افسانے

دھوکا

ذکیہ پانی پلا دے راحت بیگم چارپائی پر بیٹھے بیٹھے چیخیں آرہی ہوں اماں… شائستہ جو اسٹول پر چڑھی برابر پڑوسن کہ گھر میں تانکا جھانکی میں لگی ہوئی تھی ساس کی آواز پر بد مزہ ہوکر جھنجھلا کر بولی۔۔ لو اماں وہ پانی کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولی۔”کتنی بار منع کیا ہے یوں دوسروں کے گھروں میں نہیں جھانکتے اپنا گھر کا تو تجھے ہوش ہوتا نہیں بچے گلی میں ایسے ہی پھرتے رہتے ہیں بس تجھے سارے محلے کی فکر ہوتی ہے”راحت بہو کو گھورتے ہوۓ بولیں – اندروں شہر میں رہائش پذیر راحت جو اپنے اکلوتے بیٹے ارشد کے ساتھ رہتی تھیں ،اپنے بیٹے ارشد کا بیاہ انہوں نے اپنے ہی محلے کی رہنے والی شائستہ سے…

Read More

انصاف

واجدعلی جس کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا. نسل در نسل سیاست کے میدان سے کوئی نہ کوئی وابستہ ضرور رہا. جن میں واجد علی کا شمار بھی ہوتا تھا.عالقے کا ایم پی اے ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتا طاقت کا نشہ اور پیسے کی ہوس نے اس کے ضمیر کو مردہ کر دیا تھا. “سکندر آج کا کام پر نہیں نہیں جائیں گے؟.”فیروزہ نے اپنے شوہر سکندر سے پوچھا.واجد علی کے پاس بطور ڈرائیور کام کرتا تھا. “سکندر نے درد سےکراہتے ہوئے کہا. ” جاؤں گا تو گھر کا خرچہ چلے گا.” ” فیروزہ بیگم!” “میں اس لیے کہہ رہی ہوں اپنی حالت دیکھو آج چھٹی کر لو کل چلے جانا.” “نہیں…

Read More

ان طبیبوں کا علاج کون کرے گا

“حافظہ نورافشاں”   یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے پاس نہ کوئی نوکری تھی اور نہ ہی کوئی کاروبار تھا ۔صرف میرے شوہر کی نوکری سے گھر کا تمام خرچہ چل رہا تھا ۔ میری چند دنوں سے آہستہ آہستہ صحت بگڑ رہی تھی۔ایسا میرے ساتھ چار سال سے ہر رمضان المبارک میںں ہورہا تھا اور گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا وہ بھی بیماری کے ساتھ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ عطائی ڈاکٹر سے میں علاج کرواتی نہیں اور ایم بی بی ایس ہمارے گائوں میں دستیاب نہیں اور میں ایم بی بی ایس سے علاج کروانے کا خرچہ بھی برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ۔عید بھی آنے والی تھی اور ہزاروں خرچے سر پر منڈلا رہے…

Read More

رشتےکیسے سوکھ جاتے ہیں ۔

میری بیوی نے کچھ دنوں پہلے گھر کی چھت پر کچھ گملے رکھوا دیے ۔گزشتہ دنوں میں چھت پر گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بہت گملوں میں پھول کھل گئے ہیں، لیموں کے پودے میں دو لیموں بھی لٹکے ہوئے ہیں اور دو چار ہری مرچ بھی لٹکی ہوئی نظر آئیں۔ میں نے دیکھا کہ گزشتہ ہفتے اس نے بانس کا جو پودا گملے میں لگایا تھا، اس گملے کو گھسیٹ کر دوسرے گملے کے پاس کر رہی تھی۔ میں نے کہا تم اس بھاری گملے کو کیوں گھسیٹ رہی ہو؟ بیوی نے مجھ سے کہا کہ یہاں یہ بانس کا پودا سوکھ رہا ہے، اسے کھسکا کر اس پودے کے پاس کر دیتے ہیں۔ میں…

Read More

شہید کون؟

شاہینوں کے شہر سرگودھا میں فیصل آباد روڈ پر سرگودھا میڈیکل کالج کے بالکل سامنے چند باسیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں اوعوانا آباد ہے۔اس گاؤں کی خاص وجہ اس میں موجود ہر گھرانے کا ماشااللہ ایک بچہ حافظ قرآن ہے۔گاوں کے رواج کے مطابق اللہ یار کا بھی ایک بیٹا شہر کے کسی مدرسے میں قرآن حفظ کر رہا تھا اور دوسرا والدین کی امنگوں کو پورا کرنے کیلیے آرمی میں زیر تربیت تھا۔دونوں بچے اپنے والدین کی حافظ قرآن اور فوجی آفیسر کی خواہشات پوری کرنے کیلیے گھر سے دور ہاسٹل میں رہ رہے تھے۔ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا تھا اور دونوں بچے اپنے منازل کی طرف رواں تھے ۔ جہاں دونوں کی جسمانی نشوونما…

