ادب

تمہاری دنیا

آج ہم چھوڑ کے جاتے ہیں تُمہاری دُنیا وار دی ہم نے فقط عِشق پہ ساری دُنیا قہقہے آنکھ میں نم اور بڑھا دیتے ہیں دِل میں بستی ہے کوئی درد کی ماری دُنیا کھینچ لیتی ہے بجا بات یہ اپنی جانِب ہم نے شِیشے میں مگر اپنے اُتاری دُنیا دُنیا والوں کی نِگاہوں میں اکیلے تھے مگر خُود میں آباد رکھی ہم نے ہماری دُنیا کون کہتا ہے ابھی عِشق میں دم خم نہ رہا دیکھ لو پاؤں پٹختی ہے بِچاری دُنیا لوگ مانگے پہ یہاں اپنا گُزارا سمجھیں مانگ لیتے ہیں چلو ہم بھی اُدھاری دُنیا خُود غرَض ہم بھی کوئی کم تو نہِیں تھے لیکِن صِرف مطلب کی یہاں کرتی ہے یاری، دُنیا مان لو من کی…

Read More

سفر نہیں کرتا

اِسی لِیئے کوئی جادُو اثر نہِیں کرتا گُمان دِل میں مِرے دوست گھر نہِیں کرتا جُھکا ہی رہتا ہے گشتی پہ اپنے شام و سحر پِسر کو بولتا ہوں کام کر، نہِیں کرتا فقِیر جان کے محبُوب پیار بِھیک میں دے میں اپنے آپ کو یُوں در بدر نہِیں کرتا ہُؤا ہے یُوں بھی کہ حالات خُود کُشی کے تھے اِرادہ کر کے چلا بھی، مگر نہِیں کرتا کڑے مقام پہ جُوں لوگ رُخ بدلتے ہیں دُعا قُبول خُدا بھی اگر نہِیں کرتا؟ ہُؤا جُنوں سے عقِیدت کے سُرخرو ورنہ معارکہ یہ محبّت کا سر نہِیں کرتا پڑا جو وقت گِھسٹنا پڑے گا اُس کو بھی وہ ایک شخص جو پیدل سفر نہِیں کرتا پتہ نہ تھا کہ کٹھن مرحلے…

Read More

دہاڑی رکھتا ہے۔

وہ اپنے کاندھے پہ اب تک کُہاڑی رکھتا ہے مگر وہ دوست ہی سارے کِھلاڑی رکھتا ہے بس اِتنی بات پہ بِیوی خفا ہے شوہر سے کہ ماں کے ہاتھ پہ لا کر دِہاڑی رکھتا ہے ابھی تو قبر بھی محفُوظ نا رہی، اِنساں کِسی کو دفن جو کرتا ہے، جھاڑی رکھتا ہے ہزار تِیس ہے اُس کی پگھار جانتا ہُوں کمال ہے کہ وہ اِس میں بھی گاڑی رکھتا ہے اُتارا شِیشے میں اُس نے، فریب دے کے مُجھے وُہ ایک شخص جو خُود کو اناڑی رکھتا ہے بنا لِیا ہے جو کچّا مکاں کِسی نے یہاں (وہ جھونپڑا بھی اگر ہے تو) ماڑی رکھتا ہے کبھی رشِید کے من کو ٹٹول کر دیکھو یہ دِل کا موم ہے،…

Read More

دھوکا

ذکیہ پانی پلا دے راحت بیگم چارپائی پر بیٹھے بیٹھے چیخیں آرہی ہوں اماں… شائستہ جو اسٹول پر چڑھی برابر پڑوسن کہ گھر میں تانکا جھانکی میں لگی ہوئی تھی ساس کی آواز پر بد مزہ ہوکر جھنجھلا کر بولی۔۔ لو اماں وہ پانی کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولی۔”کتنی بار منع کیا ہے یوں دوسروں کے گھروں میں نہیں جھانکتے اپنا گھر کا تو تجھے ہوش ہوتا نہیں بچے گلی میں ایسے ہی پھرتے رہتے ہیں بس تجھے سارے محلے کی فکر ہوتی ہے”راحت بہو کو گھورتے ہوۓ بولیں – اندروں شہر میں رہائش پذیر راحت جو اپنے اکلوتے بیٹے ارشد کے ساتھ رہتی تھیں ،اپنے بیٹے ارشد کا بیاہ انہوں نے اپنے ہی محلے کی رہنے والی شائستہ سے…

Read More

سرد مہری بے سبب

کیوں روا رکھتے ہو مُجھ سے سرد مہری بے سبب بِیچ میں لانا پڑے تھانہ کچہری بے سبب میں نے اُس رُخ سے اِسے جِتنا الگ رکھا عبث آنکھ تھی گُستاخ میری جا کے ٹھہری بے سبب ناں کِسی پائل کی چھن چھن، ناں کہِیں دستک کوئی کر رہی ہے وار گہرے رات گہری بے سبب اِس کے بھاگوں میں عُروسی پُھول لِکھے ہی نہ تھے جاگتی رہتی ہے شب میں اِک مسہری بے سبب پیڑ سے رِشتہ ہے اِس کا، اور زمِیں کے ساتھ بھی دے رہی پِھر بھی دُہائی ہے گلہری بے سبب اپنے حق کے واسطے سب ہی وہاں موجُود تھے آ گیا زد میں مگر اشرف سلہری بے سبب سچ کو سُننے کا بھلا کب حوصلہ…

