ادب

  • گڑیا

    گڑیا

    گڑیا یہ ان دنوں کی بات ہے جب تیس سال کی سروس کے بعد میں اپنے آبائی گھر لوٹ آیا تھا ۔ لاہور صرف میری جائے پیدںئش ہی نہیں میرا دل میری جان بھی ہے۔ میرا گھر لارنس گارڈن سے دس منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔ انگریزوں کے زمانے کے اس پارک کی شان پاکستان میں پائے جانے والے تمام پارکوں سے زیادہ ہے اور میرے دل میں اسکی محبت بھی کچھ زیادہ ہے. میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح فجر پڑھ کر میں مسجد سے ہی پارک کی طرف نکل جاتا ہوں ۔ پارک کے اندر ترت…

    Read More
  • نام اور اس کا اثر

    نام اور اس کا اثر

    نام اور اس کا اثر خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے مرد اور عورت ہونے میں اس کی کیا مصلحت کارفرما ہے ۔ہم اپنے پسندیدہ جینیاتی مادے میں ڈھل کر نہیں آتے اور نہ ہی ہمارے ماں باپ اپنی پسند کی تخلیق پر قادر ہوتے ہیں صرف خواہشات ہمارے اندر پلتی رہتی ہیں جیسے میری پیدائش سے پہلے میری والدہ کی بہت خواہش تھی کہ ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو حالانکہ میرا بھائی موجود تھا پر وہ چاہتی تھیں کہ اس کی جوڑی بن جائے اور شاید ان کی یہ خواہش اتنی شدید تھی کہ اس کے…

    Read More
  • انتقام (حصہ چہارم)

    انتقام (حصہ چہارم)

    ساس اور نند کے دبائو میں آکر زوہا اپنی چچی سے بات کرنے پر مجبور ہو گئی جب عباد کو بات کو پتہ چلا کہ فاخرہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو عباد نے صاف منع کر دیا لیکن عباد کے والدین نے رضا مندی دے دی کیونکہ وہ بھی دل سے چاہتے تھے کہ عباد بھی اب آگے بڑھ جائے کیوں کہ زوہا تو اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی تھی اور زوہا بھی یہی چاہتی تھی عباد شادی کر لے کیونکہ زوہا نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سےعباد کی زندگی برباد ہو اور وہ وہیں…

    Read More
  • شاعری: کچھ تلخ کوششیں

    لوگ ہماری زندگی کو رشک سے دیکھتے ہیں اور ہم تھک گئے محرومیوں کو چھپاتے چھپاتے کہا جاتا ہے کہ ہم بہادروقوی ہیں اور ہم تھک گئے خوف زوال سے گھبراتے گھبراتے تنز کیا جاتا ہے کہ ہمیں احساس ندامت نہیں ہے ہماری تو رنگت ہی کھو گئی زندگی بھر پچھتاتے پچھتاتے اچھے وقتوں کے انتظار میں رہی عمر رواں ہم ہار گئے دکھوں کو سہلاتے سہلاتے زندگی ہر سحر کیساتھ اک نیا موڑ لیتی ہے اور ہم تھک گئے خود کو سمجھاتے سمجھاتے یہ دنیا بنی رہی ستم گر اور ہم اکتا گئے مرہم لگاتے لگاتے کہتے ہیں وقت…

    Read More
  • پیسہ بنا وزیر اعظم

    آج کے دور میں پیسہ ایک اہم ضرورت بن چکا ہے ، اب یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پیسے کو کنٹرول کرنے کے بجائے لوگ خود پیسے کے کنٹرول میں آگئے ہیں ، پیسے نے انسانوں کو فتح کیا ہے۔ایک وقت تھا جب لوگ پیسے کے لالچی نہیں تھے۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔اس وقت لوگوں کی زندگی میں کوئی معیار نہیں تھا اور نہ ہی اتنے پیسوں کا لالچ تھا۔ماضی میں ، وہ اپنے کھیتوں یا کسی دوسرے ذرائع سے قدرتی کھانے پینے کی کی مصنوعات…

