افسانے

  • اپریل کی سہانی شام

    اپریل کی سہانی شام تھی۔ ہم دونوں چشمے کے بیچوں بیچ ایک گول پتھر پر بیٹھے اپنی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔ ننھی لہریں، کبھی تو اس کے ٹخنوں کو بوسہ دے کر آگے بڑھ جاتیں، اور کبھی رک کر پازیب سے اٹکھیلیاں کرنے لگتیں۔ پھسلنے کے ڈر سے اس نے میرا بازو تھام رکھا تھا۔ وہ قریب تھی، پر لگتا تھا جیسے میلوں دور ہے۔ ایسے میں ہوا کو شرارت سوجھی تو ایک سبک رفتار جھونکا ہماری طرف روانہ کر دیا۔ اسکا توازن بگڑا، اور وہ میری گود میں آ گری۔ جتنی دیر میں وہ خود کو سنبھالتی، آسمان نے سب کچھ دیکھ لیا۔ کالی گھٹائیں قہقہے لگانے لگیں، اور کچھ نے تو تصویریں بھی کھینچ لیں۔ “بہت…

    Read More
  • ستم عشق

    ستم عشق

    کیا انسان جب اس دنیا میں آیا تب بھی اتنا ہی مغرور تھا تب بھی وہ اکڑ کر چلنا چاہتا تھا اور اس قدر تکبر والے لفظوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے اور آمریت کو ترجیح دینا آگیا تھا کیا صرف تب اس کے پاس طاقت کی کمی ہوتی ہے کیا وہ پہلے سانس کے ساتھ سیکھ جاتا ہے اس کے یہ الفاظ میرے کلیجے کو چھلنی چھلنی کر رہے تھے اتنے معصوم سے چہرے کے پیچھے اس قدر درد اور تکلیف تھی میں اپنا درد جیسے بھول ہی گئی مجھے اپنی نواب سکندر سے ہونے والی بے عزتی جیسے یاد ہی نہ رہی ہو .میں ایک اور غوروفکر میں لگ گئی میری بیٹی پہلے تو ایسی نہیں تھی جب…

    Read More
  • ذرہ متبادل

    ذرہ متبادل

    !!آہ وہ جنوری کی ٹھٹھرتی صبح !!لحاف کی گرمایش !!حی علی الفلاح !کانوں میں رس گھولتی آوازیں !سکوت اتنا کہ مر جانے کو جی چایے !دور کہیں پٹڑی پر ریل کے دوڑنے کی آواز فقط سارا عالم فیکون کی تشریح بنا ہوا اندھیری رات چھٹنے سے صبح کو بھی وجود ملا کن کی تڑپ کے ساتھ مانگنے والوں کو فیکون کا اشارہ مل رہا! دلوں کے داغ دھوئے جا رہے ہیںڈگمامگاتے ایمان لیکن پھر بھی سجدہ ریزی آہ زاریاں جاری ! کیونکہ بات تو صرف تڑپ کی ہوتی ہے اس تڑپ کو تم ہلکا نہ لینا یہ جب ا پنی پہ آ جائے تو تمھاری جان پہ بن آےء۔یہ تڑپ بھی پھر کیا تڑپ ہے جب منصور انالحق کہتے کہتے…

    Read More
  • تقدیر کے فیصلے

    تقدیر کے فیصلے

    آج وہ بہت خوش تھا کیونکہ آج وہ دن تھا جس کا اس کو پانچ سال سے انتظار تھا۔کیونکہ آج اس کی شادی تھی وہ بھی اس سے جس سے وہ پیار کرتا ہے۔دوسری طرف بھی یہی صورت حال تھی کیونکہ دونوں بہت خوش تھے کہ آج وہ آخر اک دوسرے کے ہو رہے ہیں ہمیشہ کے لیئے لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ تقدیر ان کے ساتھ کیا کرنے والی ہے۔ یہ کہانی میرے دوست کی ہے جس کو میں زاتی طور پر جانتا ہوں۔ وہ اک پرائویٹ جاب کرتا تھا اور جس سے وہ پیار کرتا تھا وہ کراچی کی رہنے والی تھی اور یہ راولپنڈی۔دونوں کی بات فیس بک سے شروع ہوئی تھی اور آہستہ دونوں میں…

    Read More
  • روشن کل

    روشن کل

    روشن کل گھر کا دروازہ بند کرکے میں گلی میں نکل آیا مگر الجھنوں اور پریشانیوں کے جو دروازے میرے اندر کھلے تھے وہ بند نا ہو سکے میں نے اپنی زندگی میں ہر مشکل کا سامنا صبر اور سکون سے کیا تھا لیکن ساٹھ کو پہنچنے سے پہلے ہی یا تو میں سٹھیاگیا تھا یا پھر یہ دور ہی پاگل کر دینے والا تھا نفسا نفسی کے اس دور میں بقا کی جنگ لڑنا مشکل ترین ہو گیا تھا ۔ گھر کا کرایہ کچن کا خرچہ بچوں کی فیسیں عید تہوارلینا دینا آخر انسان کہاں کہاں کس کس چیز کو روئے ۔ کبھی کبھی مجھے اپنا آپ اس گدھے جیسا لگتا تھا جس سے بندھی گاڑی پر بوجھ مسلسل…