Read More

اک سراب جیسے ہو

ایک چہرہ، (گلاب جیسے ہو) ابر میں ماہتاب جیسے ہو دِل کو ایسے سزائیں دیتا ہے روز، روزِ حِساب جیسے ہو میں ہُؤا اُس کے تابعِ فرماں وہ مِرا اِنتخاب جیسے ہو ایک صُورت گُماں میں لِپٹی ہُوئی دشت میں اِک سراب جیسے ہو ایسے دِن رات پڑھتا رہتا ہُوں اُس کا چہرہ کِتاب جیسے ہو وہ مِرے نام کی ہُؤا پہچاں میرا لُبِّ لُباب جیسے ہو یاد حسرتؔ کِسی کی پھیکی پڑی کوئی دُھندلا سا خواب جیسے ہو رشِید حسرتؔ

Read More

ذُو قافیتین

آپ نے جو کی ہے وُہ ہے شاعری بھی شاعری دِل لگی کی دِل لگی، دِل کی لگی کی شاعری سِیدھی سادھی زِندگی تھی لت پڑی ایسی ہمیں مے سے ہم نے کر لیا پہلُو تہی، پِی شاعری ہم نے اِک چھیدوں بھرا اُن کو دِیا تھا لوتھڑا دِل اُنہوں نے کیا دِیا، گویا کہ دی تھی شاعری ہم تو حضرت عِشق کے در کے گدا تھے، کُچھ نہ تھے چل پڑی پِیچھے ہمارے آپ بی بی شاعری نِیم شب دِل کے درِیچے پر ہُوئی دستک کوئی ہم نے پُوچھا کون؟ بولی وہ کہ “جی جی” شاعری کِس قدر دُشوار رستوں سے گُزرنا پڑ گیا کر سکے ہرگز نہ ہم تو مُصحفیؔ سی شاعری ہم نے اِس کو زِندگی کا…

Read More

کہاں سے ہو گی

بال آنکھوں میں ہے، مِیزان کہاں سے ہو گی کھرے کھوٹے کی ہی پہچان کہاں سے ہو گی جِس کی بُنیاد فقط جُھوٹ سہارے پہ رکھی چِیز تسکِین کا سامان کہاں سے ہو گی ماپنے کا ہی نہِیں خُود کو میسّر آلہ اور کی پِھر ہمیں پہچان کہاں سے ہو گی خُود پرستی ہو جہاں، لوگ مُنافع دیکھیں زِندگی ایسے میں آسان کہاں سے ہوگی راہ تکتے ہُوئے اِک عُمر گُزاری ہم نے دُور اِک ہستی ہے مہمان کہاں سے ہو گی آگہی ہم نے اِسے کاہے کو تعبِیر کیا کج روی باعثِ عِرفان کہاں سے ہو گی تُم نے بیکار سمجھ لی ہے حیاتی حسرتؔ اِتنی بے ربط مِری جان کہاں سے ہو گی رشِید حسرتؔ

Read More

صِرف راست گوئی تھی

جو رات تیرے لیئے قُمقُموں سموئی تھی وہ رات میں نے فقط آنسُوؤں سے دھوئی تھی رفِیق چھوڑ گئے ایک ایک کر کے مُجھے نہِیں تھا جُرم کوئی، صِرف راست گوئی تھی وہِیں پہ روتے کھڑے رہ گئے مِرے ارماں خُود اپنے ہاتھ سے کشتی جہاں ڈبوئی تھی جہاں سے آج چُنِیں سِیپِیاں مسرّت کی وہاں پہ فصل کبھی آنسُوؤں کی بوئی تھی شبِ فراق تُجھے کیا خبر، کوئی وحشت تمام رات مِرے بازُووں میں سوئی تھی تُمہارے بعد تو سکتہ ہُؤا ہے یُوں طاری سُوی سی آنکھ میں جیسے کوئی چُبھوئی تھی رشِیدؔ فرق نہِیں شعر میں ہے دم کہ نہِیں مہک تھی یار کی زُلفوں کی، عقل کھوئی تھی رشِید حسرتؔ

Read More

کہکشاں میں ملی

ایک تِتلی مُجھے گُلستاں میں مِلی ظُلم کی اِنتہا داستاں میں مِلی غُسل دو جو نہ ہاتھوں سے اپنے کیے زِندگانی فقط درمیاں میں مِلی بعد مُدّت اذاں اِک اذانوں میں تھی رُوح سی اِک بِلالی اذاں میں مِلی کل کہا اور تھا، آج کُچھ اور ہے کیسی تفرِیق اُس کے بیاں میں مِلی پر کٹا اِک پرِندہ تھا قیدی کہِیں اِک دبی چِیخ سی بے زُباں میں مِلی میں سِتاروں میں قِسمت کو ڈُھونڈا کرُوں بے کلی ہی مگر کَہکشاں میں مِلی اُس کے چہرے پہ ہیبت نمایاں رہی اور ٹھنڈک سی آتِش فِشاں میں مِلی جیسی صُورت سے اُن کو نوازا گیا کب کِسی کو زمِین و زماں میں مِلی میں زمِیں پہ محبّت کی سِیڑھی بنا داد…

Read More
Back to top button
error: Content is protected !!