    Read More
  • نایاب ہیرا ہے آپ کے پاس قدر کریں اس کی

    جس چیز کا کوئی نعم البدل نہ ہو اور نہ ہی کہیں سے وہ چیز مل سکتی ہو۔ اور وہ چیز بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان کو اس چیز کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ چیز اس کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے۔ان بے مثل نایاب اور اپنی نعم لبدل نہ رکھنے والی چیزوں میں سے ایک سستی باپ کی ہستی ہوتی ہے۔ جس  کی ساری دنیا ساری کائنات اس کی اولاد ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔ اس کی ہاتھوں پر…

    Read More
  • موت کی دہلییز

    موت کی دہلییز

    موت کی دہلیز (بڑھاپا) تحریر :انورملک دھندلاتی آنکھوں کا ساحل , ساحل پہ ڈوبتی تحریریں , تحریروں سے مٹتے الفاظ, لفظوں کی ڈبڈباتی سانسیں, سانسوں کی لرزشیں , لرزشوں کی اساس پہ لڑکھڑاتی ٹانگیں, ٹانگوں کی ناتوانیاں , ناتواں ستونوں پہ بدن کی کوہِ گرانیاں , بوجھ ہستی سے جھکتی گردنیں , گردن پہ جھولتے سر, سروں کے صحرا , صحراؤں کی وحشتیں , وحشتوں کے سراب, سرابوں کے فریب, فریبوں میں الجھی زلفیں, زلفوں میں چمکتی چاندیاں , چاندی کی سفیدیاں, سفیدیوں میں رنگے چند بالوں کے تار , تاروں کی شکستگیاں, شکستہ حالوں کی بےنوائیاں , بے نواؤں…

    Read More
  • اقوالِ زریں

    اقوالِ زریں

    زندگی کے بارے میں اقوال زندگی یادوں کا سیلاب ہے جو فراموشی کے سمندر میں بہہ رہا ہے۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے ، یہ ثابت شدہ حقیقت ہے۔ باشعور ذہن اس خیال کا احترام کرنے کے قابل ہے ، چاہے وہ اس پر یقین نہ کرے۔ انسان میں منفی نفس وہ ہے جو غصہ کرتا ہے ، انتقام لیتا ہے اور سزا دیتا ہے ، جبکہ انسان کی اصل فطرت پاکیزگی ، نفس کی برداشت ، سکون اور دوسروں کے ساتھ رواداری ہے۔ ہر لمحے کو اس طرح جیو جیسے یہ آپ کی زندگی کا آخری لمحہ ہو…

    Read More
  • سوہنی دھرتی قسط نمبر 1

    روہان تمہاری آمی کو فون آیا ہاں آرہا ہوں- امی جی اگر میں سرحد پر بھی ہوا تو یقیناً آپ نے وہاں بھی فون گھما لینا ہے- اچھا جی جب خود باپ بنو گے تو پوچھوں گی – ارے آمی جی باپ تو تب بنوں گا نہ جب آپ میرے بارے میں کچھ سوچیں گی- اپنی بھتیجی کے ہاتھ پیلے کریں تو کچھ بنے گا نا- بڑے بے شرم ہو ماں سے کوئی ایسی بات کرتا ہے -تو اور کیا؟ سال بھر ہوگیا ہمارے نکاح کو اور آپ ہیں بس ! میرا تو بس چلتا تو سال پہلے ہی رخصت…

    Read More
  • بے وفا

    بے وفا

    بے وفا زرد موسم تھا اج ۔ان کے دل پر بھی خزاں کی زردی سی چھائی تھی ۔اجڑے چمن میں بھی جاتی بہار کے آثار نمایاں تھے ۔۔چاۓ کا آخری گھونٹ بھر کے کپ سائیڈ پر رکھا اور اندر جانے کے لیے قدم بڑھا ے ۔۔بی بی اج کیا پکانا ھے ۔۔کچھ بھی بنا لو بوا جی ۔جو آپ کا دل کرے ۔اچھا بی بی جان ۔آپ چل کر آرام کیجے ۔فجر سے اٹھی ہوئی ہیں ۔۔۔جی بوا ۔ے شہر بانو بیگم تھیں ۔بیرسٹر سلطان کی وائف جو بہت نامور وکیل تھے ۔ بڑے بڑے کیس لڑے اور جیتے ۔ہمیشہ…

    Read More
Back to top button
info@newzflex.com-اگر آپ اپنے پسندیدہ موضوع کو ویڈیو کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پسند سے آگاہ کرنے کیلیے اس ایڈریس پر ای میل کیجیےLike & Subscribe the Newz_Flex Channel
error: Content is protected !!