Read More

سوچ ہو تو ایسی

شاہ جہاں برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا پانچواں بادشاہ تھا۔شاہ جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنی بیوی ممتاز بیگم سے بے پناہ محبت کرتا تھا اس لیے اکثر سفر اور جنگی محاذ پر بھی اسے ساتھ رکھتا تھا۔ممتاز بیگم مغلیہ سلطنت میں زیادہ بچوں کی پیدائش کی وجہ سے کافی مشہور تھیں۔ممتاز بیگم کے چودوے بچے کی پیدائش اس وقت ہوئی جب وہ اپنے خاوند شاہ جہاں کے ساتھ دربار سے دور سفر میں تھیں۔کہا جاتا ہے کہ اس بچے کی پیدائش کے دوران ممتاز بیگم دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بیوی کی جدائی کے دکھ میں شاہ جہاں کی ساری داڑھی سفید ہوگئی تھی۔شاہ جہاں اپنی بیوی سے…

Read More

اپریل کی سہانی شام

اپریل کی سہانی شام تھی۔ ہم دونوں چشمے کے بیچوں بیچ ایک گول پتھر پر بیٹھے اپنی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔ ننھی لہریں، کبھی تو اس کے ٹخنوں کو بوسہ دے کر آگے بڑھ جاتیں، اور کبھی رک کر پازیب سے اٹکھیلیاں کرنے لگتیں۔ پھسلنے کے ڈر سے اس نے میرا بازو تھام رکھا تھا۔ وہ قریب تھی، پر لگتا تھا جیسے میلوں دور ہے۔ ایسے میں ہوا کو شرارت سوجھی تو ایک سبک رفتار جھونکا ہماری طرف روانہ کر دیا۔ اسکا توازن بگڑا، اور وہ میری گود میں آ گری۔ جتنی دیر میں وہ خود کو سنبھالتی، آسمان نے سب کچھ دیکھ لیا۔ کالی گھٹائیں قہقہے لگانے لگیں، اور کچھ نے تو تصویریں بھی کھینچ لیں۔ “بہت…

Read More

ستم عشق

کیا انسان جب اس دنیا میں آیا تب بھی اتنا ہی مغرور تھا تب بھی وہ اکڑ کر چلنا چاہتا تھا اور اس قدر تکبر والے لفظوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے اور آمریت کو ترجیح دینا آگیا تھا کیا صرف تب اس کے پاس طاقت کی کمی ہوتی ہے کیا وہ پہلے سانس کے ساتھ سیکھ جاتا ہے اس کے یہ الفاظ میرے کلیجے کو چھلنی چھلنی کر رہے تھے اتنے معصوم سے چہرے کے پیچھے اس قدر درد اور تکلیف تھی میں اپنا درد جیسے بھول ہی گئی مجھے اپنی نواب سکندر سے ہونے والی بے عزتی جیسے یاد ہی نہ رہی ہو .میں ایک اور غوروفکر میں لگ گئی میری بیٹی پہلے تو ایسی نہیں تھی جب…

Read More

ذرہ متبادل

!!آہ وہ جنوری کی ٹھٹھرتی صبح !!لحاف کی گرمایش !!حی علی الفلاح !کانوں میں رس گھولتی آوازیں !سکوت اتنا کہ مر جانے کو جی چایے !دور کہیں پٹڑی پر ریل کے دوڑنے کی آواز فقط سارا عالم فیکون کی تشریح بنا ہوا اندھیری رات چھٹنے سے صبح کو بھی وجود ملا کن کی تڑپ کے ساتھ مانگنے والوں کو فیکون کا اشارہ مل رہا! دلوں کے داغ دھوئے جا رہے ہیںڈگمامگاتے ایمان لیکن پھر بھی سجدہ ریزی آہ زاریاں جاری ! کیونکہ بات تو صرف تڑپ کی ہوتی ہے اس تڑپ کو تم ہلکا نہ لینا یہ جب ا پنی پہ آ جائے تو تمھاری جان پہ بن آےء۔یہ تڑپ بھی پھر کیا تڑپ ہے جب منصور انالحق کہتے کہتے…

Read More

تقدیر کے فیصلے

آج وہ بہت خوش تھا کیونکہ آج وہ دن تھا جس کا اس کو پانچ سال سے انتظار تھا۔کیونکہ آج اس کی شادی تھی وہ بھی اس سے جس سے وہ پیار کرتا ہے۔دوسری طرف بھی یہی صورت حال تھی کیونکہ دونوں بہت خوش تھے کہ آج وہ آخر اک دوسرے کے ہو رہے ہیں ہمیشہ کے لیئے لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ تقدیر ان کے ساتھ کیا کرنے والی ہے۔ یہ کہانی میرے دوست کی ہے جس کو میں زاتی طور پر جانتا ہوں۔ وہ اک پرائویٹ جاب کرتا تھا اور جس سے وہ پیار کرتا تھا وہ کراچی کی رہنے والی تھی اور یہ راولپنڈی۔دونوں کی بات فیس بک سے شروع ہوئی تھی اور آہستہ دونوں میں…

Read More
Back to top button
error: Content is protected !!