کی زباں بے وجہ غرق کوئی ایک بھی اُمّت نہ ہُوئی ڈالتے پُشت پہ جب لوگ رسُولوں کی زباں ہم نے مانا کہ اُسے پِھر بھی بنے رہنا تھا کاٹتی دِل کو مگر درد شمُولوں کی زباں آج حسرت سے ہر اِک دُور نِکل بھاگے ہے کیا ہُؤا؟ بولتا ہے کیا یہ بگُولوں…

    Read More
  • غزل (ماں)

    غزل (ماں)

    اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے ماں بنا غیر کا در لگتا ہے قبر تک ساتھ چلے گا میرے غم ترا دردِ جگر لگتا ہے ماں بنا زندگی یوں لگتی ہے جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے جم گئے اشک مرے چہرے پر چہرہ گر خشک ہو تر لگتا ہے تری آغوش کہاں سے لاؤں آج بھی رات سے ڈر لگتا ہے ماں ترا لال بچھڑ کر تجھ سے اب کہاں نورِ نظر لگتا ہے شاعرساگرحیدرعباسی

    Read More
  • ذرہ متبادل

    ذرہ متبادل

    !!آہ وہ جنوری کی ٹھٹھرتی صبح !!لحاف کی گرمایش !!حی علی الفلاح !کانوں میں رس گھولتی آوازیں !سکوت اتنا کہ مر جانے کو جی چایے !دور کہیں پٹڑی پر ریل کے دوڑنے کی آواز فقط سارا عالم فیکون کی تشریح بنا ہوا اندھیری رات چھٹنے سے صبح کو بھی وجود ملا کن کی تڑپ کے ساتھ مانگنے والوں کو فیکون کا اشارہ مل رہا! دلوں کے داغ دھوئے جا رہے ہیںڈگمامگاتے ایمان لیکن پھر بھی سجدہ ریزی آہ زاریاں جاری ! کیونکہ بات تو صرف تڑپ کی ہوتی ہے اس تڑپ کو تم ہلکا نہ لینا یہ جب ا پنی پہ آ جائے تو تمھاری جان پہ بن آےء۔یہ تڑپ بھی پھر کیا تڑپ ہے جب منصور انالحق کہتے کہتے…

    Read More
  • دُھول کر ہی لِیا

    محبّتوں کو وفا کا اُصُول کر ہی لیا نوید ہو کہ یہ کارِ فضُول کر ہی لیا نجانے کون سے پاپوں کی فصل کاٹی ہے دِلوں کو زخم، سو چہروں کو دُھول کر ہی لیا گُلاب جِن کے لبوں سے چُرا کے لائیں رنگ بُرا ہو وقت کا اُن کو ببُول کر ہی لیا یہ ان کے اعلیٰ نسب کی کُھلی دلِیل رہی کہ دوستوں میں ہمارا شمُول کر ہی لیا مُقدّمہ ہے یہ کیسا کہ ختم ہوتا نہِیں جو دَھن تھا پاس سُپُردِ نقُول کر ہی لیا ہُوئے ہیں فیصلے سے ہم مگر تہہ و بالا کِیا ہے ماں نے تو ہم نے قبُول کر ہی لیا عطا تھی اُس کی سو دِل سے لگا لیا ہم نے دِیے…

    Read More
Back to top button