    Read More
  • حب رحمٰن

    حب رحمٰن

    کلامِ مختصر کروں تو اب گزارہ نہیں ہوتا جس محفل میں اُس ہستی کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ بے چینی کا اک عجب ہے کیف طاری ہوتا جس ذکر میں میرے ذکرِ خدا نہیں ہوتا لکھتے لکھتے قلم رک گیا شاید آنکھوں کے موتیوں نے اس کی نظر سے سب کچھ مستور کر دیا شاید دل کے بوجھ نے اس کے الفاظوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ وہ بہت کچھ لکھنا چاہتی تھی مگر اس احساس کو بیان کرنا لفظوں میں شاید نہ ممکن تھا عینا کو معلوم تھا کہ اس احساس سے بڑھ کر کوٸی چیز اس کو خوش نہیں کر سکتی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ کچھ گناہ اس احساس کو دور کر دیتے ہیں لیکن…

    Read More
  • آئینہ

    آئینہ

    آئینہ میٹنگ ختم ہوتے ہی میں اس شاندار بلڈنگ سے باہر آ گئی جو دنیا کی ایک مشہور ترین کمپنی کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔ سوئیٹزر لینڈ میں واقع یہ شہر ویوے میری جائے پیدائش ہے زندگی کے پینتالیس سال میں نے یہیں گزارے کیونکہ مجھے اس کا حسن اور سکون پسند ہے میری ہر شام یہاں جھیل کے کنارے گزرتی ہے آج بھی میں اپنی مخصوص جگہ آ بیٹھی تھی لیکن آج میری توجہ جھیل کے نیلگوں پانی اور اس میں تیرتی رنگ برنگی بوٹس کی طرف نہیں تھی ۔ میرے ذہن میں ابھی بھی کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کی میٹنگ چل رہی تھی جس میں دس سال بعد ایک بار پھر مجھے پاکستان بطور کنٹری مینیجر بھیجے جانے…

    Read More
  • خوں آشام

    خوں آشام

    خوں آشام آج پھر رجو کی کمبختی آئی تھی ۔ شاید کوئی برتن اس سے ٹوٹ گیا تھا تبھی اسکی بھابھی اسے صلواتیں سنا رہی تھی ۔ میں چینی کے پیالے میں گدلی سی رنگت والی چائے میں گول پاپے ڈبو ڈبو کر کھاتا رہا ۔ میرے لیے یہ آئے دن کے معمول کی بات تھی ۔ سامنے کمرے کے دروازے سے جھلنگا سی چارپائی پر اماں سوتی نظر آ رہی تھی ۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کا داہناہاتھ کالے سفید مٹیالے بالوں میں جاتا ، رینگتاپھر وہ چٹکی میں دبا کر کچھ نکالتی اور زمین پر چھوڑ دیتی ۔ میرے دل کو خیال کی ایک لہر نے چھوا ” کیا اب سوتے میں بھی “. یہ خیال نہیں…

    Read More
  • ڈائری کا ایک ورق

    ڈائری کا ایک ورق

    ڈائری کا ایک ورق رات اللہ تعالی سے دعا مانگ کر سوئی تھی کہ تہجد کے لئے آنکھ کھل جائے اور اللہ تعالی نے دعا قبول کر لی۔ جب سے بڑی بہن کی طبیعت خراب ہوئی ہے ایک بے چینی سی ہر وقت دل کو لگی رہتی ہے۔نہ جانے کیوں یہ احساس دل کو جکڑنے لگا ہے کہ وقت کی ریت ہاتھوں سے تیزی سے پھسلتی جارہی ہے۔ اپنوں سے بچھڑنے کے لمحے اب قریب سے قریب تر آتے جا رہے ہیں ۔ فجر کے بعد زندگی کے معمولات روز کی طرح جاری رہے میاں جی قرآن پڑھتے رہے اور میں زینب کو سکول بھیجنے کی تیاری میں لگی رہی ۔ناجانے یہ بچے بڑے ہوکر بھی بچہ ہی کیوں بنا…

    Read More
  • بھائیوں کے درمیان دراڑ

    بھائیوں کے درمیان دراڑ ” افسانہ مشایم عباس سرخ اینٹوں سے بنی اس سنہری دیوا ر پر نظریں جمائے وہ ایک عمیق سوچ میں ڈوبا حجرے کی آہنی دیواروں کے اس پار بجتی گھنٹیوں کے شور سے بالکل بے خبر تھا ۔۔۔ ” سبطین قعقاع ” بنو قعقاع قلعے کا اکلوتا مالک جس کے ایک اشارے پر بنو قعقاع کا ہر فرد حکم کی تعمیل کرنے آموجود ہوتا ، جسکی اجازت کے بناء کسی ذی روح کو پر مارنے کی اجازت نہ تھی ۔۔ بے شمار خزانوں کی کنجیوں پر دسترس رکھنے والا ،، سونے چاندی کی بو جسکے نتھنوں میں رچ بس کر گویا عادی ہوگئی تھی مگر بنو قعقاع کے اس مالک کی زندگی میں ایک کسک تھی…

    Read More
Back to top button